انکولہ:۔ اپنے اشتعال انگیز بیانات سے منافرت پھیلانے والے چکرورتی سولیبیلے نے انکولہ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ مسلمانوں کی حمایت سے اقتدار پانے کی بات کہتے ہوئے جب پوری ریاستی حکومت مسلمانوں کی پشت پر کھڑی ہو تو پھر شیموگہ میں جو واقعہ ہوا ہے ایسے واقعات انکولہ، کاروار سمیت ریاست میں کہیں بھی رونما ہوسکتے ہیں ۔ سولیبیلے نے کہا کہ شیموگہ میں مسلمانوں نے ناخوشگوار حالات پیدا کرنے کے لئے الگ الگ طریقے سے ہندووں کو اکسانے اور اشتعال دلانے کی کوشش کی تھی مگر ہندووں نے اس پر رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا ۔ اسی وجہ سے اب انہوں نے پولیس کے ساتھ مل کر کھیل کھیلا ہے ۔ اس پر سوچیں محسوس ہوتا ہے کہ فساد برپا کرنا ہی مسلمانوں کی عام ذہنیت ہے ۔ سولیبیلے نے الزام لگایا کہ فسادیوں کو تحفظ فراہم کرنے والے وزیر ضمیر احمد خان ہیں تو انہیں چھڑانے کے لئے مراسلہ بھیجنے والے وزیر داخلہ (ڈاکٹر پرمیشور) ہیں ۔ مسلمانوں کو دس ہزار کروڑ روپے فنڈ دینے والے وزیر اعلیٰ ہیں ۔ اسی وجہ سے ریاست میں اس طرح کے واقعات رو نما ہو رہے ہیں ۔ شمالی کینرا سے پانچ مرتبہ جس شخص کو رکن پارلیمان منتخب کیا گیا اس سے علاقے میں کوئی ترقی نہ ہونے کا جو تاثر ہے اس پر سولیبیلے نے کہا کہ یہ سوچنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہماری طرف چنے گئے رکن پارلیمان سے دیش کو کیا فائدہ پہنچا ہے ۔ ڈیجیٹل مالی لین دین ، دفعہ 370 کی منسوخی جیسے مسائل میں ہماری طرف سے دی گئی رکن پارلیمان کی ایک نشست بہت ساری تبدیلیوں کا سبب بنی ہے ۔ جب چکرورتی سے پوچھا گیا کہ بہت ساری تبدیلیوں کا سبب بننے کے باوجود کیا ضلع کے لئے ایک ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل قائم کرنا ایم پی کے لئے ممکن نہیں ہو سکا ؟ تو اس کے جواب میں سولیبیلے نے کہا کہ ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل قائم کرنا ریاستی حکومت کا کام ہے ۔ اس تعلق سے جس وقت بات چیت چل رہی تھی اسی وقت حکومت بدل گئی ۔ آئندہ لوک سبھا انتخاب میں ضلع سے امیدوار بننے کے بارے میں پوچھے جانے پر سولیبیلے نے گول مول سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اتر کنڑا ضلع سے پارلیمانی امیدوار بننے کے لئے اس سے قبل دو مرتبہ میرا نام سامنے آیا تھا ۔ مگر اس پر میں نے دھیان نہیں دیا ۔ صرف دیش کی تعمیر کی طرف ہی میرا رجحان ہے ۔ پوری اہلیت اور قابلیت کے ساتھ ملک کو چلانے والے مودی کی جیت یقینی بنانا ہمار مقصد ہے ۔
