بچوں پر سختی اور حصول تعلیم جسمانی سزا بچوں کی شخصیت سازی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے

مضامین
از:۔عبدالغفارصدیقی۔9897565066
بچہ اپنے ماں باپ کی آنکھ کا تارا ہوتا ہے خواہ وہ کیسا ہی ہو ۔ جسمانی طور سے لاغر اور معذور بچوں کو بھی والدین خاص طورپر مائیں اپنے سینے سے لگا کر رکھتی ہیں ۔میں ایسے کئی خاندانوں سے واقف ہوں جو اپنے معذور بچوں کا سب کچھ اپنے ہاتھ سے کرتے ہیں ،ان بچوں کی وجہ سے والدین کو جسمانی اذیت ،مال کا نقصان ، ذہنی کوفت تو ہوتی ہی ہے ،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انھیں اپنی خواہشوں کی بڑی قربانی دینا پڑتی ہے۔والدین اپنے بچوں سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ اپنے معذور اور شریر بچوں کی برائی کسی دوسرے کے منہ سے نہیں سن سکتے ۔وہ اس کے رد عمل میں چاہے کچھ نہ کریں لیکن اپنے بچوں کی برائی سننا ان پر شاق گزرتا ہے ۔ اب آپ سوچیے جب معذور یا شریر بچوں کے تعلق سے ان کا یہ حال ہے کہ وہ برائی تک نہیں سن سکتے تو پھر عام بچوں کے لیے ان کے دل میں کیا جذبات ہوں گے ؟کیا وہ کسی بھی طرح کی جسمانی سزا کو بخوشی قبول کرسکتے ہیں ؟کچھ والدین استاذ سے کہتے ہیں کہ اس کی پٹائی کریں ۔لیکن ان کے دل میں بھی کہیں نہ کہیں بچے کی جسمانی سزا سے تکلیف ہوتی ہے ۔میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ اگر بچے کو دی گئی سزا کے نشانات والدین کو نظر آجائیں تو وہ اسکول میں شکایت لے کر پہنچ جاتے ہیں اور پھر وہ ایک ہی جملہ دہراتے رہتے ہیں ۔’’ سر ! آپ بچوں کو ماریے ،لیکن ایسے نہ ماریے ۔‘‘
 بچوں کو جسمانی سزا دینا یا ایسی بات کہنا جس سے ان کو ٹینشن ہوسکتی ہو قانوناً جرم ہے ، آٹھویں کلاس تک فیل نہ کرنے کی بھی پالیسی وضع کی گئی ہے ،کیوں کہ امتحان میں فیل کا لفظ سن کر بچے کا ہارٹ فیل ہوسکتا ہے ۔نئے زمانے میں چھڑی سے مارنا تو دور کی بات ہے ،الفاظ اور جملے بھی نہیں مارسکتے ،نہ آپ مرغا بنا سکتے ہیں ،نہ آپ بینچ پر کھڑاکرکے ذلیل کرسکتے ہیں ۔ہم مسلمان بھی عجیب قسم کے انسان ہیں ، ہوا کو دیکھ کر رخ بدل لیتے ہیں ۔جب تک جسمانی سزا دینا قانوناً جرم نہیں تھا اس وقت تک ہمارے علماء و مدرسین جسمانی سزا دیتے بھی تھے اور اس کی وکالت بھی کرتے تھے ۔یہاں تک کہتے تھے کہ جسم کے جس حصہ پر استاذ کی مار لگتی ہے اسے جھنم کی آگ نہیں جلا سکتی ۔چھڑی سے پٹائی تو عام بات تھی ،مدارس میں چمڑے کی بیلٹ سے مار لگائی جاتی تھی ۔بعض بچوں کو زنجیروں میں قید کرکے رکھا جاتا تھا ۔لیکن جیسے ہی جسمانی سزا کو قانونا جرم قرار دیا گیا تو ہمارے علماء اسلام ،قرآن و احادیث سے یہ ثابت کرنے میں لگ گئے کہ اسلام میں بچوں کو جسمانی سزا دینا گناہ ہے ۔
