بنگلورو:۔اقلیتوں کے حقوق کو کسی بھی حال میں پامال ہونے نہیں دیاجائیگا،ریاستی حکومت آئین کے مطابق آدیواسی،پسماندہ طبقات اور پچھڑے طبقوں اور اقلیتوں کےحقوق کو تحفظ فراہم کریگی، اس سلسلے میں اقلیتوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔آج وزیر اعلیٰ سدرامیانے اس بات کی تصدیق کی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکے نمائندوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ سدرامیانے ملاقات کی۔مسلم پرسنل لاء بورڈکے نمائندوں نے یونیفارم سیول کوڈ کے تعلق سے وزیر اعلیٰ کے ساتھ گفتگو کی، اس دوران انہوں نے بتایاکہ آدیواسی، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے حقوق یو سی سی کی وجہ سے پامال ہوسکتے ہیں، ماضی میں یو سی سی کو بھارت کیلئے مناسب نہ ہونے کی بنیادپر مسترد کیاگیا تھا ، لیکن اس دفعہ مرکزی حکومت نےاسے جاری کرنے کے تعلق سے پیش رفت کی ہے،اس سلسلے میں لاء کمیشن کی جانب سے مشورے طلب کئے گئے تھے،بورڈنے یو سی سی کی مخالفت میں اپنی رائے پیش کی ہے،اس کے علاوہ ایک کروڑسے زائد افرادکے دستخط لاء کمیشن کو روانہ کئے گئے ہیں ۔ اس پر وزیر اعلیٰ سدرامیانے وفد کو بتایاکہ پہلے مرکزی حکومت یو سی سی کابلو پرنٹ تیار کرے ، اس کے جاری ہونے کے بعد جائزہ لینگے ،پھر اس کے بعدا س پر رائے قائم کی جائیگی ۔ اقلیتوں کے حقوق کو پامال نہیں کیا جائیگا، مرکزی حکومت نے پارلیمانی انتخابات کے مدِ نظر یہ شوشہ چھوڑا ہے ۔ اس دوران وفد نے وزیر اعلیٰ کو اوقافی اداروں کے تحفظ کے تعلق سے بھی گزارش کی۔ اس موقع پر سابق ڈپٹی اسپیکر رحمان خان ، ریاستی وزیر بی زیڈ ضمیر احمد خان، ودھان پریشد کے چیف وہپ سلیم احمد،رکن اسمبلی رضوان ارشد، وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر نصیراحمد،مولانا سید مصطفیٰ رفاعی ندوی،مولانا سیدمحمد تنویر ہاشمی،مولانا شبیراحمدحسینی ندوی، مفتی افتخا ر احمد قاسمی،ڈاکٹر سعد بلگامی وغیرہ موجودتھے۔
