چامراج نگر:۔شیموگہ میں ہونے والے فسادات کیلئے وزیر اعلیٰ سدرامیااور وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشورکی پشت پناہی حاصل ہے۔یہ الزام مرکزی وزیر برائے زراعت شوبھا کروندلاجےنے لگایا ہے ۔ انہوں نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہندوئوں کی توہین کرنے کیلئے میلادمنایاگیاہے،شیموگہ میں میلاد کے دوران ہتھیارپکڑکر جلوس نکالاگیا ، پتھرائو ہوا ہے،فسادات کی ویڈیو زخفیہ کیمروں میں قیدہوچکی ہیں،لیکن پولیس خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی تھی۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے سیاست ہورہی ہے،مسلمانوں کے ووٹوں سے کانگریس نے135 اسمبلی حلقوں میں جیت حاصل کی ہے ۔ سدرامیانے اس سے پہلے بھی ٹیپوجینتی کرتے ہوئے ہندوئوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑکیاتھا،ٹیپوجینتی کے دوران کُٹپا کا قتل ہوا تھا ، اب اسی طرح شیموگہ میں بھی حالات پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میلاد کاجشن ایک ہی دن منعقدکیاجانا تھا ، لیکن کرناٹک میں ہر دوسرے دن میلاد کا جلوس نکالاجارہا ہے ، مڑکیری میں ٹیپو جینتی کے موقع پر کُٹپاکے قتل کے دوران کیرلااور بھٹکل سےلوگوں کو بُلایا گیاتھا،ایسے ہی شیموگہ میں ہورہا ہے ۔ ریاست میں اورنگ زیب حکومت چل رہی ہے،اگر ہندوئوں کے ساتھ یہی رویہ رہاتو ہندو چپ نہیں بیٹھیں گے۔ مسلمانوں کیلئے نمونہ اورنگ زیب اور ٹیپونہ ہوں بلکہ وہ محمد پیغمبرؐ اور اے پی جے عبدالکلام ہونا چاہیے۔
