از:۔ڈاکٹر سراج الدین ندویؔ۔9897334419

آج پوری دنیا کرپشن اور بگاڑ کی آماجگاہ بن چکی ہے۔انسان مسائل کی بھوبھل میں جھلس رہا ہے۔ ایک مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو نت نئے مسائل ابھر جاتے ہیں ۔ مسائل کی گتھی سلجھنے کی بجائے الجھتی جارہی ہے۔ کرپشن سے متعلق اعداد وشمار رونگٹے کھڑے کردیتے ہیں۔
٭ W.H.Oکی رپورٹ کے مطابق دنیا کی ہر ایک تیسری عورت کسی نہ کسی طرح جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔
٭دنیا میں ہر سال250,000(دولاکھ پچاس ہزار) Rapeکے واقعات ہوتے ہیں۔
٭دنیا میں ہرسال100000(ایک لاکھ) لوگوں پرت قریباً 7لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔
٭دنیا میں ہر سال33لاکھ لوگ شراب کی وجہ سے مرتے ہیں۔
٭4سال سے کم عمر کے بچوں میں ہر سال45فیصد فاقہ کشی سے مرجاتے ہیں۔
٭ہر سال دنیا میں 8لاکھ کے قریب لوگ خودکشی کرتے ہیں۔
٭دنیا میں 3کروڑ لوگDepressionکے مریض ہیں۔
٭دنیا میں ایک کروڑ40لاکھ کے قریب عورتیں جسم بیچنے کے دھندے میں ملوث ہیں۔
٭دنیا میں اس وقت6.5کروڑ لوگRefugeesہیں جن میں22.5فیصد لوگ18سال سے کم عمر کے ہیں۔
٭9ملکوں کے پاس15000(پندرہ ہزار) کے قریب نیوکلیر بم ہیں۔ ایک بم ہی کسی بڑے شہر کی مکمل تباہی کے لیے کافی ہوتا ہے۔
ہمارا ملک ہندوستان بھی ہر لحاظ سے کرپشن میں ڈوب چکا ہے۔
اخلاقی طور پر:
ہمارا ملک اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے۔ بے حیائی ، عریانیت وبدکرداری وجنسی انارکی ، خود غرضی ونفس پرستی ، چوری ،ڈکیتی، قتل وغارت گری، فساد وخون ریزی ہمارے سماج اور معاشرے کی رگ رگ میں سرایت کرچکا ہے۔
معاشی طو پر:
مہنگائی وبے روز گاری ،سود خوری اور رشوت ستانی، بلیک میلنگ وجعل سازی، دھوکہ دہی وفریب کاری، استحصال وذخیرہ اندوزی اور افراط زر نے ملک کو تباہی کے کنارے لاکھڑا کردیا ہے۔ نوٹ بندی اورG.S.Tکے بعد تجارتی اور کاروباری حالات بدسے بد تر ہوچکے ہیں۔
سیاسی طور پر:
ملک سیاسی استحکام سے محروم ہوچکا ہے۔ جمہوری نظام کے نام پر جابرانہ نظام جڑ پکڑرہا ہے۔ ہندواحیاء پرستی نے مستقبل کی ہولناکیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ فسطائیت وتشدد کی دیوی ننگی ناچ رہی ہے۔ بدعنوانی وجرائم پیشگی ہمارے سیاست دانوں کی عظمت کا نشان بن گئے ہیں۔ اسمبلیاں اور پارلیمنٹ غنڈہ گردی کے اڈے بن گئے ہیں۔ جس لیڈر کے ساتھ جتنے زیادہ غنڈے وہ اتنا ہی بڑا لیڈر ، عدالتیں بھی حکمرانوں کے اشارۂ چشم کو دیکھتی ہیں۔ انصاف مہنگا اور انسان سستا ہوگیا ہے۔ ہم بہت سی پارٹیوں کا تجربہ کرچکے ہیں مگر کوئی پارٹی بھی ملک کو خوش حالی کے راستہ پر نہیں ڈال سکی۔
تعلیمی طو ر پر:
ہماراتعلیمی نظام ناکام ہوچکا ہے۔ ہڑتالیں، اسٹرائیکیں ہمارا معمول ہوگئی ہیں۔ طلبہ اور اساتذہ میں کوئی کیریکٹر باقی نہیں رہ گیا ہے۔آئے دن اخلاقی بے راہ روی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔آ پ جانتے ہیں کہ اگر کرپشن عام ہوجائے تو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ جنگ عظیم میں جب فرانس کو شکست ہوئی تو اس کے صدر نے کہاتھا۔’’ہم اس لیے ہارے کہ ہمارا نوجوان کرپٹ ہوگیاتھا۔‘‘
