شیموگہ:۔اترپردیش حکومت نے دو معروف علماء کو گرفتار کرتے ہوئے جو حماقت کا مظاہرہ کیاہے وہ قابل مذمت ہے،علماء کی گرفتاری تمام مسلمانوں کیلئے افسوس کی بات ہے اور اس بات سے انکارنہیں کیاجاسکتاکہ فرقہ پرست حکومت میں کوئی محفوظ نہیں ہے۔اس بات کااظہار شیموگہ ضلع کانگریس کے سکریٹری عارف خان عارو نے کیاہے۔انہوں نے اپنے اخباری بیان میں کہاکہ بھارت میں سیکولر حکومتیں جب تک تھیں اُس وقت تک یہاں کے علماء وعام لوگ محفوظ تھے،لیکن جب سے فرقہ پرستوں کا راج شروع ہواہے اُس کے بعد سے کوئی محفوظ نہیں ہے۔آج مولانا عمرگوتم اور قاضی جہانگیر کا گرفتارکیاگیاہے تو ممکن ہے کہ کل اور علماء کو بے جا الزامات میں گرفتارکیاجائیگا اور علماء کو گرفتار کرتے ہوئے مسلمانوں میں خوف پیداکیاجائیگا۔علماء کی اس گرفتاری پر تمام ملک کے نمائندہ تنظیموں کو چاہیے کہ وہ آوازاٹھائیں اور یو پی حکومت کی اس کارروائی کے خلاف اعلیٰ سطح پر کارروائی کی جائے۔بعض میڈیا چینلوں میں ان دونوں علماء کے تعلق سے غلط بیانی کی جارہی ہے،علماء سے ابھی پوچھ تاچھ جاری ہے کہ انہیں دہشت گردیا قصوروار کہاجارہاہے اور قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ان حالات میں مسلم تنظیموں کی طرف سے اگر فوری طور پر پیش رفت نہیں کی جاتی ہے تو آہستہ آہستہ ایک ایک عالم دین کو نشانہ بنا کرسارے اسلام کونقصان پہنچانے کی کوشش کی جائیگی۔جس طرح سے ڈاکٹر ذاکر نائک کو نشانہ بنا کر انہیں ملک سے باہر رہنے کیلئے مجبورکیاگیاہے،ایسے ہی حالات دیگر علماء پر بھی ہوسکتے ہیں۔اس لئے خاموش رہنے کے بجائے متحد ہوکر قانونی طور پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔عارف خان عارونے مزیدبتایاکہ چند نوجوانوں اور اُن کے والدین کو زبردستی چند میڈیا کے سامنے لاکر اُن سے جھوٹے بیان دلوائے جارہے ہیں،میڈیا کو چاہیے کہ وہ میڈتا ٹریل بند کرےاور بھارت کے شہریوں کو سکون سے رہنے کا موقع دے۔دنیا جانتی ہے کہ کوروناکے موقع پر کس طرح سے مسلمانوں نے اپنے جان ومال کی قربانیاں دی ہیں،کس طرح سے ہندو بھائیوں کی لاشوں کوآخری رسومات کرتے ہوئے انسانیت کا پیغام عام کیا ہے۔باوجود اس کے اس طرح کے حالات میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی جو سازشیں ہورہی ہیں وہ افسوسناک بات ہے۔ہمیں قانون پر یقین ہے کہ ہمارے گرفتار شدہ علماء کو جلد رہائی ملے گی،یہ سب حرکتیں یوپی میں ہونے جارہے الیکشن کی تیاریوں کا حصہ ہیں۔
