بنگلورو:۔کرناٹک میں کانگریس حکومت اقتدارمیں آنے کے بعد بھی مسلم تنظیمیں ا ب بھی کانگریس کو پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات میں کامیابی دلوانے کیلئے پوری ایمانداری کے ساتھ کام کررہے ہیں اور کانگریس سے اپنی وفاداری کاثبوت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔آنےوالے پارلیمانی انتخابات سے قبل جہاں خود سیاسی پارٹیاں خاموش بیٹھی ہوئی ہیں،وہیں کچھ مسلم تنظیمیں اور شخصیات ابھی سے دن رات کانگریس کو جیتانے کیلئے محنت کررہے ہیں۔اس کیلئے علاقائی سطح پر جابجا نشستوں کا اہتمام کیاجارہاہے،جس میں آنےوالے بلدیاتی انتخابات میں کسے امیدواربناناہے،کسے نہیں بناناہے،کون کس علاقے سے الیکشن لڑیگا،کونسے اُمیدوارکو نیوٹرل کرناہےیہ سب منصوبہ بندی ابھی سے مسلمانوں کے درمیان چل رہی ہے۔مانوکہ ان کے فیصلوں سے ہی ملک کی تقدیر بدلنےوالی ہےاورمسلمانوں کی نصیب کھلنےوالی ہےاور بی جے پی کو ہرانے کا ٹوکرابھی مسلمانوں نے اپنے سرپر ڈھولیاہے،لیکن مسلمانوں کے بنیادی مسائل پر بات کرنے کیلئے کوئی تیارنہیں ہے،نہ ہی اس سمت میں کوئی توجہ دی جارہی ہے۔ریاست میں حجاب کا مسئلہ اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے،اگر ریاستی حکومت چاہے تو اس مقدمے کی پیروی سے اپنے آپ کو الگ کرسکتی ہےیاپھر اپنے اعتراضات کو منفی بتاکر عدالت میں حجاب کے تعلق سے مثبت فیصلہ کرواسکتی ہے۔مگر مسلم تنظیموں کے رہنماء اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں۔اسی طرح سے ریاست میں اذان کا مسئلہ بھی ہے،بظاہرکانگریس حکومت آنے کے بعدریاست میں لائوڈ اسپیکر پرفجرکی اذان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے،لیکن دستاویزات اور قانون کے مطابق لائوڈ اسپیکر پر فجرکی اذان دینااب بھی ممنوع ہے۔اس قانون میں بھی ترمیم لانے کیلئے بات کرنے کی ضرورت ہے۔الیکشن سے قبل بنگلوروکے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی کے جن نوجوانوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمےعائدکیاگیاتھا،اُن نوجوانوں کی رہائی کا وعدہ کانگریس کے امیدواروں اور حکمرانوں نے کیاتھا،لیکن چھ ماہ گذرنے کے بعد بھی ان نوجوانوں کی رہائی کی کوئی اُمید دکھائی نہیں دے رہی ہے۔اسی طرح سے ہبلی اور شیموگہ کے مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد یواے پی اے قانون کے تحت جیلوں میں بندہے،اس پرسوال اٹھانے کیلئے کوئی نشست مسلم تنظیموں واداروں کی جانب سے نہیں ہوئی ہے،نہ ہی حکمرانوں سے اس تعلق سے بات کی گئی ہے۔ریزرویشن کا مسئلہ بھی ریاست میں الجھاہواہے،مسلمانوں کو دئیے گئے ریزرویشن کے تعلق سے اب بھی شفافیت نہیں ہے،اس معاملے پر بھی ریاستی حکومت نے غورنہیں کیاہے نہ ہی مسلمانوں کے قائدین حکومت کو غورکرنے کیلئے دبائوڈال رہے ہیں۔چونکہ ریاست میں حکومت کانگریس کی ہے،اس وجہ سے ان تمام مدعوں پر ڈھیل دی گئی ہے،لیکن دستاویزات میں یہ تمام قوانین مسلمانوں کے خلاف ہیں،ان قوانین کو رد کروانے کیلئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے،جس پر مسلمان دبائو نہیں ڈال رہے ہیں۔اگر آنےوالے دنوں میں کانگریس حکومت ریاست میں برخواست ہوتی ہےاور ان کی جگہ پر جے ڈی ایس یا بی جے پی کی حکومت آتی ہے تب ان قوانین میں دوبارہ جان بھری جائیگی اور مسلمانوں کا جینا محال کردیاجائیگا۔اُس وقت مسلمان پھر سےکہیں گے کہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہورہی ہےا ور ہمیں بچانےوالاکوئی نہیں ہے۔عہدے دلوانا،امیدواربنانا،ووٹر آئی ڈی کارڈبنانے کی فکر چھوڑکر سماجی مسائل کو حل کرنے کیلئے مسلم تنظیمیں ،جماعتیں اور ادارے فوری طورپر کام کریں،تب جاکر تنظیموں واداروں کا مقصدپوراہوگا۔
