شیموگہ/بنگلورو:۔(خصوصی رپورٹ مدثراحمدشیموگہ):۔تعلیم کسی قوم کی سماجی و اقتصادی ترقی کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے، اس سے بھی زیادہ اقلیتوں کے لیےہے، بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے لیے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، حکومت کے اعلیٰ تھنک ٹینک جسے نیتی آیوگ کے نام سے جاناجاتاہے،اس نے 2017 میں ایک پالیسی جاری کی جس میں اقلیتوں کیلئےموجودہ پروگراموں کے نفاذ کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے کامطالبہ کیا تھا۔ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے بھی اس سلسلے میں تائید کرنے کا فیصلہ لیاتھا،تاہم، مرکز نے پچھلے کچھ سالوں میں مذہبی اقلیتوں کیلئے دو اہم تعلیمی اسکیموں کو بند کر دیا ہےاور ایک اسکیم کو محدودکردیاہے،ساتھ ہی ساتھ اقلیتی امورکی وزارت کے متعدد پروگراموں پر اٹھنے والے اخراجات کو آہستہ آہستہ کم کر دیا ہے۔اقلیتوں کے تعلق سے جو پالیسیاں بنائی گئی تھی،ان پالیسیوںمیں تبدیلی کا سلسلہ 2019 اور 2022 کے درمیان شروع ہوا، یہاں تک کہ فنڈز کم استعمال ہونے کے باوجود، پارلیمنٹ میں پیش کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے۔ اس عرصے کے دوران، مذہبی اقلیتوں کے لیے چھ تعلیمی اسکیموں پر حکومت کے اخراجات میں تقریباً 12.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جب کہ مستفید ہونے والوں کی تعداد میں 7 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ اس مالی سال، مرکز نے اقلیتی امور کی وزارت کے لیے بجٹ میں پچھلے سال کے مقابلے میں 38.3 فیصد کمی کی ہےجبکہ 2023-24 کے بجٹ کا جائزہ لیاجائے تو23-2022 کے بجٹ سے یہ بجٹ کافی کم ہے، 2022-23 میں 5020.5 کروڑ روپے سے گھٹ کر3097 کروڑ روپے تک کمی دیکھی گئی ہے۔سال23-2022 کے بجٹ پر نظر ثانی کر کے 2612.66 کروڑ روپے کر دیے گئے، جو تقریباً 48فیصد فنڈز کو کم کردیاگیاہے۔اقلیتوں کیلئے اسکالرشپ کیوں متعارف کیا گیا تھا ؟ ۔ بھارت میں 30 کروڑ (یعنی20فیصد) آبادی اقلیتوں کی ہے ،ان میں 2.14فیصد مسلمان ، 2.3فیصد عیسائی،7.1فیصدسکھ،7.0فیصد بدھسٹ،4.0فیصد جین اور پارسی شامل ہیں جن میں مسلمان سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں لیکن انہیں معاشی، صحت اور تعلیم میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ تنخواہ والی ملازمتوں میں ان کی شرکت کم ہے۔ بہت سے لوگ غیر رسمی شعبے میں مصروف ہیں، جس کی خصوصیات کم اجرت، کمزور سماجی تحفظ اور کام کے خراب حالات ہیں۔جسٹس راجندر سچر کمیٹی کی تشکیل یو پی اے حکومت کے دوران کی گئی تھی،سال2006میں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی 400 صفحات پر مشتمل ایک جامع رپورٹ میں، سچر کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھاکہ اقلیتی طبقہ تمام سہولیات سے محروم ہے اور انہیں نظرانداز کیا گیا ہے ، مسلمان ،اوبی سی،ایس سی ایس ٹی سے پیچھے ہیں۔اسی وقت، منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے اقلیتی امور کی وزارت کے دیرینہ مطالبہ کو قبول کر لیا۔ نئی وزارت کو جنوری 2006 میں سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کی وزارت سے نکالاگیا تھا تاکہ مطلع شدہ اقلیتوں کو متاثر کرنے والے مسائل کی طرف زیادہ توجہ دیکراقلیتوں کو تعلیمی،اقتصادی طورپر بااختیار بنایاجائے اور انہیں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور خصوصی ضروریات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ وزارت کے مینڈیٹ میں اقلیتی برادریوں کے فائدے کے لیے پالیسی اور منصوبہ بندی، ہم آہنگی ریگولیٹری فریم ورک اور ترقیاتی پروگراموں کا جائزہ شامل تھا۔