بنگلورو:۔سال رواں ہونےوالے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو اقتدارمیں لانے کیلئےمسلمانوں کا اہم رول رہاہے،ان انتخابات میں مسلمانوں کی طرف سے80 فیصد ووٹنگ کانگریس کے حق میں ہوئی ہے جبکہ بیدر،گلبرگہ،ملناڈ جیسے علاقوں میں یہ شرح 90 فیصد تک گئی ہے۔مسلمانوں نے ریاست میں بی جے پی کا صفایا کرنے کیلئے اہم رول اداکیاہےاورانتخابات کے دوران کانگریس پارٹی نے بھی مسلمانوں کو یقین دلایاتھاکہ وہ اقتدارمیں آنے کے بعد مسلمانوں کو سیاسی وسماجی حق دیگی ، انتخابات میں مسلم اکثریتی والے حلقوں میں مسلم امیدواروں ٹکٹ نہیں دی گئی تھی،اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ فرقہ پرستوں کو شکست دینے کیلئے مسلم کانگریسیوں کو قربانی دینی ہوگی۔اسی بنیادپر ریاست کے بیشتر اسمبلی حلقوں میں مسلم دعویداروں نےقربانی دیتے ہوئے پارٹی کی طرف سےطئے شدہ امیدواروں کی تائیدکی اور اُنہیں کامیاب کروایا۔اب کرناٹکا حکومت نے اعلان کیاہے کہ جس لیڈرنے پارٹی کی کامیابی کیلئے کام کیا ہے ،اُسی لیڈرکو بورڈوکارپوریشن اور کمیشن میں نمائندگی دی جائیگی،چونکہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو اقتدار میں لانے کیلئے مسلمان ہی اہم کردار نبھائے ہیں،اس بنیادپر مسلمانوں کو مناسب نمائندگی دینے کی بات ہونی چاہیے۔کانگریس کے کئی سینئرلیڈران جنہوں نے کانگریس کے وفاداری کی ہے وہ حکومت کے حصے داربننے کی کوشش کررہے ہیں،لیکن نت نئے چہرے ان سینئر لیڈروں کو پیچھے ڈھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بید ر ، گلبرگہ ،بیجارپور جیسے علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہاں پر کانگریس لیڈروں کی کوششیں نمایاں ہیں ، لیکن ان لیڈروں کو یہاں پرمسلسل نظر انداز کیا جارہا ہےاور محض بنگلورو اور اولڈ میسوروعلاقوں کے لوگوں کو ہی ترجیح دی جارہی ہے ۔ نامزد ایم ایل سی ہویا پھربورڈ یا کارپوریشن کا معاملہ زیادہ تر میسورو اور بنگلورو ڈیویژن کے مسلم کانگریسیوں کو اہمیت دی جارہی ہے،جس کی وجہ سے ریاست کے دیگر حلقوں کے مسلمانوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ ریاستی حکومت کو چاہیے کہ وہ اقتدارمیں تمام اضلاع کو مساوی نمائندگی دیتے ہوئے مسلم قیادت کو مضبوط بنائے،ورنہ آنےوالے دنوں میں اس کے منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔
