خود اعتمادی کے ساتھ مادری زبان اردو پڑھیے اور اس کی قدر کیجئے: ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی
مادری زبان اردو ہی بچوں کی زندگی میں ترقی کی نئی روشنی لائیگی: ڈاکٹر محمد منظور نعمان
شکاری پور:۔ گلشن زبیدہ میں سالانہ جلسہ جشن ادب اطفال کے افتتاحی اجلاس کے موقع سے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی ایک سوآٹھویں کتاب ’’ادب رنگ‘‘ کے اجرا کا اہتمام کیاگیا اور مادری زبان اردو کی اہمیت و افادیت پر ایک مختصر مگر جامع جلسے کا انعقاد کیاگیا۔ اس جلسے کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر حافظؔکرناٹکی نے ادا کیے۔ جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر سید شاہ مدار عقیل اور مہمان اعزازی کی حیثیت سے ڈاکٹر محمد منظور نعمان پرنسپل لال بہادر شاستری گورنمنٹ کالج بنگلور نے شرکت کی۔ دیگر شرکا ئے مجلس میں ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی، انیس الرّحمان سکریٹری ،ایچ،کے فاؤنڈیشن،انجینئر محمد شعیب ممبر مجلس شوریٰ مدرسہ مدینۃ العلوم، مولانا محمد اظہر الدّین اظہرندوی مہتمم مدرسہ مدینۃ العلوم شکاری پور،عبدالعزیزمیر معلم زبیدہ ہائر پرائمری اسکول، حافظ ناصرامام ہلیور مسجد کے علاوہ بھی بہت سارے اساتذہ اور طلبا اور عمائدین شہرشامل تھے۔ اس موقع سے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی ایک سو آٹھویں کتاب ’’ادب رنگ‘ ،کا اجرا ڈاکٹر منظور نعمان نے کیا۔ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ’’اردو ہندوستان کے عوام اور خواص دونوں کی زبان ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو ولیوں کے گودوں میں پلی اور صوفیوں کے منہ سے نکلی اور راجا و مہاراجا کے آسن پر بیٹھی اور غریبوں کی جھونپڑی میں ہنسی کھیلی، اس طرح یہ زبان ہندوستان کے رگ و ریشے میں بس گئی۔ یہ زبان انسانیت اور شرافت کا زیور سمجھی جاتی ہے اور علمی و عملی زندگی میں ترقی کی راہیں کھولتی ہے۔ آپ اردو پڑھ کر صوفی، ولی، شاعر، تاجر، سیاست داں، وکیل، جج، سائنس داں، افسر، لائر، جوجی چاہے بن سکتے ہیں، یہ زبان آپ کی زندگی میں تہذیب کے ساتھ ساتھ معاشی خوشحالی کا پیغام بھی لاتی ہے۔ صحافت سے لے کر درس و تدریس تک اور خطابت سے لے کر حکومت تک اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس لیے دل کھول کر خود اعتمادی کے ساتھ مادری زبان اردو پڑھیے اور اس کی قدر کیجئے۔‘‘مہمان خصوصی پروفیسر سید شاہ مدار عقیل نے کہا کہ’’اردو کے ادباوشعرا عام طور پر کسی ایک ہی صنف میں پوری زندگی گذاردیتے ہیں۔ جبکہ دوسری زبان کے شعرا تمام اصناف میں بہ یک وقت طبع آزمائی کرتے ہیں۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ حافظؔ کرناٹکی اردو کے ایسے باکمال ادیب و شاعر ہیں جو نظم و نثر دونوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ اور خوب کرتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مادری زبان کا حق ادا کریں۔ اور اسی کو اپنا ذریعہ تعلیم بنائیں۔ یہی آپ کی ترقی کی راہیں کھولے گی۔