پنڈت جواہر لال نہرو نے جب پنج سالہ یوجنا شروع کی تو ان سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ کیا ہمارے ملک کی ترقی کے لیے یہ یوجنا ئیں کافی ہیں تو انہوںنے کہا: ’’ہم اس کو کافی نہیں سمجھتے ،اصل چیز کسی قوم کا کیریکٹر ہوتا ہے‘‘۔
آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے کانگریسی لیڈروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابوبکرؓ وعمرؓ جیسی حکومت کرنا۔برناڈ شاہ نے لکھا ہے کہ اگر اس وقت حضرت محمدﷺ حیات ہوتے اور انہیں ڈکٹیٹر بنادیا جاتا تو دنیا کا کرپشن ختم ہوجاتا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ حضرت محمدﷺ بنفس نفیس موجود نہیں ہیں مگر آپؐ کی تعلیمات اور سیرت تو موجود ہیں۔اگر کرپشن کو دور ہی کرنا ہے تو کیوں نہ ان کی تعلیمات ہی کو ڈکٹیٹر بنالیا جائے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انسانوں کے تمام مسائل کا واحد حل صرف اسلام ہے۔وہی کرپشن کو دور کرسکتا ہے اور کردار سازی کے ذریعہ انسان کو بلند مقام پر پہنچا سکتا ہے۔ اس پر تاریخ گواہ ہے ۔ مگر افسوس کہ اسلام کے اصل چہرہ کو مسخ کرکے اس کی اصل شکل بگاڑ دی گئی ہے۔آزادی کے بعد سے بعض تنظیموں نے گھر گھر جاکر اسلام کے خلاف غلط فہمیاں پھیلائیں اور نفرت کی آگ بھڑکائی خاص طور سے نائن الیون کے بعد تو تمام مخالف طاقتوں نے اپنی پوری صلاحیتوں کو اسی میں جھونک دیا ہے کہ اسلام کو دہشت گردی کا مذہب اور مسلمان کو دہشت گرد قرار دیا جاسکے۔
طویل عرصہ سے یہ تصور بھی عام ہے کہ اسلام بھی دوسرے دھرموں اور مذہبوں کی طرح ایک دھرم ہے جو پوجا پاٹ ،مراسم عبادت اور کچھ روایات سے عبارت ہے۔ایک تصور یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ زندگی کا پرائیویٹ معاملہ ہے معاشرتی ، معاشی اور سیاسی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
مسلکی تشدد نے اسے مختلف مسالک کا نمائندہ بنادیا ہے اور نوجوان اس تذتذب کا شکار ہیں کہ کس مسلک کو ’’دین اسلام‘‘ سمجھا جائے۔ ایک تصور یہ بھی رہا کہ مسلمان پہلے خود اپنی اصلاح کرلیں اور اسلام کی عملی تصویر بن جائیں تو لوگ خود بخود اسلام کو قبول کرلیں گے۔غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہم اس کے مکلف ہیں۔
تجربہ بتاتا ہے کہ جب فساد ہوتا ہے تو محلے کے وہ غیر مسلم بھائی بھی لوٹ مار اور قتل وغارت گری میں شریک ہوتے ہیں جن سے ہمارے بڑے گہرے مراسم تھے۔ ہم ان کی خوشی وغمی کی تقریب میں شریک ہوتے تھے اور وہ ہماری خوشی وغم میں بھی شریک تھے۔تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا تھا مگر ہم ان کو کبھی اسلام کا تعارف نہ کراسکے۔ چنانچہ فساد کے وقت ان کے دل ودماغ میں اسلام کا تشددانہ بھوت ناچنے لگتا ہے جس کی تشکیل ہندواحیاء پرست افراد نے کررکھی تھی۔
