دہلی؛۔فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا آج 12واں دن ہے،اس جنگ کے تعلق سے دنیابھرکی میڈیا مسلسل رپورٹنگ کررہی ہےاور اس رپورٹنگ میں 99 فیصد ایسی رپورٹنگ ہورہی ہے جو اسرائیل کی حمایت میں ہے اور غزہ میں ہورہی فلسطینیوں کے قتلِ عام کے تعلق سے محض ایک فیصدہی خبریں میڈیا پیش کررہاہے۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسرائیل فلسطین کے خلاف میڈیا کو جنگ کیلئے استعمال کررہاہے اور مسلسل فلسطینی مجاہدین کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کیلئے کرایہ کے رپورٹرس کا استعمال کررہاہے۔اسی کام کیلئے بھارت سے بھی100 کے قریب رپورٹرس کو اسرائیلی حکام نے اپنے اخراجات پر اسرائیل کا دورہ کروایاہے،جہاں سے کئی رپورٹرس مسلسل اسرائیل کی تعریف کے پُل باندھ رہے ہیں تو فلسطینی عوام کے درد کو چھپارہے ہیں۔بھارت کے خود ساختہ نیشنل میڈیاکے کئی رپورٹرس اس وقت تل ابیب کے ایک ہوٹل میں قیام کئے ہوئے ہیں او روہ ہوٹل میں ہی رہ کر گرائونڈ رپورٹنگ کا حوالہ دے رہے ہیں اور ان کی رپورٹنگ پر اسرائیلی فوج کی نظربھی ہے۔کرناٹک کے سورنا ٹی وی کے ایڈیٹر اجیت ہنومکانوار بھی انہیں کرایہ کے رپورٹرس میں سے ہیں جو اسرائیل سے گرائونڈ رپورٹ کرنے کی بات کررہے ہیں۔اسرائیل نے ان رپورٹرس کو معقول سہولیات دیتے ہوئے رپورٹنگ کاموقع دیاہے اور کرایہ کے یہ رپورٹرس باضابطہ طورپر اسرائیل کی حمایت میں کام کررہے ہیں۔کچھ لوگوں کا سوال یہ ہے کہ آخر فلسطین کی رپورٹنگ کا فائدہ بھارت کی عوام کو کیسے ہوگا؟۔ماہرین کا کہناہے کہ بھارت میں الجھے ہوئے مسائل پر پردہ ڈالنے کیلئے اسرائیلی حکام اور بھارت کی بی جے پی آپس میں اس کھیل کو کھیل رہے ہیں اور یہاں کے مسائل کو چھپانے کیلئے مسلسل اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کو میڈیامیں پیش کررہے ہیں۔حالانکہ اسی طرح کے حالات بھارت کے منی پورمیں پیش آئے تھے،جہاں پر پورے دومہینوں تک مسلسل نسل کشی ہوئی اور اس نسل کشی کو کسی بھی میڈیانے اپنے اسپیشل کواریج میں جگہ نہیں دی،نہ ہی کوئی نیشنل میڈیاکا رپورٹر گرائونڈ رپورٹنگ کیلئے منی پورجانے کی زحمت گواراسمجھا۔واضح ہوکہ گودی میڈیاکااستعمال کرتے ہوئے نہ صرف فلسطین کے حماس کو بدنام کیاجارہاہے بلکہ بھارت کے مسلمانوں کو بھی اس کے ذریعے سے ٹارگیٹ کیا جارہاہے۔بعض میڈیاحماس کے اچانک حملوں اور بھارت کے مسلمانوں کے ذریعہ ممکنہ حملوں کو جوڑکر بھارت کے غیر مسلم برادری میں مسلمانوں کے تعلق سے شبہات پیداکرنے کا کام کررہے ہیں۔ظاہرسی بات ہے کہ جب میڈیاکو کرایہ پر لیاجائے تو میڈیاکرایہ دینےوالے کی ہی بولی بولے گا۔
