شیموگہ:۔تشدد کسی بھی مذہب کا حصہ نہیں ہے ، مذہب کے نام پر جو تشدد برپاکیا جارہاہے میں اُس کا مخالف ہوں،یہی وجہ ہے کہ لوگ مجھے ہندومذہب کا مخالفت کہتے ہیں،جبکہ مجھے بھی مذہب کی ضرورت ہے۔اس بات کااظہار بین الالسانی فلموں کے اداکار پرکاش راج نے کیا ہے ۔ شہرمیں آج میڈیا سمپوزیم میں بات کرتے ہوئے کہاکہ مذہب کی بنیادپربات کرنا بھارت میں سیاستدانوں کا کام نہیں ہے،اُن کا کام ملک کو ترقی یافتہ کرناہے،عام لوگوں کے درمیان وہ مذہب کی بنیادپر سیاست نہیں کرتے ہیں تو وہ ملک کیلئے اچھی بات ہے،لیکن سیاستدان مذہب کی بنیادپرہی سیاست کررہے ہیں۔اگر جسم پر زخم ہوتے ہیں تو یہ زخم بھرجاتے ہیں،لیکن ملک پر زخم ہونگے تو اس پر خاموشی اختیارنہیں کرنی چاہیے بلکہ زخم دینےوالوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔مذہب کی بنیادپر جوبھی تشدد کرتے ہیں اُن پر سوال کرنا بے حد ضروری ہے،یہ صرف میراکام نہیں ہے بلکہ ہر ایک صحافی فنکار،ادیب اور دانشورکی ذمہ داری ہے۔حال ہی میں بس میں سوار ایک کنڈکٹرکی ٹوپی کو لیکر سوالات اٹھائے تھے،بس میں سوارتمام لوگ اس پر خاموشی اختیارکئے ہوئے تھے،یہی خاموشی درست نہیں ہے۔ہر ایک کو اپنے اپنے مذہب پر عمل پیراہونے کی آزادی ہے،اس کی مخالفت کرنا ہرگز بھی درست نہیں ہے ۔