ہمارے دینی مراکز یعنی مدارس ومکاتب اور خانقاہیں بھی دعوت کے سلسلے میں اپنا مؤثر رول ادا نہیں کرپارہی ہیں۔ ہر سال لاکھوں لوگ صوفیاء کی درگاہوں پر عقیدت سے جاتے ہیں مگر ہم ان تک صحیح دعوت نہیں پہنچاپاتے اگر اس وقت انہیں تعارف اسلام سے متعلق چند کتابچے دیے جائیں تو یہ ایک بڑا کام ہوسکتا ہے۔
مختصر یہ کہ حالات کا تقاضـا ہے کہ مسلمان اسلام کی جیتی جاگتی تصویر بنیں، اپنے کردار وعمل سے اسلام کی سچی نمائندگی کریں، دوسرے یہ کہ اسلام کو نظام کامل کی حیثیت سے اپنائیں۔ دین اسلام کی دعوت وتبلیغ کیلئے ایک زبردست مہم چلائی جائے اور یہ کوشش کی جائے کہ ہم غیرمسلم تک اسلام کا پیغام پہنچادیں۔ اس کی آسان شکل یہ ہے کہ ہر مسلمان اوسطاً پانچ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائے تو تمام ہندوستانیوں تک ہم اسلام کی دعوت پہنچاسکیں گے۔
وقت کی پکار یہی ہے کہ ہم اپنے کو دعوت کے کام میں جٹادیں۔ ہر وقت یہی فکر دامن گیر ہو البتہ دعوت کے سلسلے میں چند بنیادی اصول ہمیشہ ہمارے سامنے رہنے چاہئیں۔
٭دعوت میں حکمت وموعظِ حسنہ کو ملحوظ رکھا جائے۔
٭مشترک امور سے دعوت کا آغاز کیا جائے۔
٭مخاطب سے بھر پور خیر خواہی اور ہمدردی کا رویہ ہو۔
٭ان کے احساسات اور نفسیات کا خیال رکھا جائے۔
٭ان کے مذاہب کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کی جائے۔
٭ان کے مسائل اور ان کی ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔
٭یاد رکھیے دعوتی کام بھی ہمیں دعوت کے طریقے اور گرسکھاتا رہے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم دعوت کے کام کیلئےخود اچھے کارکن بنیں اور دوسرے افراد کو بھی تیار کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ کوئی چیز کتنی ہی عمدہ اور فائدہ مند کیوں نہ ہو، اگر لوگوں سے اس کا تعارف نہ کرایا جائے تو لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاپاتے۔ تجارت کا یہ اصول ہے کہ سامانِ تجارت کتنا ہی عمدہ اور ضروری کیوں نہ ہو اگر اس کی مارکٹنگ کے لیے فرض شناس ،جفاکش اور ماہر ایجنٹ نہ ہوں تو وہ چیز بازار میں مقبول نہیں ہوسکتی ہے۔آج دین اسلام دنیا کی سب سے بڑ ی ضرورت ہے،اسے بھی ایسے کارکنان درکار ہیں جو نہایت چابک دستی ، مہارت اور جفاکشی سے لوگوں کو اس کا تعارف کرائیں اس لیے کارکنان کی تیاری وتربیت کا خصوصی نظم کیا جائے جو لوگوں کو گمراہی اور فساد وکرپشن کے اندھیروں سے نکال کر انہیں رشد وہدایت کے نور سے روشناس کرائیں۔موجودہ حالات سے کسی بھی طرح گھبرانے ، ڈرنے اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس حالات میں مزید حوصلہ کے ساتھ اللہ کے دین پر عمل کرنے اور اس کو دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔یہ دین ہم سب کی ضرورت ہے ۔اسی دین میں ہم سب کی کامیابی پوشیدہ ہے ۔اسی کے ساتھ اللہ نے دین پر عمل کرنے والوں اور دین کی دعوت دینے والوں سے اپنی مدد کا وعدہ فرمایا ہے ۔البتہ اس کی مدد مخلصین کو حاصل ہوتی ہے ، ریاکاروں اور منافقوں کو نہیں ۔
