مردم شماری کی اصلی رپورٹ غائب:وزیر اعلیٰ سدرامیا پریشان

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ایچ کانتراج کی قیادت میں اوبی سی کمیشن نے سال2015 میں جو سماجی اور تعلیمی سینسس (ذات پر مبنی مردم شماری) کیاتھا،اُس کی اصل رپورٹ کمیشن کے دفتر سے لاپتہ بتائی گئی ہے،اس معاملے کو لیکر بی جے پی اور جے ڈی ایس نے ریاستی حکومت کے خلاف مورچہ کھول دیاہے۔تعلیمی وسماجی سروے2015 کو قبول کرنے کا فیصلہ میرااٹل ہے ، کہنےوالے سدرامیا اب اصل رپورٹ غائب ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں ۔کانتراج کی قیادت میں تشکیل شدہ کمیشن کی طرف سے تیارکردہ رپورٹ کے اصل دستاویزات کی بنیادپر جئے پرکاش ہیگڈے کی قیادت میں ان سفارشات پر مشتمل نئی رپورٹ بنانے کی تیاری کی جارہی تھی،ایسے میں اصل رپورٹ ہی غائب ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ زیرِ بحث ہوچکاہے۔بتایارجاہے کہ2015 میں جو رپورٹ بنائی گئی تھی اُس رپورٹ میں کمیشن کے صدر کانتراج اور دیگر اراکین کے دستخط بھی نہیں ہیں ،جبکہ ممبر سکریٹری این وی پرسادکے دستخط بھی اُس رپورٹ میں موجود ہیں۔کمیشن کے موجودہ صدر جئے پرکاش ہیگڈے اور ممبر سکریٹری کے اے دیانند نے جب سال2021 کے26 اگست کو مقفول ڈیپو کو کھولاتو اُس میں یہ بات سامنے آئی ہے ، ڈیپومیں صرف پرنٹ کئے ہوئے دستاویزات اور دو سی ڈی موجودتھے۔سال2021 میں جئے پرکاش ہیگڈے نےاوبی سی کے چیف سکریٹری کو ایک مکتوب لکھاتھاجسمیں یہ بتایاگیاتھاکہ اُن ڈبوں میں رپورٹ کے اصل دستاویزات نہیں ہیں،اس کے علاوہ کمیشن کے چیرمین و دیگر اراکین کےدستخط والے دستاویزات بھی نہیں ہیں،اس لئے فوری اس ضمن میں کارروائی کی جائے۔ایک طرف بنیادی دستاویزات سرکاری دفتر سے غائب ہیں تو دوسری جانب وزیر اعلیٰ سدرامیانے کہاہے کہ کمیشن کی رپورٹ قبول کئے جانے سے پہلے ہی مختلف ذاتوں میں بے چینی کیوں ہورہی ہے،اس کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟،کمیشن کی رپورٹ ابھی ہمارے ہاتھ نہیں لگی ہے،رپورٹ ملنے کے بعد فیصلہ لیاجائیگا۔162 کروڑ روپیوں کی لاگت سے یہ رپورٹ تیارکی گئی تھی،اس میں کیا ہے،اس کی تفصیلات مجھے نہیں معلوم ،البتہ دسمبرمیں یہ رپورٹ حکومت کے حوالے کی جائیگی۔