شیموگہ:۔شیموگہ کارپوریشن کے کارپوریٹرس کی معیاد ختم ہونے سے قبل آج کارپوریشن کی آخری نشست منعقدکی گئی تھی جس میں تنگا ندی کے تحفظ کے تعلق سےمشترکہ طورپر مطالبہ کیاگیاہے۔تنگاندی کے پینے کے پانی میں دن بہ دن زینک اور الومنیم جیسے اجزاء میں اضافہ ہورہاہے،جس کی وجہ سے تنگاش ندی کا پانی پینے کے لائق نہیں رہاہے،اس وجہ سے اس ندی کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ کارپوریٹر رمیش ہیگڈےنے بات کرتے ہوئے کہا کہ تنگا ندی کے پانی کو بہتربنانے کی ذمہ داری شیموگہ کارپوریشن کی ہے،یو جی ڈی کےذریعے سے آلودہ پانی کو پاک کرتے ہوئے ندی میں بھیجا جائے۔کارپوریٹر شنکر گنی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ پینے کے پانی کو صاف کرنے کیلئے پمپ ہائوز میں معقول انتظامات کئے جائیں۔اس موقع پر کارپوریٹر وشواناتھ نے کہاکہ کنسرونسی کی ترقی کیلئے شیموگہ کو ایوارڈمل چکاہے،لیکن شیموگہ کے ملگٹہ وارڈمیں کنسرونسی کی ترقی ہی نہیں ہوئی ہے،یہاں گندہ اور آلوہ پانی کنسرونسی میں چھوڑاجارہا ہے ، اس کیلئے کارپوریشن پہلی اہمیت دیتے ہوئےا س مسئلےکو حل کریں۔دھیر راج ہونےولے نے بات کرتے ہوئے کہاکہ آلودہ پانی کو راست طورپر چینل یا ندی کو چھوڑانہ جائے بلکہ اس کی آلودگی کو پہلے صاف کیاجائے۔اس موقع پر کمشنر مائینا گوڈانے بات کرتے ہوئے کہاکہ تنگاندی کے پانی کو صاف رکھنے اور ندی کو آلودہ ہونے سے بچانے کیلئے ڈپٹی کمشنرکی صدارت میں کئی نشستوں کاانعقادکیاجا چکا ہے،جس میں متعلقہ افسران ،محبان ماحولیات نےحصہ لیاتھا،شہرمیں37 میٹرک لیٹر نالوں کا پانی روزانہ گذرتاہے،صرف 11 ایم ایل ڈی آلودہ پانی ہی ایس ٹی پی میں صاف ہوتاہے،بقیہ پانی آلودگی کو صاف کئے بغیرہی ندی میں پہنچ رہاہے۔اس موقع پر یو جی ڈی شعبے کے انجینئرمتھون کمارنے بات کرتے ہوئے کہاکہ راج کالوے کے9 الگ الگ مقامات پر آلودہ پانی کو جمع کرکے اسے صاف کرنے کی پہل کی گئی ہے،اب تک پانچ یونٹ سرگرم ہوچکے ہیں،کئی علاقوں میں گرمی کے دنوں میں یاپھر سردیوں کے دنوں میں راست طورپر آلودہ پانی راج کالوے کو چھوڑاجاتاہے،جس کی وجہ سے پانی کی آلودگی میں روکاٹیں پیداہورہی ہیں۔کمشنر مائینا گوڈانے مزیدبتایا کہ تنگاندی کے پانی میں الومنیم اور رینک جیسے اجراء ہونے کی بات سامنے آتے ہی متعلقہ محکموں سےرابطہ کرتے ہوئے ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ اجراء کہاں سے آرہے ہیں؟۔مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کئے گئے ہیں،گاجنورکے پانی میں بھی ان اجراء کی موجودگی کا پتہ چلاہے،جس سے واضح ہورہاہے کہ یہ اجراء شرنگیری اور دیگر علاقوں سے آنےوالے پانی میں زیادہ ہیں،جس کیلئے معقول اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور تنگاندی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے پیش رفت کی جارہی ہے۔
