بنگلورو:۔ریاستی وزیر ضمیر احمد خان نے کہا ہے کہ جنتا دل سیکولر جے ڈی (ایس) کے کئی رہنما جو بی جے پی جے ڈی (ایس) کے تعلقات سے غیر مطمئن ہیں اور جے ڈی ایس کے متعدد رہنماء ہمارےرابطے میں ہیں اور انہیں جلدہی پارٹی میں شامل کیا جا ئیگا ۔ ضمیر احمدنے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی جے ڈی ایس کے اتحاد سے غیر مطمئن، رام نگر، چن پٹن، ہاسن، منڈیا اور دیگر اضلاع اور تعلقہ جات کےجے ڈی ایس لیڈران جو سیکولرذہنیت رکھتے ہیں وہ کانگریس کے رابطے میں ہیں اور انہیںجلدہی پارٹی میں شامل کیا جائیگا،جس کیلئے کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار کی تجویز اور رہنمائی کے مطابق ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا جہاں جے ڈی ایس لیڈروں کو کانگریس پارٹی میں شامل کیا جائے گا۔ضمیراحمد نے مزید کہاکہ جے ڈی (ایس) نے سی ایم ابراہیم کوصرف نام کیلئےریاستی صدر بنایا تھا ،جس سے یہ بات صاف ظاہرہوتی ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ کمارسوامی مسلم کمیونٹی سے کتنی نفرت کرتے ہیں،اگر وہ سیکولر ذہنیت رکھتے تو سی ایم ابراہیم کو دہلی میں اتحاد کی بات چیت کے بارے میں اطلاع دیتے ، کمار سوامی شروع سے ہی مسلم کمیونٹی سے نفرت کرتے ہیں۔بی ایم فاروق کو 2018 میں کانگریس پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت کے دوران وزیر کے طور پر مقرر نہیں کیا گیا تھا، جبکہ ریاستی کابینہ میں تین عہدے خالی تھے ، لیکن کمار سوامی نے رام سوامی اور کپیندر ریڈی کو امیدوار نامزد کیا لیکن الیکشن ہارنے کے بعد بی ایم فاروق کو امیدوار نامزد کیا گیا، جس کا قصور کانگریس پر لگایا گیا۔ انتخابات سے پہلے کمارسوامی نے اعلان کیا تھا کہ اگر جے ڈی ایس دوبارہ اقتدار میں آتی ہے، تو مسلم ایم ایل اے کو نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ بنایا جائے گا۔ ریاستی کابینہ میں تین اسامیاں ہونے کے باوجود فاوق کو وزیر کیوں نہیں بنایا گیا؟ جب پارٹی کے پاس راجیہ سبھا انتخابات جیتنے کا ہر موقع تھا، رام سوامی اور کپیندر ریڈی کو امیدوار بنایا گیا۔ لیکن اسی پارٹی نے الیکشن ہارنے پر فاروق کو اپنا امیدوار بنایا اور اس کے لیے کانگریس پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بی جے پی نے حجاب، اذان اور حلال کے معاملے پر مسلم کمیونٹی کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ فاروق نے یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد اتحاد کا کیسے دفاع کیا۔
