اسکول کھلنے کے باوجود باضابطہ جماعتیں شروع ہونا مشکل;ڈسمبر تک آن لائن پر ہی پڑھناہوگا بچوں کو

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز

بنگلورو:۔اسکول کھلنے کے باوجود باضابطہ جماعتیں شروع ہونا مشکل ہے کیونکہ ڈسمبر تک آن لائن پر ہی بچوں کو پڑھنا ہوگا۔جی ہاں۔ ملک میں 2021-22 بھی صفر تعلیمی سال ہوسکتا ہے ! ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیاں محض طلبہ کو تعلیم سے جوڑے رکھنے کی حد تک جاری رہیں گی! کورونا کی تیسری لہرکے پیش نظر تعلیمی سال 2021-22 کے دوران صرف آن لائن تعلیم کی اجازت دی جائے گی اور باضابطہ کلاسس کو منظوری حاصل نہیں ہوگی! مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کے اقدامات کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ مرکزی حکومت کسی بھی ریاست کو تعلیمی سال2021-22کے دوران باضابطہ کلاسس کے انعقاد کی اجازت نہیں دیگی ۔ سال گذشتہ کئی ریاستوں میں حکومتوں کی جانب سے اسکولوں کی کشادگی کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن چند ہفتوں میں دوبارہ بند کردینا پڑا ۔ امتحانات سے عین قبل کورونا کی دوسری لہر کے سبب امتحانات کا انعقاد کو ممکن نہیں ہوسکا اورتمام طلبہ کو ایک اور سال کامیاب قرار دے کر اگلی جماعت میں پروموٹ کردیاگیا۔ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مرکزی حکومت کی جانب سے سی بی ایس سی کے امتحانات کو منسوخ کرکے تمام طلبہ کو کامیاب کردیا گیا اور بیشتر ریاستوں میں پی یو سی سال دوم کے طلبہ کو بھی کامیاب قرار دے دیا گیا اور تعلیمی سال 2021-22 کے ان فیصلوں کے بعد اب ماہرین تعلیم کا کہناہے کہ آئندہ تعلیمی سال کے دوران بھی اگر طلبہ کو پاس کیا جاتا ہے اور امتحانات نہیں ہوتے ہیں تو ان کی صلاحیتوں سے آگہی حاصل کرنا اور جانچ کرنا ممکن نہیں ہوگا اور تعلیمی نظام میں بحران کا خدشہ ہوگا۔ اسی لئے ریاستی ومرکزی حکومتوں کو حکمت عملی اور منصوبہ بندی قبل از وقت کرلینی چاہئے کیونکہ اگر آئندہ تعلیمی سال بھی طلبہ کو پروموٹ کیا جاتا ہے تو ان کی صلاحیت کی جانچ ممکن نہیں ہوپائے گی۔ ماہرین کا کہناہے کہ گذشتہ دو برسوںکے دوران حکومت کے فیصلہ کے سبب تمام طلبہ کامیاب قرار دیئے جاچکے ہیں اور جو طلبہ پی یو سی سال اول میں تھے انہیں دو سال امتحانات تحریر کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اسی طرح جو طلبہ نویں میں تھے وہ نویں میں کامیابی کے بغیر دسویں میں داخلہ حاصل کرچکے تھے اور دسویں کا امتحان تحریر کئے بغیر اب پی یو سی کی تعلیم حاصل کریں گے ۔ وزارت فروغ انسانی وسائل کے ذرائع کے مطابق تعلیمی سال 2021-22 کو مکمل آن لائن رکھنے پر غور کیا جا رہاہے اور کہا جارہا ہے کہ ماہ ڈسمبر سے قبل باضابطہ کلاسس کی قطعی اجازت نہیں دی جائیگی اور ڈسمبر کے بعد صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جائیگا کہ آیا باضابطہ کلاسس کا اہتمام کیا جائے یا نہیں اور اس کے بعد ہی امتحانات کے متعلق فیصلہ کیا جائیگا ۔ ذرائع کے مطابق اگر آئندہ سال امتحانات کیلئے حالات ساز گار نہ ہوئے تو 2021-22 کو صفر تعلیمی سال قرار دیا جائے گا کیونکہ مسلسل تین سال امتحانات کے بغیر طلبہ کو کامیاب قرار دینے کی ماہرین مخالفت کر رہے ہیں۔ کہا جار ہاہے کہ اگر صورتحال ابتر رہتی ہے تو آن لائن امتحانات منعقد کئے جائیں لیکن ہندستان میں آن لائن امتحانات کیلئے طلبہ کی بڑی تعداد سہولتیں سے محروم ہے ۔ اسلئے ایسا بھی کرنا ممکن نہیں ہو گا ۔ اسی لئے کہا جا رہا ہے کہ آئندہ سال کے اواخر تک صورتحال کا جائزہ لے کر ہی فیصلہ کیا جائیگا ۔ عہدیداروںنے بتایا کہ طلبہ کو کامیاب بنانے سے جو مسائل پیدا ہونگے اس کا جائزہ لیا جا رہاہے لیکن تعلیمی سال کو صفر(0) قرار دینے سے تعلیمی نظام درہم برہم ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے وزارت فروغ انسانی وسائل نے ماہرین سے رائے لے کر تعلیمی سال کے مستقبل کے متعلق منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تعلیمی سال 2021-22 کے آن لائن ہونے کے آثار کی بنیاد پر کئی اسکولوں سے ڈیجیٹل کلاس روم کے نظریہ کو فروغ دیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ تعلیم کا مستقبل ڈیجیٹل کلاس روم ہوتا جار ہاہے اور وہ ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کو بہتر بناکر طلبہ کو تعلیم سے جوڑے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