سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ ختم،کئی اراکین کا حماس حملے کی مذمت سے انکار; اسرائیل نے دیاغزہ کی مکمل گھیرابندی کا حکم،غزہ کی 23 لاکھ کی آبادی کا پانی تک بند؛اب تک1100 افراد ہلاک

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
غزہ:۔اسرائیل فلسطین کشیدگی کےسلسلے میں آج اقوام متحدہ کی سلامتی کائونسل کااجلاس بلایا گیاتھا ، لیکن اس ہنگامی اجلاس کا نتیجہ نہیں نکل سکا،نہ ہی کوئی قرار داد اس سلسلے میں پیش کی گئی،بیشتر اراکین نے حماس کی طرف سے کئے گئے حملے پر بھی مذمت کرنے سےانکار کیا ہے ۔ اسرائیل نے سلامتی کائونسل کےاراکین سے مطالبہ کیاتھا کہ وہ حماس کے حملے کی مذمت کریں لیکن اس مطالبے کا اراکین پر کوئی اثرنہیں ہوا،جبکہ امریکہ نے سلامتی کائونسل کے اجلاس میں اتفاق رائے نہ ہونے پر افسوس کا ظاہر کیا ہے،وہیں روس نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پرزوردیتے ہوئے کہاکہ اسرائیل اور فلسطین اپنے معاہدوں پر برقراررہیں۔وہیں چین نے بھی اپنی تشویش کا اظہارکیاہے۔دریں اثنا سعودی عرب نے اسرائیل اور حماس کی لڑائی پر امریکا، یورپی یونین سمیت کئی ممالک سے رابطے کئے ہیں۔ پوپ فرانسس نے اسرائیل اور حماس سے کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیاہے۔ یمن، کویت، ایران، عراق، ترکیہ، اردن، لبنان اور دیگر مسلم ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔سعودی ورزات خارجہ نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر کہاہے کہ یہ سب اسرائیلی زیادتیوں کانتیجہ ہے،ہم نے اس سے پہلے بھی انتباہ دیاتھاکہ اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز آئے،لیکن اسرائیل اپنی حرکتوں سےباز نہ آیا جس کی وجہ سے فلسطینی مجاہدین نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔ کویت نے فلسطینی عوام کیلئے فوری امدادفراہم کرنے کا فیصلہ کیاہے اور وہ اپنے شہریوں اور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ زدہ فلسطینیوں کیلئے بڑھ چڑھ کرامداد فراہم کرے ۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غزہ میں78 بچوں اور43 خواتین سمیت 400 سے زاید فلسطینی شہیدہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں امریکی صدر جو بائیڈن نے حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کو اضافی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ حماس کے حملوں کے بعد اضافی امریکی فوجی امداد اسرائیل کے لیے جا رہی ہے۔ اس میں سے زیادہ حصہ آنے والے دنوں میں اسرائیل پہنچ جائے گا۔اسی دوران اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلینٹ نے پیر کے روز غزہ پٹی کی ’مکمل گھیرابندی‘ یعنی مکمل محاصرے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی سیکورٹی فورس (آئی ڈی ایف) نے حماس گروپ کے ساتھ جنگ کے تیسرے دن ساحلی علاقہ کے آس پاس کے سبھی مقامات پر پھر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اسرائیلی وزیر دفاع گیلانٹ نےکہاکہ اسرائیلی حکومت کے فیصلے کے مطابق غزہ کی پٹی پر آباد 23 لاکھ فلسطینیوں جن میں خواتین اور بچوں کی بھی بہت بڑی تعداد شامل ہے کی ناکہ بندی کو مزید سخت کرتے ہوئے خوراک پانی ، گیس اور بجلی سمیت ضرورت کی ہر چیز کی فراہمی کی فراہمی بلاک کر دی ہے۔وزیر دفاع کے بیان کے مطابق اب غزہ کا محاصرہ پہلے سے بھی زیادہ جامع اور مکمل ہے۔ سب کچھ غزہ میں رہنے والوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ پانی ، خوراک، بجلی ،گیس سمیت ہر چیزکا غزہ پہنچنا ناممکن بنا دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بیان اپنے ایک ویڈیو ذریعے دیا ہے۔واضح رہے ہفتے کے روز حماس کے بد ترین حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے تیسرے روز بھی اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں کی بمباری جاری رہی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اب تک اسرائیلی بمبار طیاروں نے 100 مقامات کو غزہ میں بمباری کا نشانہ بنایا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ دوسری جانب حماس نے بھی راکٹ حملے جاری رکھے۔پیر کی صبح اسرائیلی طیاروں نے دو مزید مساجد کو بھی بمباری سے شہید کر دیا۔ جبکہ اتوار کے روز بھیایک مسجد پر بمباری کی گئی تھی۔غزہ سےمتعلق سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کی جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اندھا دھند بمباری کے بعد فلسطینی جمع ہیں۔ یہ بمابری پیر کے روز کی گئی ہے۔العربیہ اور الحدث کی رپورٹس کے مطابق پیر ہی کی صبح اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی دومزید مساجد پر بمباری کی۔ اس سے قبل خان یونس کے علاقے میں آٹھ اکتوبر کو اسرائیلی طیاروں نے ایک مسجد کونشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں فلسطینیوں نے مسجد کے تباہ کیے جانے کے اس واقعے کا جائزہ لیا اور بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔وہیں حماس نے اسرائیل پر بڑی تعداد میں راکٹ داغے۔ حماس کے اس حملے میں 700 سے زیادہ اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ وہاں ہزاروں لوگ زخمی ہیں۔ حماس کے اس حملے کا اسرائیلی فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ اب تک 450 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے اتوار کو باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو اتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ امریکہ نے اسرائیل کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم حماس نے امریکہ کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ جنگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ حماس نے ہفتے کی صبح اسرائیل پر حملے شروع کر دیے۔ اس بڑے حملے میں اب تک 1100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں 700 سے زائد اور فلسطین میں 450 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کئی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیلی شہریوں کو حماس کے نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ نیز حماس کے لوگ گھروں میں گھس کر حملے کر رہے ہیں۔