بنکاک: چند ماہ قبل ورلڈ مسلم کونسل کے سیکریٹری جنرل شیخ العیسی آئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم دنیا میں ہم آہنگی چاہتے ہیں تو ہندوستان اس میں سب سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔تو یہ ہمارا فرض ہے، اسی لیے ہندو سماج وجود میں آیا۔تھائی لینڈ میں ورلڈ ہندو کانگریس 2023′ سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ان خیالات کا اظہار کیابھاگوت کہتے ہیں کہ آج کی دنیا اب ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ 2000 سالوں میں خوشی، مسرت اور امن لانے کے لیے بہت سے تجربات کیے ہیں۔ انہوں نے مادیت، کمیونزم اور سرمایہ داری کو آزمایا ہے۔ انہوں نے مختلف مذاہب کو آزمایا ہے۔انہوں نے مادی خوشحالی سنبھال لی ہے لیکن کوئی اطمینان نہیں ہے۔اب خاص طور پر کووڈ کے دور کے بعد انہوں نے دوبارہ سوچنا شروع کر دیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان راستہ فراہم کرے گا۔ کیونکہ یہ روایت ہے،ہندوستان پہلے بھی یہ کرچکا ہے۔ ہمارے سماج اور ہماری قوموں کی پیدائش اسی مقصد کے لیے ہوئی ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کہتے ہیں کہ دنیا ایک خاندان ہے اور ہم ہر ایک کو ‘آریہ بنائیں گے جو کہ ثقافت ہے… مادی خوشی کے تمام ذرائع پر قبضہ کرنے کے لیے لوگ لڑنے اور ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے۔
