شیموگہ:۔آر ٹی سی بسوں میں خواتین کے مفت سفرکیلئے نافذکئے گئے شکتی اسکیم کی وجہ سے پرائیوئٹ بسوں کی شکتی یعنی طاقت کمزورہوگئی ہے،جس کی وجہ سے پرائیوئٹ بس مالکوں کا جینا محال ہوچکاہے۔اس وجہ سے پچھلے دومہینوں کے درمیان شیموگہ ضلع آرٹی او کے ماتحت آنےوالے187 بسوں نے سرنڈرکیاہے۔ روزبروز کے اخراجات ،ٹیکس اور خسارے کو دیکھتے ہوئے شیموگہ آر ٹی اوکے تحت آنےوالے شیموگہ ،چتردرگہ،داونگیرے،دکشن کنڑا،اُڈپی،چکمگلورو روٹ کے 187 بسوں کو سرنڈرکئے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔مفت سفرکی وجہ سےخواتین پرائیوئٹ بسوں کے بجائے سرکاری بسوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پرائیوئٹ بسوں میں سفر کرنےوالوں کی تعدادمیں بڑی گراوٹ آئی ہے،اس وجہ سے پرائیوئٹ بسیں خسارے میں ہیں۔ڈرائیور،کنڈکٹر اور کلینرکی تنخواہ،ڈیزل اور ٹیکس کا خرچ اور مینٹنس کرنا مشکل ہوچکاہے۔پرائیوئٹ بسوں کے خسارے کی وجہ سے ان بسوں پر منحصرہونےوالے ڈرائیوروں اور دیگر عملے کی زندگی بھی محال ہوچکی ہے،جبکہ سرکاری خزانے کو بھی نقصان ہورہاہے۔
سرنڈرکیاہے؟:۔بسوں کی جملہ سیٹ پر مشتمل بس کو بس مالک ہر تین مہینے میں چالیس ہزار روپئے تک کا ٹیکس اداکرتاہے،اگر بس مالک ان بسوں کو چلانے میں بے بس ہوجاتاہے تو وہ اپنا پرمٹ آر ٹی اوکے حوالے کردیتاہے جس سے پرمٹ ،انشورنس اور ٹیکس کی ادائیگی رُک جاتی ہے۔سرنڈرکی معیادمیں بس کو چلایانہیں جاسکتا،بلکہ تمام دستاویزات آر ٹی اوکے حوالے کرنے کے بعد یہ بس رک جاتی ہیں۔اس طرح کے حالات کوویڈکے دوران ہی پیش آئے تھے،اُس وقت143 بسوں نے اپنا پرمٹ سرنڈرکیا تھا ۔ اس وقت شیموگہ اور داونگیرے ڈیویژن میں بڑے پیمانے پر بسوں کا روکاگیاہے،بس مالکان کا کہناہے کہ حکومت ان کے مسئلے کا فوری حل نکالے،ورنہ بس مالکان کو بھی خودکشی کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔
