داونگیرے:۔پچھلے دنوں یہ بات میڈیا کی سرخیوں میں گشت کرتی ہوئی دیکھی گئی کہ داونگیرے جنوب اسمبلی حلقہ کے رُکنِ اسمبلی و سابق ریاستی وزیر ڈاکٹر شامنور شیوشنکرپا نے اپنے سماج (لنگایت طبقہ)کے افسران کے ساتھ ریاستی حکومت کی جانب سے ناانصافیوں کا ذکر کیا ،یہ اُن کی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ آل انڈیا ویراشیوا لنگایت سماج کے صدر ہیں اور اُن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ حکومت کسی بھی ہو اگر اُن کے اپنے سماج کو اور سماج سے جڑے افسران کو اگر کوئی پریشانی ہورہی ہو تو وہ اُن کے حق میں آواز اُٹھائیں ،مگر جن طبقات نے اُنہیے اپنے تعاؤن اور ووٹوں کے ذریعہ ایوان اسمبلی تک پہنچایا اُن طبقات کی بھی وہ آوزا بنیں کہ وہ ریاستی اراکین اسمبلی میں ایک بہت ہی عمر رسیدہ رکن اسمبلی ہیں کسی بھی پارٹی کی حکومت کیوں نا ہو ہمیں اُمید ہے اُن کی بات پر توجہ ملے گی ،اِن خیالات کا اظہار سابق ریاستی پلاننگ کمیشن ممبر و سماجی کارکن داکٹر سی آر نصیر احمد نے شہر میں اُردو اخباری نمائندہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتلائی اور مزید زور دے کر ڈاکٹر شامنور شیوشنکرپا سے سی آر نصیر احمد نے کہا اپنے حلقہ انتخاب کا بھی جائزہ لیں کہ یہان لوگوں کی کیا ضروریات ہیں ،پاکی صفائی کا نطام پوری طرح ناکام ہے اسمارٹ سٹی اسکیم سے اس علاقہ میں جہان اکثریتی مسلم طبقہ جو شامنور شیوشنکرپا کا ووٹ بینک کہلاتا ہے قیام پذیر ہے جو کام ہونا تھا وہ نا ہوسکا دوسرا رنگ روڑ کا کام یوں ہی اٹکا ہوا ہے اس کام کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانا بھی شیوشنکرپا اپنی ذمہ داری سمجھیں ورنہ تمام طبقات بالخصوص مسلم اقلیتی طبقہ کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد صرف اور صرف لنگایت طبقہ کی اور اس سماج سے جڑے افسران کی فکر کرنا عمر کے آخری حصہ میں ذات پات کے نام نفرت کو اپنے اندر ظاہر کرتا ہے،یہ الگ بات ہے مسلماں آپ کو ووٹ دے رہے ہیں اس کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں مگر اس کو کمزوری تصور کرنا بھی ٹھیک نہیں ،مسلسل سات مرتبہ اسی حلقہ سے منتخب ہونے والے شامنور شیوشنکرپا کو چاہیئے اپنے سماج کے افسران کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے تعلق سے جس طرح بے خوف ہوکر بات کی اسی طرح دیگر طبقات کے حقوق کی بازیابی کے لئے بھی کھڑا ہونا شخصیت میں مزید نکھار پیدا کرسکتا ہے۔