اس کے بعد حکومت نے اقلیتوں کی بہبود کے لیے اپنے 15 نکاتی پروگرام پر نظر ثانی کی۔ تعلیمی بااختیار بنانے کے ایک حصے کے طور پر نئے منصوبوں میں اقلیتی برادریوں کے طلباء کے لیے اسکالرشپ کا انتظام شامل ہے۔گزشتہ 20 سالوں میں مرکزی حکومت نے مذہبی اقلیتوں کو تعلیمی طورپربااختیار بنانے کیلئے تقریباً 10 اسکیمیں نافذ کی ہیں۔(1)پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم جو اقلیتی امور کی وزارت کی طرف سے لاگو کی گئی ،جس میں ابتدائی طور پر پہلی جماعت سے لیکر 10ویں جماعت کے اقلیتی طلباء کو دی گئی تھی اور ہر منتخب امیدوار کیلئے 1000 سے 10700 روپئے کے درمیان اسکالرشپ دی جاتی تھی اوراس اسکالرشپ کا 30فیصد حصہ لڑکیوں کیلئے ریزروکیا گیا تھا،مگرموجودہ صورتحال خطرناک ہوچکی ہیں،اس اسکیم کو کلاس 1 سے 8 تک بند کر دیا گیا ہے،اب صرف کلاس 9 اور 10 ویں جماعت کے طلباء کیلئے پری میٹرک اسکالرشپ کو محدود کر د یا گیا ہے ۔ وزارت خزانہ نے مرکزی بجٹ 2023-24 میں اسکالرشپ کے فنڈز میں 900 کروڑ روپئے سے زیادہ کی کمی کر دی — جو گزشتہ سال 1425 کروڑ روپےتھی۔ (2)پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم : یہ اسکالرشپ گیارہویں جماعت اور اس سے اوپر کے طلباء کے لیےیعنی پی ایچ دی تک۔ اس کا مقصد اقلیتی طلباء کو معیاری اعلیٰ تعلیم تک رسائی فراہم کرنا ہے، جس کی اسکالرشپ 2300 سے 15000 روپے تک ہے۔ پری میٹرک کی طرح پوسٹ میٹرک اسکیم کا 30فیسد حصہ بھی لڑکیوں کیلئے ریزرو کیا گیا تھا۔پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کیلئے امسال515 کروڑ روپے سے بڑھا کر 1065 کروڑ روپےکیا گیا ہے ۔ (3)میرٹ کم مینس اسکالرشپ اسکیم :یہ اسکیم 2008 میں شروع کی گئی، اس اسکیم میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطحوں پر پروفیشنل اینڈ ٹیکنیکل کورسس کو اسکالرشپ دی جاتی تھی،جس میںبھی 30فیصدحصہ لڑکیوں کیلئے مختص ہے۔ اسکیم کے تحت 85 انسٹیٹیویشنس میں سے تعلیم حاصل کرنےوالے طلباء کی فیس مکمل طورپر اداکی جاتی تھی اور طلباء کو ہر سال5000 روپےاخراجات کیلئے،جبکہ 10000 روپئے ہاسٹل کی فیس اداکی جاتی تھی۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سال 24-2023کے بجٹ میں ان فنڈزمیں بڑی کمی دیکھی گئی جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 321 کروڑ روپے کی کمی کے ساتھ امسال اسے44 کروڑ روپئے تک محدود کیاگیاہے،پچھلے سال جملہ 365 کروڑ روپئے اس اسکیم کیلئے مختص کئے گئے تھے۔(4) مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ :۔ مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ بھی یو پی اے حکومت کے دورمیں ہی شروع کی گئی تھی،اس اسکالرشپ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے ریسرچ اسکالرز کو پانچ سال کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے ۔جونیئر ریسرچ فیلوز (JRF) کیلئےپہلے دو سالوں کے لیے 31000 روپے کی گرانٹ دی جاتی تھی،جبکہ سینئرریسرچ فیلوز (SRF) کیلئے 35000 روپے ماہانہ دی جاتی ہے۔سال15-2014 سے 22-2021 کے درمیان اس اسکیم کے ذریعے 6700امیدواروں کو فائدہ پہنچا۔ 