بنگلورو:۔چار ریاستوں میں ہونےوالےاسمبلی انتخابات کے نتائج نے بی جے پی کو دوبارہ پُرامیدکیاہےاور کرناٹک میں کانگریس حکومت کے خلاف محاذ آراء ہونے کیلئے راہیں ہموارہوئی ہیں تو دوسری جانب سے کانگریس پارٹی کیلئے باقی تین ریاستوں کے نتائج سبق سے کم نہیں ہیں اور گیارنٹیوں کے سہارے اقتدارمیں آنے کی جو اُمید کانگریس کے پاس تھی وہ ٹوٹ چکی ہے اور آنےوالے دنوں میں منظم طریقے سے کام نہ کیاجائے تو پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی دو عددمیں ملنابھی مشکل ہے۔اسمبلی انتخابات کے نتائج منظرِ عام پر آنے کے بعد ایک جگہ پر کانگریس پارٹی اقتدارمیں آئی ہے تودومقامات پر پارٹی اقتدار سے دورہوچکی ہے۔کرناٹک میں گیارنٹی کے اعلانات سے اقتدارپر آنے کی بات کہنےوالی کانگریس پارٹی کی ہائی کمان نےمدھیہ پردیش،راجستھان اور تلنگانہ میں بھی اسی فارمولے کو اپنایاتھا، لیکن بی جے پی نے بھی مفت منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کانگریس کی گیارنٹیوں کی کشتی کو اُلٹ کررکھ دیا۔انتخابات کے نتائج دیکھے جائیں تو گیارنٹیوں سے زیادہ دو ریاستوں میں عوام کی ناراضگی اور دوریاستوں میںنریندرمودی کی ہوا کام کرگئی ،یہ اوربات ہے کہ ای وی ایم کا بھی اس میں اہم کرداررہا۔تلنگانہ میں گیارنٹیوں کااثرکاحوالہ کانگریس پارٹی کے لیڈران دے سکتے ہیں پر وہاں پر دس سالوں سےا قتدارپر قابض کے چندرشیکھر رائو(کے سی آر) اور ان کے بیٹے کے ٹی راما رائو(کے ٹی آر) کی عوام مخالفت پالیسیوں نے کانگریس کو اقتدارپر پہنچایاہے۔اگر واقعی میں گیارنٹیاں عوام کی پہلی پسند ہوتی تو راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بھی بی جے پی کو اقتدارمیں نہ لاتے۔شمالی ہندمیں بی جے پی نےکامیابی کا طوفان لاکر کرناٹک کے بی جے پی کے حلقے میں نئی لہرپیداکی ہے،اسمبلی انتخابات کے بعد جو بی جے پی لیڈران پریشان تھے،اُن میں نئی اُمید دکھائی دے رہی ہے۔بی جے پی کے آپسی اختلافات او رناراضگیاں کچھ لیڈروں کو بی جے پی چھوڑکرکانگریس کارخ کرنے کیلئے مجبورکرچکی تھیں،بی جے پی کے موجودہ اراکین اسمبلی اور سابق اراکین اسمبلی سابق کانگریس کےخیمے میں پہنچنے کی کوشش کررہے تھے،اب دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج ان کے منصوبوں کو بریک لگانے کاکام کررہے ہیں۔کرناٹک میں بی جے پی کی شکست کا ایک سبب مقامی قیادت کا نہ ہونا بتایاجارہاتھا،جس میں یڈی یورپاکو نظراندازکئے جانے کی بات اہم قرار دی جارہی تھی،اسی وجہ سے ان کے بیٹے بی وائی وجیندرا کو ہائی کمان نے کرناٹک کی باگ ڈور سونپی، وہیں دوسری جانب شمالی ہند میں راجستھان،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو ملنےوالی جیت نے یہ ثابت کردیاکہ بی جے پی میں مقامی قیادت سے زیادہ اب بھی لوگ مودی۔مودی کے گُن گارہے ہیں۔ان نتائج نے جے ڈی ایس کو بھی ایک اہم پیغام دیاہےکہ علاقائی پارٹیوں کی ہوا کچھ دنوں تک ہی محدودرہے گی،آنےوالے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی جے ڈی ایس کا ساتھ تو حاصل کریگی،لیکن انتخابات کے بعد جے ڈی ایس سے کنارہ کشی کرلیگی۔جو اہمیت اب جے ڈی ایس کو مل رہی ہے وہ اہمیت اگلے دنوں میں کم ہوجائیگی۔
