احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ نے ایک پی آئی ایل کو مسترد کر دیا جس میں مساجد میں اذان یا عبادت کے لیے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا، اسے ‘مکمل طور پر غلط مفروضہ پر مبنی قرار دیا گیا۔ چیف جسٹس سنیتا اگروال اور جسٹس انیرودھ پی مائی کی ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران یہ بھی پوچھا کہ کیا عرضی گزار یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ مندر میں آرتی کے دوران گھنٹیوں اور گھڑیال کا شور باہر نہیں سنائی دیتا ہے۔بجرنگ دل لیڈر شکتی سنگھ جھالاکی طرف سے دائر عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان سے ہونے والی صوتی آلودگی لوگوں کی صحت کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر بچوں کی اور دوسری صورت میں تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ تاہم، ہائی کورٹ نے کہا کہ دعویٰ میں دعووں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔عدالت نے کہا کہ اذان دن کے مختلف اوقات میں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دس منٹ تک دی جاتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا، ‘ہم یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ صبح کے وقت لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینے والی انسانی آواز صوتی آلودگی کی سطح (ڈیسیبل) تک کیسے پہنچ سکتی ہے ، جس سے عوام کی صحت کو بڑے پیمانے پر خطرہ لاحق ہے۔عدالت نے کہاکہ ہم اس قسم کی پی آئی ایل پر غور نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا عقیدہ اور عمل ہے جو برسوں سے چلا آ رہا ہے اور پانچ دس منٹ تک ہوتا ہے۔ اس نے عرضی گزار کے وکیل سے پوچھاکہ آپ کے مندر میں صبح کی آرتی بھی صبح تین بجے ڈھول اور موسیقی کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ گھنٹیوں اور گھڑیال کا شور صرف مندر کے احاطے میں رہتا ہے اور مندر کے باہر نہیں پھیلتا؟عدالت نے کہا کہ صوتی آلودگی کی سطح کو ناپنے کا سائنسی طریقہ موجود ہے تاہم درخواست میں ایسا کوئی ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ 10 منٹ کی اذان سے آواز کی آلودگی ہوتی ہے۔
