کنداپور:۔ سڑک حادثے کا شکار ہونے والی ایک غریب اور نوجوان لڑکی کا فوجی افسر بننے کا سنہرا خواب چکنا چور ہوگیا کیونکہ ڈاکٹر کی غلط تشخیص اور علاج نے اسے پاوں سے معذور کر دیا ۔بتایا جاتا ہے کہ کنداپور تعلقہ کے ہیبری کے رہنے والے ایک روزانہ مزدوری کرنے والی باپ سدھاکر پجاری کی بیٹی چئیترا 15 ستمبر2021 کو سڑک حادثے کا شکار ہوئی اور اس کے پاوں اور گھٹنے میں چوٹ لگی تو اسے کنداپور سرکاری ہاسپٹل میں ابتدائی طبی امداد کے بعد شہر کے ایک مشہور ہاسپٹل میں معروف ہڈیوں کے ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے داخل کیا گیا ۔ مگر ڈاکٹر نے چوٹ کی سنگینی، گھٹنے کی ہڈی میں آئے فریکچر اور اس کے پاوں کی نس کو پہنچے ہوئے نقصان کو نظر انداز کیا اور صرف باہری زخم پر ٹانکے لگا دئے ۔ اس طرح دو ہفتے سے زیادہ اسے اسپتال میں رکھ کر علاج کیا گیا ۔چئیترا کہتی ہے کہ تین چار مہینے گزرنے کے بعد بھی اس کے پیر میں درد کم نہیں ہو رہا تھا اور چلنے میں بہت زیادہ دشواری ہو رہی تھی ۔ اس کے علاوہ پاوں کی چمڑی کا رنگ بھی کالا پڑتا جا رہا تھا ۔ لیکن کنداپور کے نجی اسپتال کے ڈاکٹر نے درد کم کرنے والی دوائیاں تجویز کرتے ہوئے بار بار یہی تسلّی دی کہ دھیرے دھیرے سب ٹھیک ہو جائے گا ۔اس کے بعد چئیترا نے اڈپی کے ایک مشہور اسپتال میں اپنا معائنہ کروایا تو وہاں کے ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی گھٹنے کی ہڈی میں فریکچر ہے جس کا فوری طور پر آپریشن کیا گیا ۔ لیکن آپریشن کے چھ سات مہینے گزرنے کے بعد ہی پیر کا درد کم نہیں ہوا الٹے سرجری کے بعد چئیترا کے لئے چلنا پھرنا بھی دوبھر ہوگیا ۔ چئیترا کے مطابق اس کے بعد منگلورو کے مشہور ہڈیوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کروایا گیا تو اس نے بتایا کہ گھٹنے کے اندر کسی دھات کا ٹکڑا اور ہڈی کے ٹکڑے موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ اس کے پاوں کے نسیں بری طرح زخمی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے اس کے پاوں کی تین انگلیاں کام نہیں کر رہی ہیں ۔ اب اس کے لئے پھر سے آپریشن کرنا ہوگا ۔ جس کے لئے مزید 2.5 لاکھ روپوں کا خرچ آئے گا ۔چئیترا کہتی ہے کہ اگر کنداپور میں ڈاکٹر نے صحیح تشخیص کی ہوتی اور اس کا علاج کیا گیا ہوتا تو آج اس کی یہ درگت نہیں ہوتی ۔ ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے میں اپنے ایک پاوں سے مستقل طور پر معذور ہوگئی اور ایک فوجی بننے کا میں نے جو خواب دیکھا تو اس کے لئے تربیت بھی لے رہی تھی ، اب وہ خواب پوری طرح چکنا چور ہوگیا ہے ۔
