50 ہزار حاملہ خواتین اور 50 ہزار نئے مہمانوں کی زندگیاں بھی خطرے میں

غزہ:۔ جمعہ کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی فضائی، زمینی اور سمندری راستے سے مسلسل پرتشدد بمباری کا اٹھائیسواں دن ہے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے آج جمعہ کو بتایا کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 9227 فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں 3826 بچے بھی شامل ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 23000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ عالمی ادارہ اطفال ’یونیسف‘ نے کہا ہے کہ غزہ پٹی بچوں کا قبرستان بن چکی ہے۔تازہ ترین میدانی پیشرفت میں العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے غزہ کی پٹی کے ارد گرد اسرائیلی قصبوں اور بستیوں پر آج دوبارہ راکٹ کی بمباری کی اطلاع دی ہے۔فلسطینی میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیلی کشتیوں نے وسطی غزہ کی پٹی میں غزہ سٹی کے شمالی علاقوں پر گولہ باری کی۔ وسطی غزہ کی پٹی میں المغازی کیمپ اور النصر محلے پرتشدد اسرائیلی بمباری کی گئی، جب کہ العربیہ اور الحدیث نے غزہ شہر کے شمالی علاقوں پر بمباری کی۔ ذرائع نے تل الھوا میں رہائشی ٹاورز پر مسلسل اسرائیلی حملوں کی اطلاعات ہیں۔دوسری جانب غزہ کے الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اسپتال کا مین الیکٹریکل جنریٹر بند ہوگیا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ اسپتال کے بعض شعبوں میں ایندھن کی کمی کے باعث بجلی بند کر دی گئی ہے۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بے گھر ہونے والوں اور مریضوں سے بجلی اور پانی کے استعمال کو معقول بنانے پر زور دیا، دنیا سے مطالبہ کیا کہ غزہ کے ہسپتالوں کو فوری طور پر ایندھن کی فراہمی اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ا سرائیل نے غزہ میں البریج کیمپ پر دوبارہ بمباری کی، جب کہ اسرائیلی فوج نے آج غزہ کی پٹی میں جاری لڑائی میں چار فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زمینی حملے کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 23 ہوگئی ہے۔دوسری جانب القسام بریگیڈز نے کہا کہ انہوں نے بیت لاہیا کے شمال مغرب میں صفر کے فاصلے سے 4 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔جمعرات کی شام اسرائیلی فوج نے حماس کے مضبوط گڑھ غزہ شہر کا "گھیراؤ” کرنے کا اعلان کیا۔ محصور پٹی پر اسرائیلی بمباری بلا تعطل جاری ہے، جہاں انسانی صورتحال تشویشناک اور تباہ کن ہے۔وہیں دوسری جانب اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 24 لاکھ کی غزہ کی ا س آبادی میں 50 ہزار خواتین حاملہ ہیں، ان میں جو زندہ بچ پائیں یا ان کے بچے پیدائش سے قبل ہی اسرائیلی بمباری یا محاصرے کی وجہ سے موت سے ہم آغوش نہ ہو گئے تو یہ 50 ہزار خواتین اگلے دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں ماں بنے والی ہیں۔ ان میں 5500 حاملہ خواتین کے ماں بننے کا وقت مقابلتاً قریب ہے ( بشرط زندگی)، گویا اگلے دو سے تین یا چار ماہ میں یہ 5500 خواتین ماں بننے کے وقت کو پہنچ سکتی ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی اس رپورٹ کے مطابق ایک معاملہ ان سب سے زیادہ قربت کا اور فوری توجہ کا ہے کہ غزہ میں یومیہ 160 بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔بلاشہ ان سب حاملہ خواتین کو اگر معمول کی زندگی میسر ہوتی تو ان کی خوراک، آرام اور سہولت کے اسباب کی ہر گھرانے میں اپنی توفیق کے مطابق خیال رکھا جاتا ہے۔ خصوصی ضرورت کی خوراک ، وقتاً فوقتاً میڈیکل چیک اپ کا اہتمام، ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق ادویات اور وٹامنزیا اس طرح کے دیگر سپلیمنٹس کا اہتمام ہوتا۔یہ پچاس ہزار خواتین تواس وقت ایک لاکھ زندگیوں کی نمائندہ ہیں، مگر زندگی کی دوہری گنتی میں شامل ہونے کے باعث عام اہل غزہ سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔ ان کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے آنے والے ننھے مہمانوں کو جہاں مناسب خوراک، علاج اور ادویات کے بغیر عمومی حالات میں خطرات درپیش ہو سکتے تھے ۔ وہیں اب اسرائیلی بمباری اور زیر محاصرہ غزہ میں انہیں دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔لیکن ان کے پاس مناسب خوراک تک میسر نہیں، لباس اور رہائش کے مسائل ہیں۔ پینے کو پانی نہیں، ڈاکٹر نہیں، ہسپتال نہیں، ادویات نہیں، آرام کی جگہ نہیں، محفوظ جگہ نہیں۔ یہ جنگل نہیں ، بلکہ جنگل سے زیادہ خوفناکی میں گھرے ہوئے غزہ خواتین ہیں۔
