شیموگہ:۔بی جے پی کے سابق وزیراعلیٰ سمیت تیس سے زائدبی جے پی کے اور جےڈ ی ایس کے لیڈران عنقریب کانگریس پارٹی میں شامل ہونے جارہے ہیں،بی جے پی کی بدحالی کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتاہے کہ پارٹی کے سینئرلیڈراور رکن پارلیمان سدانندگوڈانے حال ہی میں پارٹی کی بدحالی کے تعلق سے کھلے عام بیان دیا ہے ۔اس بات کااظہار کے پی سی سی کے ترجمان آئینور منجوناتھ نے کیا ہے ۔ کےپی سی سی کے ترجمان بننے کے بعد پہلی بار پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ آپریشن کانگریس نہیں ہے بلکہ بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ سمیت کئی اراکین اسمبلی اور لیڈران کانگریس میں شامل ہورہےہیں،کئی لیڈروں نے کانگریس پارٹی کے لیڈروں سے رابطہ بھی کیا ہے ، اس کا انکشاف جلد ہوگا۔ریاست میں بی جے پی کھوکھلی ہوتی جارہی ہے،اسمبلی اور لیجسلیچر میں ان کا اپوزیشن لیڈربھی نہیں ہے،انہیں اپوزیشن لیڈر بنانے کی بھی صلاحیت نہیں ہے۔شیموگہ کے ایک چھوٹے سے محلے میں ہونےوالے پُر تشددکو نبھانے میں پولیس نے اچھا کرداراداکیاہے،اس سے شہرمیں امن بحال ہواہے ، لیکن ایشورپاکو شیموگہ میں امن قائم ہونااچھانہیں لگ رہاہے،اس وجہ سے وہ مسلسل اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں۔چالیس سے وہ سیاست میں ہیں مگر اپنے تجربے کا استعمال کرتے ہوئے شہرمیں امن قائم کرنے کے بجائے بدامنی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں،اس طرح کا کام ان کیلئے زیبہ نہیں دیتا۔اگر بی جے پی کے لیڈران اپنے کارکنوں کو تلوار دینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے بچوں کے ہاتھوں میں تلوار دیکر سڑکوں پر اتاریں ، اُس وقت قانون کیاکرسکتا ہےیہ معلوم پڑیگا۔ایشورپا عہدوں سے برطرف ہونے کے باوجود بھی پولیس سیکوریٹی میں گھوم رہے ہیں ، اپنے کارکے سامنے ایسکارٹ لیکر گھومنےوالے ایشورپاکو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو تبدیل کریں،تو انہیں جان سے مارنے کی کوئی دھمکی نہیں دیگا ۔ دبئی سے دھمکی آنے کی بات کرنےوالے ایشورپاکا معاملہ کہاں تک پہنچا اس بات کی بھی پولیس وضاحت کرے۔ پریس کانفرنس میں ڈی سی سی کے صدر ایچ ایس سندریش ، کے پی سی سی رکن وائی ایچ ناگراج،میڈیاکوآرڈینٹر چندر بھوپال ، سابق کائونسلر مختاراحمد،شی جو پاشاہ وغیرہ موجودتھے۔