738.85 کروڑ روپے 2022 میں اس اسکیم کومنسوخ ہونے سے پہلے ادا کیے گئے ۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں سخت مخالفت ہوئی،مگر حکومت نے یہ کہاکہ اس اسکیم کو بندکرکے دوسرے طریقوں سے اقلیتوں کو سہولت دی جارہی ہے جو کہ ایک متنازعہ دعویٰ ہے۔(5)پڑھو پردیش اسکیم : اس اسکیم میں بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنےوالے اقلیتوں کو کم سود پر سبسڈی کے ساتھ قرضے دئیے جاتے تھے،لیکن حکومت نے سال 23-2022 میںبند کردیا گیا تھا ۔ اس اسکیم سے 2006 میں اقلیتوں کی بہبود کیلئے 15 نکاتی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر اپنے آغاز سے لیکر اب تک 20365 طلباء کو فائدہ پہنچایاتھا۔اس کے ساتھ ہی بیگم حضرت محل نیشنل اسکالرشپ کو بھی پوری طرح سے بند کردیاگیاہے۔سرو شکشا ابھیان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں کا سب سے زیادہ تناسب مسلم کمیونٹیز (4.43فیصد) سے ہے، اس کے بعد ہندو (2.73فیصد)، عیسائی (1.52فیصد) اور دیگر (1.26فیصد) ہیں ۔ انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی طرف سے مسلم بچوں کے اسکول چھوڑنے کی حالات پر ایک جائزہ لیاگیاتھا جس میں قومی سطح پر شرح کے مقابلے میں 23.1 فیصد ہے۔ آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن: 2020-2021، جو وزارت تعلیم کے ذریعہ کرایا گیاتھا جس میں اس بات کا نکشاف ہوا ہے کہ مسلم طلباء اعلیٰ تعلیم کے اندراج کے معاملے میں دیگر کمیونٹیز سے نمایاں طور پر پیچھے ہیں ۔ جبکہ مجموعی طور پر اندراج میں 7.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، مسلم طلباء کا داخلہ 20-2019 میں (21 لاکھ) سے کم ہو کر تعلیمی سال 2020-21 میں (19.21 لاکھ) رہ گیا۔ دیگر اقلیتی طلباء کے اندراج میں بھی کمی دیکھی گئی ہے جو پچھلے سال کے 2.3 فیصد کے مقابلے میں 2فیصدتھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کالج کےجملہ 4.13 کروڑ طلباء میں سے 20 لاکھ سے بھی کم مسلم طلباء اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ لے رہے ہیں۔سروے میں اقلیتی نمائندگی کے لحاظ سے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان تقسیم کا بھی انکشاف ہوا، کیرالہ اور تلنگانہ ریاستوں میں مسلم طلباء کے اندراج میں اضافہ دیکھا گیا، جب کہ اتر پردیش اور جموں و کشمیر میں سب سے کم تعداد تھی۔نیتی آیوگ نے 2018 کی اپنی پالیسی میں پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس کے ساتھ ساتھ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپس اور نیشنل اوورسیز اسکالرشپس کو بڑھانے کی تجویز پیش کی، جس میں 20-2019 سے 15 فیصد سالانہ اضافے کی سفارش کی گئی۔ اس نے ہر سال اقلیتی برادریوں کی لڑکیوں کے لیے وظائف کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ کرنے کی بھی سفارش کی۔سنٹر فار بجٹ اینڈ گورننس اکاونٹیبلٹی نے اپنی رپورٹ میں 15 نکاتی پروگرام کے استعمال پر زور دیا ہے تاکہ اقلیتوں کی ترقی کے لیے اپنی مرضی کے مطابق مداخلتیں وضع کی جا سکیں، اقلیتوں پر مرکوز علاقوں اور حلقوں میں ترقیاتی خلا کی نشاندہی کر کےوہاں زیادہ کام کرنے کی تجویز دی گئی تھی،لیکن مرکزی حکومت نیتی آیوگ کے سفارشات کے برخلاف کام کررہی ہے اور پوری کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کسی بھی طرح سے اقلیتوں کے تعلیمی بجٹ میں بہانے بناکر کٹوتی کریں،مطلب صاف ہے کہ سنگھ پریوارکی پشت پناہی پر کام کرنےوالی بی جے پی حکومت اقلیتوں کی بہبودی بالکل بھی نہیں چاہتی۔