 اسلامی تعلیمات کا جہاں تک تعلق ہے تو اس میں بچے کے ساتھ نرمی و شفقت کا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کو جہنم سے بچانے ،نیز ایک اچھا انسان بنانے کے لیے ایسی جسمانی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے ،جس سے اس کو کوئی مستقل نقصان نہ ہو ۔یہاں تک کہ چہرے پر مارنے ،تین ضرب سے زیادہ مارنے ،بغیر غلطی کے مارنے والے کو سخت سزا او ر اللہ کی پکڑ کی وعید سنائی گئی ہے ۔
جسمانی سزا بچے کی نشو و نما میں مانع ہوتی ہے ۔دماغ جسم کا ایک اہم حصہ ہے ۔ڈر اور خوف سے سب سے زیادہ نقصان دماغ کو پہنچتا ہے ۔بچہ کے اندر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے ۔کبھی کبھی جسمانی سزا بچہ کو بے خوف بنادیتی ہے ۔بچہ اس کا عادی ہوجاتا ہے ۔وہ جانتا ہے کہ دو چار بینت مار کر اور برا بھلا کہہ کر استاذ یا والدین چپ ہوجائیں گے ،اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتے ،اس کی یہ سوچ اس کو تعلیم سے محروم کرکے مجرم بنادیتی ہے ۔سزا کا خوف بچوں کے اندر بعض اخلاقی کمزوریاں پیدا کرنے کا سبب بنتاہے ۔بچہ جھوٹ بولنے ،بہانے بنانے اور اسکول سے غیر حاضر ہونے لگتا ہے ۔یہ عادات بجائے خود غیر مطلوب ہیں اور ان سے اس کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔سزا کا خوف اسکول سے نفرت اور تعلیم سے فرار کا سبب بنتا ہے ۔جب کوئی بچہ شوق اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اسکول نہیں آتا تو وہ اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار نہیں لاسکتا،جس سے اس کی کارکردگی کا رزلٹ خراب نکلتا ہے ،مستقل خراب نتیجے اس کو اسکول چھوڑنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔
یہ سوال اکثر اساتذہ کرتے ہیں کہ وہ کون سے طریقے ہوسکتے ہیں جس سے بچہ بغیر سزا کے اور ذوق و شوق کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکے ؟ ان کو یہ دشواری پیش آتی ہے کہ زیادہ ترمسلم بچوں کے والدین ناخواندہ ہوتے ہیں ،یا ان کی معاشی مصروفیات بچوں کے لیے وقت نہیں نکالنے دیتیں ،یا وہ پردیس میں رہتے ہیں ،اس لیے وہ اپنے بچوں کی تعلیم میں کوئی مدد نہیں کرسکتے ،اسی کے ساتھ ان کو اسکول میں کسی سزا کا خوف بھی نہ ہو تو آخر وہ کس طرح پڑھ سکتے ہیں یا ان کو کس طرح معیاری تعلیم دی جاسکتی ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اساتذہ کا یہ عقیدہ ہے کہ بچہ کی تعلیم میں سختی ،ڈر اور خوف کا عنصر لازمی ہے اور پٹائی کے بغیر تعلیم ممکن نہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو اساتذہ بچوں کو مارکر پڑھا نے کے قائل ہیں انھیں اس پیشہ کو ترک کرکے کوئی اور مشغلہ اختیار کرنا چاہئے ،وہ دراصل اپنی ناکامیوں کا غصہ بچوں پر اتارنا چاہتے ہیں ۔جس اسکول میں بچوں کو جسمانی سزا و تادیب کے بغیر تعلیم دینے کا تصور مفقود ہووہ ایک ناکام اسکول ہے ۔سزا،ڈر ،اور خوف جیسے الفاظ کا تعلق جیل اور قید خانے سے ہے ۔تعلیم گاہوں کو قید خانہ کے مشابہ نہیں ہونا چاہئے ۔