‘‘ڈاکٹر منظور نعمان نے بہت دلچسپ خطاب کیا اور مختلف نوعیت کی کہانیوں اور واقعات سے حاضرین کی توجہ حاصل کی اور طالبات و طلبا کو اپنی مادری زبان کی اہمیت و افادیت، اور اس کی وسعت اور اس کی چاشنی اور شیرینی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ مادری زبان کس طرح بچوں کی زندگی میں ترقی کی نئی روشنی لائیگی۔ انہوں نے مادری زبان کی تدریسی نزاکت سے بھی لوگوں کو آگاہ کیا۔آفاق عالم صدیقی نے کہا کہ’’اردو زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے لوگوں کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔ حافظؔ کرناٹکی نے اردو زبان و ادب کے فروغ اور ترقی کا نہ صرف یہ کہ خواب دیکھا بلکہ اس خواب کو نئی نسل کے دلوں میں بسادیا۔ ان کی آنکھوں کا سرمہ بنادیا، ایسے ہی لوگوں کی محنت اور لگن سے اردو زبان کے فروغ کی راہیں کھلتی ہیں۔‘‘ ’’اردو زبان ترقی میں رکاوٹ نہیں بنتی ہے ۔ مرزا رسوا، حکیم مومن خان، ذوق، سرسیداحمد خان، ڈپٹی نذیر احمد، اکبر الہ آبادی، یہ سب کے سب اردو کے شاعر و ادیب تھے مگر اصل میں کوئی سائنس داں تو کوئی جج تو کوئی افسر تھے۔اس لیے اردو خوداعتمادی سے پڑھیے ۔ ‘ ‘انیس الرّحمان نے کہا کہ’’مادری زبان میں علم حاصل کرنا اس لیے آسان ہوجاتا ہے کہ اس زبان میں کسی بھی مسٔلے کو سمجھنا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے مادری زبان میں تعلیم کے حصول کو اپنا بنیادی حق جان کر اس پر عمل کریں۔‘‘انجینئر محمد شعیب نے کہا کہ انجینئرنگ، ڈاکٹری آپ چاہے جو بھی تعلیم حاصل کرنا چاہیں حاصل کریں، آپ جس میڈیم میں پڑھنا چاہتے ہیں پڑھیں۔ آپ جس مضمون میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں کریں۔ مگر اپنی مادری زبان کو کبھی فراموش نہ کریں، کیوں کہ یہی ہماری شناخت ہے۔‘‘عبدالعزیز نے کہا کہ’’ہمارے بچے انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں۔ کنڑا میڈیم میں پڑھتے ہیں، اردو میڈیم میں پڑھتے ہیں۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ جو بچے انگلش اور کنڑا میڈیم میں پڑھتے ہیں وہ بھی اردو زبان سے محبت کرتے ہیں، اور اپنے ادب اور شعر کی چاشنی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔‘‘مولانا اظہر ندوی نے نہایت خوب صورتی سے نظامت کے فرائض ادا کیے۔ اور نظامت کرتے ہوئے مادری زبان کی اہمیت پر نہایت اہم ز کلمات کہے۔ اور بتایا کہ اردو زبان ہی میں ہمارا مذہبی سرمایہ سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس لیے مادری زبان کی حفاظت نہایت ضروری ہے۔حافظ ناصر نے کہا کہ’’میرا تو کام ہی بچوں کے دلوں میں مادری زبان سے محبت کا جذبہ پیدا کرنا، ہے میں بچوں میں ادبی ذوق کی تربیت کا فریضہ انجام دیتا ہوں۔ اور مجھے خوشی ہے کہ بچوں کے اندر اپنی زبان سے محبت کا بھرپور جوش اور جذبہ پایا جاتاہے۔‘‘اس خاص قسم کے اجلاس میں ڈاکٹر محمد منظور نعمان کا اعزاز کیاگیا اور انہیں اعترافیہ پیش کیاگیا۔ ان کے علاوہ پروفیسر سید شاہ مدار عقیل اور دوسرے کئی لوگوں کا اعزازکیاگیا۔ جس میں انیس الرّحمان، اظہر ندوی، آفاق عالم صدیقی، انجنئر محمد شعیب،عبدالعزیز، حافظ ناصر اور دوسرے کئی حضرات کے نام شامل ہیں۔ یہ کامیاب جلسہ مولانا اظہر الدّین اظہر ندوی کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہونچا۔
