بنگلورو:۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس ایچ پی سندیش نے اپنے ایک فیصلہ میں ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) میں داغدار کردار والے افسران کو تعینات نہ کیا جائے ۔ بنگلورو کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں رشوت طلب کے تعلق سے نائب تحصیلدار فوجداری عرضی پر سماعت کے بعد جسٹس سندیش کی ایک رکنی بینچ نے ریاستی چیف سیکریٹری کے نام یہ ہدایت جاری کی ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اے سی بی میں افسران کو تعینات کرتے وقت سب سے پہلے مفاد عامہ کو نظر میں رکھنا چاہیے ۔ ریاست میں بدعنوانی روکنے کے مقصد سے اے سی بی کی تشکیل ہوئی ہے ۔ اس کے افسران کی تعیناتی کے وقت سب سے اہم بات اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے ۔ ان کے اندر اے سی بی کے وقار کا خیال رکھنے اور ان کے اندر اعلیٰ منصب کو سنبھالنے کی اہلیت رہنی چاہیے ۔ ان افسران کا سروس ریکارڈ اور ان کے سوجھ بوجھ کوبھی دھیان میں رکھ کر ان کو تعینات کرنا چاہئے۔مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے سی بی افسران کی تعیناتی میں کسی بھی اندرونی یا بیرونی دباو کا اثر نہ ہو۔ ایسے افسروں یا ان کے خاندان سے متعلقہ افراد کے خلاف بھی اے سی بی یا لوک آیوکتہ کی تحقیقات نہیں چل رہی ہو ۔