بچے سزا کے مستحق اس لیے قرار پاتے ہیں کہ ٭ تاخیر سے اسکول آتے ہیں ٭بغیر یونیفارم کے آتے ہیں ٭فیس وقت پر ادا نہیں کرتے ٭ ان کے پاس کتابیں ،کاپیاں ،پین ،کلر وغیرہ نہیں ہوتے یا گھر پر بھول آئے ہوتے ہیں ،٭ ان کو سبق یاد نہیں ہوتا٭ ان کا ہوم ورک مکمل نہیں ہوتا ٭ ان کے ہوم ورک میں غلطیاں ہوتی ہیں ٭ امتحان میں ناکام ہوجاتے ہیں ٭ شرارت کرتے ہیں ٭ اسکول کی کسی چیز کا نقصان کردیتے ہیں ٭ کسی استاذ کے ساتھ نازیبا سلوک کرتے ہیں وغیرہ ۔میں سمجھتاہوں کہ ان اسباب میں سے کچھ وہ ہیں جن کا تعلق بچوں سے نہ ہوکر ان کے سرپرستوں سے ہے ۔مثال کے طور پر تاخیر سے اسکول آنا ، یونیفارم نہ ہونا ،کتاب کاپیاں وغیرہ نہ ہونا ،فیس کا وقت پر جمع نہ ہونا ،غیر حاضر ہونا،یہ وہ امور ہیں جن کے لیے براہ راست والدین جواب دہ ہیں ۔ اس لیے اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان امور کے لیے بچوں کو سرزنش کرنے کے بجائے ان کے والدین کو متوجہ کریں ۔کچھ امور کا تعلق بچوں کی نفسیات سے ہے مثلاً وہ شرارت کرتا ہے ،پاس میں بیٹھے ہوئے بچے کو قلم کی نوک چبھا دیتا ہے، اس کی نوٹ بک کھینچ لیتا ہے ،منہ سے آوازیں نکالتا ہے ،اپنے سے آگے بیٹھے ہوئے بچے پر کاغذ کی پڑیا بنا کر پھینکتا ہے ،وغیرہ ، بچے عام طور ایسی حرکتیں اس وقت کرتے ہیں جب کہ استاذ کلاس میں نہیں ہوتے،اس صورت میں ان حرکتوں کو نظر انداز کردینا چاہئے ۔اگر استاذ کی موجود گی میں ایسا کریں تو ان کو یہ باور کرانا چاہے کہ ان کی شرارت سے تعلیم کا نقصان ہے ۔ہلکی سے تنبیہ اور ڈانٹ سے بھی بچہ استاذ کے سامنے یہ حرکت نہیں کرتا ۔اسکول کی کسی چیز کا نقصان اگر سہواً ہوا ہو تو معاف کردینا چاہئے ،اگر قصداً کیا گیا ہو تو اس کے والدین کو بلا کر بتانا چاہئے ۔رہے وہ امور جن کا تعلق براہ راست بچے سے ہے ،یعنی سبق یاد نہ ہونا ،ہوم ورک مکمل نہ ہونا ،یا امتحان میں ناکام ہوجانا وغیرہ ،اس میںآخر الذکر دراصل اول الذکر دو اسباب کا نتیجہ ہے ۔اس صورت حال میں اس بات کا جائزہ لیاجانا چاہئے کہ بچہ کی دماغی حالت کیسی ہے ؟ اگر وہ غبی و کند ذہن ہے تو سبق یاد نہیں کرپائے گا ۔اگر اس کی علمی سطح پست ہے اور اس کی کلاس کی سطح اونچی ہے تب بھی یہ دشواری آئے گی ،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نصاب تعلیم میں جو کتاب منتخب کی گئی ہے وہ بچوں کے معیار سے کچھ زیادہ ہی بلندہو ۔ان امور کا جائزہ لینے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے ۔ ہوم ورک نہ کرنے کی بھی کئی وجوہات ہیں ،اول یہ کہ سبق سمجھ میں نہیں آیا ، دوسرے یہ کہ گھر پر کوئی ایسی دشواری تھی کہ وقت نہیں مل پایا ،یا یہ کہ اس دن سبھی کلاسیز میں ہوم ورک دے دیا گیا کہ بچے کی استطاعت سے زیادہ تھا ۔