کُرسی کے جھگڑے سے باہر نکل کر خشک سالی کے مسائل کی طرف توجہ دے حکومت:ویلفیر پارٹی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلور:ریاست میں بارش کی کمی کی وجہ سے کسان پریشان ہے ا ور خشک سالی کا سامنا کر رہاہے ایسے میں کانگریس کے چند وزیر اور ارکینِ اسمبلی وزیرِ علیٰ کی کرسی کو لے کر بیان بازی میں لگے ہیں یہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ان خیالات کا اظہار ویلفیر پارٹی کے ریاستی صدر ادوکیٹ طاہر حُسین نے کیا ہے،اُنہوں نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں عوام کئی ایک مسائل کا شکار ہیں،بارش صحیح نہ ہونے کی وجہ سے ریاست میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے جس سے کسان بہت پریشان ہیں دوسری جانب کاویری ندی میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے بھی ٹملناڈ کو پانی بہانے اور اور آئندہ دنوں میں بنگلور اور اطراف کے مقامات کیلئے پینے کے پانی کا مسئلہ بھی د ر پیش ہے ، اس کے علاوہ کانگریس نے انتخابات کے دوران جن پانچ گارنٹیوں کا اعلان کیا تھا ان صہولیات کوحاصل کرنا بھی عام عوام کیلئے بڑا دشوار ہو رہا ہے،ابھی تک کاغذی کارویوں میں ہی دن ٹل رہے ہیں ،لوگ ان اسکیموں کو حاصل کر نے کے لئے سرکاری دفتروں کے چکر لگاکر تھک رہے ہیں۔ایسے میں عوام کے ان مسائل کو حل کرنے کی جانب توجہ دینے کے بجائے کانگریس کے چند ایک وزیراور ارکین ِ اسمبلی، وزیر علیٰ کی کرسی کو لیکر میڈیا میں بیان بازی میں لگے ہیں جو کے خود حکومت کو کمزور کرنے کی حماقت ہے۔اُدھر دوسری جانب حکومت بن کے چار مہینے گزر جانے کے باوجود اپنا اپوزیش لیڈر چُننے کے لے ہاتھ پیر مار رہی بی جے پی ایک اپوزیشن پارٹی کا رول نبھانے میں بُری طرح سے ناکام ہوئی ہے،اور اپنی ناکامی کو چھوپانے کے لئے پھر سے گندی سیاست پر اُتر آئی ہے،عوام سے ووٹ حا صل کرکے بنی ایک مظبوط حکومت کو ‘آپریش کملا’کے ذریعہ گرانے کی دھمکیاں دے رہی ہے جو کے مزہ خیز ہے،اپنی پُرانی عادت سے مجبور بی جے پی ایک جانب حکومت کو کیسے گرایا جائے اس فراق میں ہے اور دوسری جانب پارلیمانی انتخابات کوسامنے رکھتے ہوئے ریاست میں نفرت کو پھیلانے میں لگی ہے۔اُنہوں نے کہا کے حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے مسائل کی جانب توجہ دے اور ان کو حل کرے اور اپوزیشن اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے عوامی سیاست کر ے نہ کے نفرت کی سیاست۔یاد رہے کے ویلفیر پارٹی کی جانب سے ریاست گیر سطح پر نفرت کی سیاست کے خلاف ایک دس روزہ مہم چلا ئی جا رہی ہے جس کے تحت ریاست میں عوام کو نفرت کی سیاست سے ہونے والے اثرات سے واقفیت کرواتے ہوئے اُنہیں اس کے خلاف آواز اُٹھانے کے لئے اپیل کی جا رہی ہے۔