غزہ: غزہ میں اسرائیلی بربریت کے باعث شہید فلسطینیوں کی تعداد 3900 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تقریبا 14000 زخمی ہیں، اسپتالوں میں مریضوں کیلئےسہولتیں ختم ہوچکی ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے اسپتالوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کو زمینی کارروائی کیلئے گرین سگنل دے دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی جانب سے عرب اور مسلم دنیا سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب مارچ کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو صیہونی جارحیت سے محفوظ بنایا جاسکے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے رفاح میں گھروں پر بھی بمباری کی گئی ہے، جس کے باعث 33فلسطینی جام شہادت نوش کرگئے ہیں، اسرائیلی طیاروں نے الزیتون کے علاقے میں آرتھو ڈوکس چرچ کو بھی نہ بخشا جہاں بے شمار افراد نے پناہ لی ہوئی تھی۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے غزہ میں انفرااسٹرکچر کو تاریخی نقصان پہنچا ہے، ایک لاکھ کے قریب یونٹس تباہ ہوچکے ہیں۔غزہ پر کی جانے والی وحشیانہ اسرائیلی بمباری کے بعد اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں 25 فیصد رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں صحت کے سہولت مراکز پر 59 حملوں کے ثبوت موجود ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے 17 اسپتالوں اور 23 ایمبولینسز کو نشانہ بنایا۔ صحت کے مراکز پر حملوں میں مجموعی طور پر 491 افراد مارے گئے۔صہیونی قابض افواج نے جمعہ کی صبح اعتراف کیا کہ طوفان الاقصیٰ معرکے کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد میں گذشتہ روز کے مقابلے میں 200 سے زائد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ قابض فوجیوں اور آباد کاروں کی مزید لاشیں ملی ہیں۔ غزہ کے اطراف سے ملنے والی لاشوں کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے آباد کاروں کی تعداد 1500 سے تجاوز کرگئی جب کہ بے گھر ہونے والوں کی تعداد 50 لاکھ تک پہنچ گئی۔ آج جمعہ کو قابض فوج کے ریڈیو نے انکشاف کیا کہ غزہ کی پٹی میں کیبوتیز میفلاسیم کی باڑ کے پیچھے فوجیوں اور آباد کاروں کی 3 نئی لاشیں ملی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اسرائیل کے اندر ایک شوری کمپلیکس میں منتقل کیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزارت صحت نے کہا کہ 7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز سے اب تک زخمیوں کی تعداد 4834 ہو گئی ہے، جن میں 48 کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔ کل وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ "جمعرات تک ہسپتالوں میں منتقل کیے گئے زخمیوں کی تعداد 4629 تک پہنچ گئی، جن میں سے 12 کی حالت تشویشناک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 24 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں 200 سے زیادہ نئے زخمی سامنے آئے ہیں۔ یہ ایسی معلومات ہیں جنہیں قابض افواج ظاہر نہیں کرتی ہیں۔ عبرانی میڈیا کے مطابق صہیونیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 1500 سے زائد ہے جن میں 300 سے زائد قابض فوجی اور افسران بھی شامل ہیں۔ آخری گھنٹوں میں مزید لاشوں کے سامنے آنے کے بعد شدید زخمیوں کی موجودگی سے یہ تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ فلسطین اور جنوبی لبنان کے مزاحمتی میزائلوں نے غزہ کی پٹی اور شمالی مقبوضہ فلسطین کے اطراف کی بستیوں سے نصف ملین سے زائد صیہونیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔ مزاحمت کاروں کی جانب سے مخصوص بستیوں پر شدید حملے کیے جانے کے بعد قابض فوج اور آباد کاروں کو ان کالونیوں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ قابض فوج نے سدیروت اور اشکلون کی بستیوں، غزہ کی پٹی کے اطراف کی بستیوں اور مقبوضہ لبنان فلسطین سرحد سے 5 کلومیٹر سے زیادہ کی گہرائی میں آبادیوں کو خالی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ القسام بریگیڈز طوفان الاقصیٰ کے سات اکتوبرہفتے کی صبح شروع کی گئی لڑائی میں دشمن کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا تھا۔صیہونی ٹی وی چینل کان نے کہا ہے کہ اسرائيل بحرین، اردن ، مراکش اور مصر میں اپنے سفارت خانے خالی کر رہا ہے۔دوسری جانب لبنان میں امریکہ کے سفارت خانے نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ فوری طور پر اس ملک سے نکلنےکی پلاننگ کریں ۔ اس سے قبل بیروت میں واقع برطانیہ اور سعودی عرب کے سفارت خانوں نے بھی اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ لبنان سے نکل جائيں۔صیہونی حکومت اس سے قبل ترکیہ میں اپنا سفارت خانہ خالی کر چکی ہے۔لبنان کے سرحدی علاقوں پر صیہونی حکومت کی جارحیت میں شدت آنے کے ساتھ ہی حزب اللہ نے بھی مقبوضہ علاقوں پر اپنے حملے تیز کر دیئےہیں۔
