شیموگہ:۔پی ایس آئی گھوٹالے میں رکن اسمبلی بی وائی وجیندرا اور ڈی سی سی بینک کے گھوٹالے میں رکن پارلیمان بی وائی راگھویندراکا ہاتھ ہے،اس سلسلے میں تحقیقات کی ضرورت ہے۔اس بات کا اظہار ساگر اسمبلی حلقے کے رکن اسمبلی اور سابق ریاستی وزیر بیلوروگوپال کرشنانے کیاہے۔انہوں نے آج یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پی ایس آئی گھوٹالے میں کنگ پن وجیندراہیں،اُس وقت اُن کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی تھی،اب ایف ڈی اے اور ایس ڈی اے اہلکاروں کے تقررات میں ہونےوالے غبن کے تعلق سے بی جے پی بات کررہی ہے،اس وقت ریاستی حکومت کو چاہیے کہ پی ایس آئی گھوٹالے کے دائرہ وسیع کرتے ہوئے جلدازجلد حقیقی ملزموں کو گرفتارکیاجائے۔شیموگہ ڈی سی سی بینک کے عملے کی تقرری میں گھوٹالہ ہواہے،ایک ایک عہدے کیلئے چالیس لاکھ روپئے تک کی رشوت لی گئی ہے،اس گھوٹالے میں رکن پارلیمان بی وائی راگھویندراکا اہم کردارہے،اس تعلق سے ریاستی حکومت تحقیقات کرے۔رکن پارلیمانی بی وائی راگھویندرا صرف انتخابات کے دوران ہی اپنے حلقے میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں،باقی دنوں میں ان کا کوئی پتہ نہیں رہتا،ہر کام کو اپنے نام سے اپنے باپ کے نام سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں ، کبھی بس اسٹانڈ کو اپنے نام سے موسوم کرتے ہیں تو کبھی ائیرپورٹ کو رائیرپورٹ راگھو کے نام سےمنسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایم ایل اے گوپال کرشنانے مزیدکہاکہ کرناٹکا گورنمنٹ ایمپلائز اسوسیشن کے ریاستی صدر شڈاکشری کےتبادلے کے تعلق سے انہوں نے کہاکہ شڈاکشری کا تبادلہ کروانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، انہوں نے بڑے پیمانے پر جائیداد جمع کی ہے ، اس کے خلاف بھی تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ انتخابات کے تعلق سے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہاکہ میں لوک سبھا الیکشن کیلئے مضبوط دعویدارہوں،وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے تعلق سے کوئی تبصرہ نہیں کرونگا،میرا مشورہ یہ ہے کہ ہر رکن اسمبلی کو20-20 مہینوں کیلئے وزیر کا عہدہ دیاجائے اور اُنہیں بورڈوکارپوریشن کی ذمہ داری نہ دی جائے،20-20 مہینے کے وزیر بنائے جانے پر تمام کو موقع ملے گا،جبکہ بورڈو کارپوریشن میں پارٹی کے وفادارکارکنوں کو موقع دیا جا ئے ۔ اس دوران بیلوروگوپال کرشنانےکہاکہ شیموگہ ضلع کے نگران وزیر کون نہیں مجھے نہیں معلوم،میں صرف ایم ایل اے ہوں،میں نے پہلے سُناتھاکہ شیموگہ ضلع کے انچارج وزیر مدھو بنگارپاہیں،اب کون ہیں مجھے نہیں معلوم۔آج ضلع نگران وزیر کی صدارت میں کے ڈی پی کی نشست منعقدکی گئی ہے،لیکن مجھے اس میں مدعونہیں کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ ایشورپاکو اب کوئی پلاٹ فارم نہیں ہے،وہ صرف اب پریس میٹ میں اپنا وقت گذاررہے ہیں،ایشورپانے نلین کمار کٹیل کو بڑھاوادیاجس کی وجہ سے بی جے پی محض65 سیٹوں پر سمٹ گئی ہے،آنےوالے الیکشن میں یہ تعداد42 ہوجائیگی۔اگر یڈی یورپامیں واقعی کو ئی صلاحیت ہے تو وہ ریاست میں خشک سالی سے متاثرہونےوالے علاقوں کیلئے مرکزی حکومت سے فنڈلائیں،اس کے بجائے خواہ مخواہ تشہیرکیلئےخشک سالی سے متاثر علاقوں کا دورہ نہ کریں۔
