کرناٹکا مسلم کلچرل اکیڈمی کی جانب سے یوم تعلیم کاانعقاد؛ تعلیم کےذریعے سے غربت کوشکست دیں:کے رحمت اُللہ

اسٹیٹ نیوز
چتردرگہ:۔اگر ملک میں نہرو،گاندھی ،مولاناآزاد اور امبیڈ کر جیسی شخصیات جنگ آزادی میں قیادت نہ کرتے تو ملک کے اقلیتی ،دلت،پسماندہ طبقات کے لوگوں کو بی جے پی جیسی فرقہ پرست جماعت پوری طرح سے دباکر اقتدارمیںقابض رہتے۔اس بات کااظہار چتردرگہ لوک سبھا حلقے کے سابق رکن پارلیمان بی این چندرپانے کیاہے۔انہوں نے کرناٹکا مسلم کلچرل اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ یوم تعلیم کے موقع پر مولاناابوالکلام آزاد اور موجودہ تعلیمی نظام کے عنوان پرمنعقدہ سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت مختلف ذاتوں،مذاہب ، زبانوں کا دیش ہے، یہاں ذات ومذہب کی بنیادپر سیاست نہیں کی جاسکتی،تمام مذاہب اور ذات کے لوگوں کو یکساں طورپر دیکھنے کی ضرورت ہے،لیکن بی جے پی کے پاس ایسی سوچ نہیں ہے ۔بی جے پی نے اپنے دورِ اقتدارمیں رام مندراور کاشی وشواناتھ کا نام لیکر لوگوں کو گمراہ کیا ہے ، حجاب،حلال،جھٹکہ کٹ جیسے مدعوں کو لیکر لوگوں میں نفرت پیداکرنے کی کوشش کی ہے۔ ہندو اور مسلمان اگر امن وبھائی چارگی سے رہنا ہے تو آنےوالے دنوں میں لوگ سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالیں اور بی جے پی کو اقتدار سے دو ررکھے۔اس موقع پر وظیفہ یاب پروفیسر جے یادوریڈی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ سائنس وٹیکنالوجی کافی آگے آچکی ہے،نئی ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے،لیکن مسلمان اب بھی تعلیم سے دورہیں،یہ افسوسناک بات ہے۔مسلمانوں کو ان کی آبادی کے لحاظ سے ریزرویشن کی ضرورت ہے،غربت کی وجہ سے یہ طبقہ تعلیمی پسماندگی کا شکارہورہاہے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کی جانب توجہ دیں،سچرکمیٹی کی سفارشات کے مطابق مسلمانوں کو برابر کے حقوق دئیے جائیں۔مولاناابوالکلام آزاد ملک کے پہلے وزیر تعلیم تھے،یہ ملک کیلئے فخرکی بات ہے،بھارت کے مسلمانوں کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے،انہیں اس ملک میں برابر سے جینے کاحق ہے۔مسلمان بے خوف ہوکر اس ملک میں رہ سکتے ہیں،اس کیلئے انہیں آئینی حق حاصل ہے۔اس موقع پر کرناٹکا مسلم کلچرل اکیڈمی کے صدر بی کے رحمت اُللہ نے بات کرتے ہوئے کہاکہ حکومت مختلف سہولیات دے رہی ہے،بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کی امدادجاری کررہی ہے،اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمان تعلیمی میدان میں آگے آئیں ۔غربت کو تعلیم سے نہ جوڑیں بلکہ تعلیم کےذریعے سے غربت کو دورکریں۔اقتدارپر آنے والی کانگریس نے تمام کو یکساں حقوق دینے کا وعدہ کیاہے،ان حقوق کا فائدہ اٹھانے میں مسلمان پس وپیش کاشکارنہ ہوں۔ کیرلامیں تعلیمی شرح94 سے 95 فیصدہے ،لیکن وہاں اولڈایج ہوم کی تعدادمیں بھی زیادہ ہے،لیکن کرناٹک میں تعلیم کی شرح کم ہے،باوجوداس کے یہاں کے لوگ اپنے ماں باپ کی خدمت کو اولین ترجیح دے رہے ہیں،اس کا مطلب یہ ہواہے کہ صرف تعلیم حاصل کرنے سے انسانوں کی کامیابی ممکن نہیں ہے،بلکہ تربیت کی بھی ضرورت ہے۔اس موقع پر چتردرگہ ڈی سی سی کے صدر ایم تاج پیر،محکمہ اقلیتی بہبودی کے ضلعی افسر سدیش،کانگریس کے آر محمد،کارپنٹر ورکرس اسوسیشن کے صدر ذاکر حُسین،چھوٹوکے اقبال،کرناٹکا مسلم کلچرل اکیڈمی کے کارگذار صدر ایم حنیف،اے ایچ عبداُللہ،نائب صدر نثاراحمد وغیرہ موجودتھے۔