بنگلورو: ملک کی سب سے بڑی ایجوکیشن ٹیکنالوجی کمپنی ایجوٹیک بائجوز کمپنی نے بنگلور میں اپنے سب سے بڑے دفاتر میں سے ایک کو مکمل طور پر خالی کر دیا ہے۔ منی کنٹرول ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ کمپنی نے یہ فیصلہ اخراجات میں کمی اور سرمائے کے بہاؤ کو بڑھانے کے لیے کیا ہے۔بائجوز نے بنگلور کے مضافات میں بروک فیلڈ کے کلیانی ٹیک پارک میں اپنا 58 .5لاکھ مربع فٹ دفتر بند کر دیا۔ بائیجس نے ملازمین کو مشورہ دیا ہے کہ و ہ ورک فرم ہوم کا انتخاب کریں اور ملک کے دیگر دفاتر سے کام کریںاسکے علاوقہ با ئجوس نے بنگلور کے پریسٹیج ٹیک پارک میں اپنے نو منزلہ دفتر کی دو منزلیں بھی چھوڑ دی ہیں۔بائیجس کے پاس پورے ہندوستان میں 30 لاکھ مربع فٹ دفتری جگہ ہے۔وہیں دوسری جانب بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بائیجوز کبھی دنیا کے سب سے قابل قدر ایجوکیشن ٹیکنالوجی سٹارٹ اپس میں شمار ہوتا تھا اور یہ کووڈ 19 کی وبا کے دوران سرمایہ کاروں کو انتہائی عزیز ہوا کرتا۔ لیکن اب حالیہ مہینوں کے دوران اس کی قدرو قیمت میں ڈرامائی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اس کے آپریشن کو دھچکہ پہنچا ہے جس کی وجہ سے اسے مالیاتی نقصان بھی ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ دھچکہ انڈیا میں سٹارٹ اپس کی کانٹے کی دوڑ میں ضروری اصلاح کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ایک آزاد کارپوریٹ گورنینس ریسرچ اور ایڈوائزری فرم کے سربراہ شری رام سبرامنیم کہتے ہیں کہ ’بائیجو ایک کمپنی ہے جس نے بہت جلد اور بہت تیزی سے ترقی کی ہے۔سنہ 2011 میں قائم ہونے والی کمپنی بائیجو نے سنہ 2015 میں اپنی سیکھنے کی ایپ شروع کی اور تین سال کے اندر ہی سنہ 2018 تک اس کے ڈیڑھ کروڑ سبسکرائبرز بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایک بڑی کمپنی بن گئی جس کی مالیت ایک ارب ڈالر لگائی گئی۔کووڈ 19 کی وبا کے دوران اس میں کافی حد تک مزید توسیع ہوئی کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے طلبا نے آن لائن کلاسز کا رخ کیا۔ لیکن سنہ 2021 میں اس نے 32 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر کے نقصان کا اعلان کیا جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 17 گنا زیادہ تھا۔اس کے بعد سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ اس بڑی کمپنی غیر معمولی گراوٹ شروع ہو گئی اور گذشتہ سال اس کی مالیت جہاں 22 ارب ڈالر تھی وہیں اس کمپنی میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والی اور شیئر ہولڈر کمپنی پورس این وی کے مطابق رواں سال اس کی مالیت کم ہو کر پانچ اعشاریہ ایک ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں کمپنی کو شکایات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بہت سے والدین اس پر اپنے وعدوں کو پورا نہ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ انھیں ایسے کورسز خریدنے پر مجبور کر رہے ہیں جس کے اخراجات وہ برداشت نہیں کر سکتے اور پھر وعدہ کی گئی خدمات بھی فراہم نہیں کر رہے ہیں۔ بعض نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ فرم نے صارفین کا استحصال کرنے کے لیے شکاری طریقوں کا استعمال کیا ہے۔لوگوں کو نت نئے طریقوں سے پریشان کرنا اور تعلیمی اداروں کو لالچ دے کر بچوں کو اپنی طرف اٹریکٹ کرنا اس کمپنی کا معمول بن چکاہے ۔ اس کے علاوہ بائیجو کے سابق ملازمین نے زیادہ دباؤ والے سیلز کلچر اور غیر حقیقی ٹارگیٹ رکھنے کی شکایت کی ہے۔ دوسری جانب فرم نے اخراجات کو کم کرنے کے لیے گذشتہ سال ہزاروں ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔بائیجوز نے والدین اور سابق عملے کی طرف سے اس پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ تاہم اسے حکومت کی جانب سے بھی تحقیقات کا سامنا ہے۔رواں سال اپریل میں بنگلورو میں کمپنی کے دفتر پر انڈین حکام نے غیر ملکی کرنسی کے قوانین کی مشتبہ خلاف ورزیوں کے لیے چھاپہ مارا تھا۔ کمپنی نے کسی غلط کام کرنے کی تردید کی ہے اور اپنے ملازمین کو یقین دلایا کہ اس نے قوانین کی مکمل پیروی کی ہے۔
