
الطاف رضوی
کیرےبلچی:دس دسمبر 2023ء بروز اتوار بعد نماز عشاء خانقاہ رحیمی احاطہ دارلعلوم محمدیہ گنگو نڈہلی بنگلورو میں معروف ادیب و شاعر اپنی تصانیف پر اور ادب اطفال پر اپنی خدمات سے ریاستی و قومی اعزازیافتہ ڈاکٹر امجد حسین المعروف حافظ کرناٹکی کے فرزندعزیزم ابوذر غفاری سلمہ، کی تقریب ِنکاح منعقد ہے ،اس سے پہلے دوسروں کےتکالیف پریشانی میں حصہ لیتے ہوئے اُنہیں سکھ فراہم کرنے کی کس حد تک اپنے اندر تڑپ ہوگی کہ 8دسمبر جمعہ کو بنگلورو سٹی جامع مسجد ٹرسٹ کے بیت المال میں اپنی جانب رقم جمع کرتے ہوئے اپنے خرچ سے پانچ غریب جوڑوں کی شادی کا اہتماکیا ،کہ غریبوں کی خوشی میں خود کی خوشی محسوس کی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے،قریب سے دیکھا ہے اللہ نے حافظ کرناٹکی کے سینے میں ایک ایساء دل رکھا ہے جو ہمہ وقت قوم کے ناداروں و غریبوں کے لئے فکر مند رہتا ہے،اللہ نے مال سے نوازہ ہے چاہتے تو اپنے علاقے میں اپنے نام و نمود کو ظاہر کرتے ہوئے پانچ نہیں دس شادیا ں کرسکتے تھے مگر ملت کا اتحاد اور ایک پلیٹ فارم پر کام کرنے کو کس طرح ترجیع دینے کے عادی ہیں یہاں ہمیں دیکھنے کو مل سکتا ہے،کہ اپنے فرزند کی شادی سے پہلے پانچ غریب لڑکیوں کی شادی کرانے کو ترجیع دی اور بنگلورو سٹی جامع مسجد ٹرسٹ کے زیر انتظام اپنے خرچ سے پانچ لڑکیوں کی شادی کا انتظام کیا ،معاشرے کے سبھی صاحب ثروت احباب اگر اسی طرز پر کام کریں اور غریب ماں باپ کی دُکھ میں شامل ہوں اور نکاح کو آسان بنانے کی کوشش کی جائے تو یقینا ایک سالح معاشرہ تشکیل دینے میں کو ئی رُکاؤٹ نہیں ہوگی بنگلورو سٹی جامع مسجد ٹرسٹ کی جانب سے فی جوڑے کےلئے 45 ہزار روپیئے جامع مسجد ٹرسٹ کے بیت المال میں جمع کرنے پڑتے ہیں اس کے بعد نکاح کی تقریب انجام دی جاتی ہے،اس رقم سے فی جوڑے کو ایک بیرو ایک پلنگ اور چند جوڑے کپڑوں کے ساتھ دُلہاکے لئے ایک گھڑی دی جاتی ہے کس قدر آسانی سے نکاح ہوگیا ،مگر لوگ دولت کے نشے میں اتنی رقم اپنی شادیوں میں فضول کرچی پر لُٹا دیتے ہیں لائق ستائش ہے حافظ کرناٹکی کا یہ اقدام میں تو چاہتا ہوں کہ ہر قریہ قصبہ دیہات میں جامع مسجد کے زیر انتظام بڑے شہروں میں دو دو تین جگہوں پر اس طرح کی ماہانہ شادیوں کا انتطام ہواور اہل ثروت احباب اپنے بچوں کی شادی سے پہلے قوم کی غریب لڑکیوں کے تعلق سے سوچیں جس طرح حافط کرناٹکی کی سوچ ہے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے ایک صالح معاشرہ تشکیل دینے میں کوئی رُکاؤٹ نہیں ہوگی ،اس لئے کہ سماج و معاشرے میں نکاح کو آسان بنایا جائے تو کئی طرح مسائل سے سماج کی حفاظت ہوگی،رسولِ کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ تین قسم کے لوگوں کی مدد کا ذمہ اللہ رب العزت نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے ،ایک وہ جو غلام ہو اور مقررہ رقم کے ذریعہ غلامی سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہو،دوسرا وہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہو، تیسرا وہ پاک دامن رہنے کے لئے نکاح کرنا چاہتا ہو،اس سے اندازہ ہو اکہ پاک دامن ہونے کا جذبہ کتنا عظیم جذبہ ہے کہ اپنی جنسی خواہش کے لئے اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ ہو، جبکہ ہر مرد و عورت کی فطرت میں یہ خواہش انگرائیاں لینے کو بے تاب رہتی ہیں کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے جنسی خواہش کی تکمیل کرے مگر اللہ کے نیک طبیعت بندے ہمیشہ اللہ کے مقرر کردہ حدودد کے پابند رہتے ہیں ،مگر آج کل سرِ راہ نوجوان نسل کو ایسے مواقع فرہم ہیں کہ اپنی جنسی خواہش اللہ رب العزت کے مقرر کردہ حدود کی پامالی کرتے ہوئے پوری کرے ،کیونکہ معاشر ے میں شادی ایک بہت بڑاالمیہ بنی ہوئی ہے لوگ اپنے پڑوس میں گاؤن میں قصبہ میں شہر میں موجود غریب گھرانوں میں بن بیاہ بیٹھی بیٹیوں کی بہنوں کی پرواہ کئے بغیر بے جا رسم و رواج اور فضول خرچی کے ساتھ شادیا ں رچانے کے عادی بنتے جارہے ہیں ،جس کی وجہ معاشرے کی شادی کی عمر کو پہنچی بیٹیاں فکر سے اندر ہی اندر گھٹتی جارہی ہیں کہیں کہیں تو ایسے معاملات وجود میں آرہے ہیں کہ کہنے سے زبان لرز اُٹھتی ہے ،اِن حالات میں نکاح کو آسان اور اہل ثروت افراد کی جانب سے حافظ کرناٹکی کے طرز پر عمل پیرا ہوکر سماج میں کام کیا جائے توبہ آسانی ایک صالح تشکیل دیا جاسکتا ہے ،جہان نا خوف ہوگا ،اور ناہی قوم کو رسوا ہونا پڑے گا خدا ملت کے تمام صاحب ثروت احباب کو فضول خرچی اور بے جا رسم و رواج سے محفوظ کرے اور ملت کے غریب بچوں کوخاص طور سے لڑکیوں کو بھی اپنی بیٹیوں کی کی طرح سمجھیں تب جا کے ایک صالح معاشرہ وجود میں آسکتا ہے بشرطیکہ قوم و ملت کےصاحب ثروت افراد حافظ کرناٹکی کے نقش و قدم پر چلنے لگیں ،اور اس اُمت میں کثر ت کا سبب بنیں کہ پیغمبر اسلام کو اُمت کی کثرت سے خوشی ہوگی،اپنے نبی ﷺ کو خوش کرنا ہے تو نکاح کو آسان بنائیں یہ کام اہل ثروت افراد کا ہے۔
