ہبلی:۔’’دورِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ منشیات، جس نے نوجوانوں کی زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔ یہ منشیات فروش ملک و قوم کے وہ دشمن ہیں جو نوجوان نسلوں کو تباہ کرنے پر تلے ہیں اور ملک و قوم کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں۔ان سماج دشمن عناصر کا مقصد یہی ہے کہ نوجوان دنیا میں اپنا متحرک کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہیں جبکہ نوجوان نسل کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہوتے ہیں ۔ جب یہ کمزور پڑیں گے تو معاشرے کی اقدار کے انہدام کا عمل آسان ہوجاتا ہے ۔ نشہ دراصل زندگی کے چیلنجوں اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار کا نام ہے، جبکہ زندگی صبر و استقامت، جوانمردی، حرکت و تغیر سے عبارت ہے۔‘‘ان خیالات کا اظہار ایم ایس ملا پرنسپال ٹیپو شہید انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(پالی ٹیکنک)ہبلی نے اپنے صدارتی خطاب میں یہاں ادارہ میں منعقدہـ’’ منشیات کے استعمال کا سدباب ‘‘پروگرام کے موقع پر طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پرنسپال ایم ایس ملا نے کہا کہ اس موضوع پر طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ایک طرح سے جھجک محسوس ہوتی ہے اور حسنِ ظن کا تقاضا بھی یہی ہے کہ طلباء ان خرافات سے دور ہی ہیں۔ بعض سماج دشمن عناصر اور منشیات فروش کا جال اس انداز سے پھیلا ہوا ہے کہ لاشعوری طور پر بھولے بھالے اور شریف النفس طلباء بھی بری صحبت کا شکار ہوجاتے ہیں اور والدین کو بھی اندازہ ہو نہیں پاتا کہ ان کی اولاد کس ڈگر پر جا رہی ہے۔ چنانچہ کمشنر آف کالجیٹ اینڈ ڈپارٹمنٹ آف ٹیکنیکل ایجو کیشن بنگلور نے اس بات کی اہمیت کو سمجھا کہ طلباء میں منشیات کے استعمال کے خلاف بیداری پروگرام کا انعقاد کیا جائے، تاکہ طلباء لاشعوری یا شعوری طور پر منشیات فروش کے شکارنہ ہوجائیں۔ آخر میں پرنسپال ایم ایس ملا نے کہا کہ سماج میں ہمارے اردگرد ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو اس لعنت کا شکار ہوچکے ہیں ۔ ہمیں ان کے تئیں ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ باہمی طرزِ عمل میں بھی نوجوان نسل کی بنیادی ضرورتوں ،احتیاط اور ان کی عزت نفس کا ترجیحی بنیادی ضرورتوں پر لحاظ رکھا جائے اور مثبت رویہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ نوجوانوں کے اندر بھی جینے کا حوصلہ پیدا ہو اور ان کو اپنی صحیح قدر و قیمت کا احساس ہونے لگے اور وہ وطن عزیز کی معاشی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں میں جوش و ولولہ کے ساتھ حصہ لے سکیں۔اس موقع پر پولیس ڈپارٹمنٹ ہبلی کی جانب سے رسورس پرسن موہن کاولور، موہن جے اور ملیکارجن نڈونی نے پی پی ٹی اور ویڈیوفلم کا استعمال کرتے ہوئے طلباء کو بتایا کہ کس طرح نشہ کا عادی فرد جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج ہوکر رہ جاتا ہے ۔اور کس طرح منشیات فروش گروپ کا جال طلباء کو اپنا ہدف بنانے کے لئے بڑے ہی منظم انداز میں کام کرتے ہیں جس کا ابتدائی دور میں پتہ ہی نہیں چلتا ۔ پولیس ڈپارٹمنٹ کے ذمہ داروں نے طلباء سے گزارش کی کہ اگر انہیں اپنے اطراف ایسی سرگرمیوں کا سراغ لگے تو فوری طور پر پولیس ذمہ داروں،والدین اور اساتذہ کے علم میں یہ بات لائیں ۔پروگرام کا آغاز قرآن پاک سے ہوا۔ نظامت کرن کمار منٹور نے کی۔ین ایس ایس افسر یم بی روی نے شکریہ اداکیا۔ اس موقع پر ین ایس ایس سیل کے دیگر ذمہ داران ، چندر شیکھر توپد، ناگراج سنولی ، ارشد راوت، یم ایچ دھارواڑ، بالیش ہیگنور شریک ر ہے ۔ دوران پروگرام پولیس عملہ کو ادارہ کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی۔
