خزانے پر سے جن اُتارنے کیلئےچراغ کو گھسنا ہوگا; اوقافی اداروں کے مال کو خرچ کرنے کیلئے کمیٹیاں بالکل نہیں ہیں تیار

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز

شیموگہ: ۔ایک طرف لاک ڈائون کو ان لاک کرنے کی تیاری ہورہی ہے تو دوسری طرف اب بھی عام لوگ مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ خصوصاً میڈل کلاس طبقہ ان مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ مگر اس میڈل کلاس طبقے کی امداد وتعاون کیلئے کوئی مستقل منصوبہ نہیں ہے اورنہ ہی لوگ اس سمت میں کام کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس وقت جہاں کرناٹکا وقف بورڈ نے اپنے اوقافی اداروں کے صدر سکریٹری، متولی اوراڈمنسٹریٹرس کوکم وبیش ایک ماہ قبل ہی ہدایت جاری کی تھی کہ وہ اپنے اداروں کی آمدنی میں سے معقول رقومات کا استعمال کرتے ہوئے کوویڈ سے متاثر ہونے والے افراد کی امداد کریں، کوویڈ کےسنٹرس کا قیام کرےاور لوگوں کے مشکلات میں ہمدرد بن کررہیں۔لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اوقافی اداروں کے صدر ، سکریٹری، متولیان اور اڈمنسٹریٹر وقف کے مال پر خزانے کے جِن یا پھر خزانے کے سانپ کی طرح لپیٹ کر بیٹھے ہوئے ہیں اوراسے خرچ کرنے کیلئے انکا دل بالکل بھی نہیں ہورہاہے۔ سب کی کوشش یہ ہورہی ہے کہ خدمت کرینگے لیکن جھولی میں ہاتھ نہیں ڈالیں گے۔اس وقت مفت میں کام کرنے والے لوگ بہت ہیں، رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے کیلئے الگ الگ تنظیمیں کام کررہی ہیں،لیکن مال خرچ کرنے کیلئے اوقافی اداروں کو آگے آنا چاہیے تھا ، اطلاعات کے مطابق کئی اداروں میں لاکھوں روپیوں کی بچت رقم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بچت رقم کا کیاکیاجارہاہے۔کیا بچت رقم دکھا کر اپنے آپ کو مالدار ادارہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہےیا پھر اس مال کو اپنے باپ کا مال سمجھاجارہاہے۔وقف اداروں کو کی آمدنی میں سے فلاحی کاموں کیلئے30 فیصد رقم خرچ کی جاسکتی ہے،مگر افسوس کی بات ہے کہ اس رقم کو خرچ کرنے کیلئے قوم مسلم نے کوئی منصوبہ نہیں کی ہے۔آخر سوال یہ ہے کہ لاکھوں روپیوں کی بچت کو یہ لوگ کس لئے استعمال کررہے ہیں اور ان کا مقصدکیاہے اور کس طرح سے یہ لوگ اس رقم کو آگے خرچ کرینگے۔جو لوگ اوقافی مال کو بچا کر بینکوں میں محفوظ کرنا چاہ رہے ہیں اُن اداروں کے ذمہ داروں سے قومِ مسلم سوال کرتی ہے توشائد خزانہ پر کاجِن اتر سکتا ہے۔