دہلی: ڈبلیو ایچ او اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس(ایمس)کے ایک مشترکہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ موجودہ کووڈ 19 وائرس کی ممکنہ تیسری لہر بالغان کی بہ نست بچوں کو زیادہ متاثر نہیں کرےگی۔لائیومنٹ کی رپورٹ کے مطابق، ڈبلیو ایچ او اور ایمس کی تازہ ترین سیرو پریویلنس اسٹڈی سے پتہ چلا ہے کہ سارس۔ سی اووی 2 کی سیرو پازیٹوٹی شرح بالغان کی آبادی کی بہ نسبت بچوں میں زیادہ ہے اس لیے ایسا امکان نہیں ہے کہ مستقبل میں کووڈ 19 کا موجودہ ویرینٹ دو سال اور اس سے زیادہ کی عمر کے بچوں کو تقابلی طور پرزیادہ متاثر کریگا۔ اس سروے میں پانچ منتخب صوبوں سے کل 10000 سیمپل لیے گئے۔ وسط مدتی تجزیےکے وقت نتائج کے لیے ہندوستان کے چار صوبوں کے 4500 شرکاء کے ڈیٹا لیے گئے۔اس سروے سے متعلق مزید نتائج آئندہ دو سے تین مہینے میں آ سکتے ہیں۔ اس سروے کی سربراہی کرنے والے نئی دہلی کے ایمس میں کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر پنیت مشرا نے بتایا کہ مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ جنوبی دہلی کے شہری علاقوں میں سب سے زیادہ سیرو پریویلنس7.74فیصدی ہے۔یہاں تک کہ کورونا کی دوسری لہر سے پہلےجنوبی دہلی میں 18 سے کم عمر کے بچوں میں9.73فیصدی سیرو پریویلنس پائے گئے۔ڈاکٹر مشرا نے کہا، ‘دہلی اور این سی آر (فریدآباد)کے ان علاقوں میں دوسری لہر کے بعد سیرو پریویلنس سب سےزیادہ رہا۔ شایدسیرو پریویلنس کی یہ سطح کورونا کی تیسری لہر سے بچا سکتی ہیں۔سروے میں کہا گیاکہ دہلی کے بھیڑبھاڑ والے علاقوں میں، جہاں پہلے سے ہی بچوں میں بہت زیادہ سیرو پریویلنس ہیں، وہاں اسکول کھولنا بہت زیادہ جوکھم بھرا نہیں ہو سکتا۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران فریدآباد(دیہی علاقوں)میں سیرو پریویلنس3.59 فیصدی ہے، جو دونوں عمر کے گروپ میں لگ بھگ یکساں ہے اور اسے پہلے کیے گئےقومی سروے کے مقابلےبہت زیادہ سمجھا جا سکتا ہے۔گورکھپور(دیہی)میں 2-18عمر کےگروپ میں سیرو پریویلنس بہت زیادہ9.87فیصدی ہے جبکہ یہ 18 سال سے زیادہ عمر کے بچوں میں 3.90فیصدی ہے۔ ان سطحوں کی وجہ سے بچوں کے کورونا کی تیسری لہر سے بچنے کا امکان ہے۔سروے سے پتہ چلا کہ دیہی علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ایک بڑی آبادی کےمتاثر ہونے کا زیادہ خدشہ ہے۔کل ملاکر سروے میں شامل دیہی آبادی کے آدھے سے زیادہ(3.62 فیصدی)میں قبل میں انفیکشن کے ثبوت ملے ہیں۔