اس کا حل یہ ہے کہ ٹائم ٹیبل کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ ہوم ورک والے مضامین ایک ساتھ نہ آئیں ،پرائمری کلاسیز میں نصاب تعلیم کو اس طرح دنوں اور مہینوں پر تقسیم کیا جائے کہ ہوم ورک کی کم سے کم ضرورت ہو ۔ ان کے والدین سے مل کر گھر کا ٹائم ٹیبل بنوایا جائے ۔چھٹی کے بعد اسکول میں روک کر کام مکمل کرایا جائے ۔سبق سمجھ میں نہ آیا ہو تو اسے دوبارہ سمجھایا جائے یا جو بچہ سمجھنا چاہے اسے الگ وقت دیا جائے ۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے طریقے  ہوسکتے ہیں جو ہوم ورک کی تکمیل میں معاون ہوں ۔
بچے کی تعلیم پر سب سے زیادہ استاذ کی شخصیت اثر انداز ہوتی ہے ۔ایک استاذ کو خود وقت کا پابند ہونا چاہئے ،اپنے خدا اور اسکول کے ذمہ داران کا اطاعت گزار اور اسکول کا وفادار ہونا چاہئے ،اس کے اندر بچوں سے بے پناہ محبت ہونا چاہئے ،وہ اعلیٰ اخلاق کا حامل اوربری عادتوں سے اجتناب کرنے والاہونا چاہئے ،وہ اپنے مضمون میں ماہر ،اس کی تدریس پر قادرہونا چاہئے ،اس کو دوران تعلیم خاکوں ،چارٹوں اور دیگر معاون اشیاء سے مدد لے کر مضمون کو دل چسپ اور آسان بنانے کا فن آنا چاہئے ۔عام طور پر ہمارے اسکولوں میں تدریس کا قدیم طریقہ رائج ہے کہ استاذ بغیر تیاری کے کلاس میں آتا ہے ،بچوں سے معلوم کرتا ہے کہ آج کیا پڑھایا جائیگا ۔بچے کتاب کا سبق یا مشق نکالتے ہیں ،استاذ اپنی صلاحیت کے مطابق تشریح کرتا ہے ،درمیان میں سمجھے ؟ سمجھے ؟ کا نعرہ لگاتا ہے بچے بھی جی سر اور یس سر میں جواب دیتے ہیں ،کچھ ہوم ورک نوٹ کراتا ہے اور بس کام ختم سمجھاجاتا ہے ۔ کتاب پوری کرنے کے چکر میں ایک ہی ڈھرے پر اسکول چلتا رہتاہے ۔اس ماحول سے بچہ اکتا جاتا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اسکول انتظامیہ ہر بچے کی کمزوریوں کو سمجھے ۔گردو پیش کے ماحول ،اپنے اساتذہ کی صلاحیتوں اور اسکول میں موجود سہولیات کا جائزہ لے کر نصاب تعلیم اور لائحہ تعلیم وضع کرے۔ ہر کمزوری کا غصہ بچوں پر نکالنا ان پر ظلم کرنا ہے ۔یہ بات بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ ہر بچہ کو اللہ نے مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے ،اگر کوئی بچہ پڑھنے میں کمزور ہوتا ہے تو وہ زندگی کے کسی دوسرے شعبہ میں کامیاب ہوسکتا ہے ۔ اساتذہ حتی الامکان کسی بچے کو پڑھانے کی کوششوں کے مکلف ہیں نہ کہ زبردستی اس کو ڈپٹی کلکٹر  بنانے کے،وہ معلم بنائے گئے ہیں نہ کہ داروغہ ۔ ہر بچہ قوم کا قیمتی اثاثہ ہے ۔اگر وہ ضائع ہوگیا تو ایک مسلمان استاذ خدا کے یہاں جواب دہ ہوگا اور اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکے گا۔