منڈیا:۔منڈیاضلع کے سری رنگا پٹن کی جامع مسجدمیں غیر قانونی طریقے سے چلائے جارہے مدرسہ کو بندکرنےکے تعلق سے کرناٹکا ہائی کورٹ میں دائر عرضی پر شنوائی کرنے کے بعد ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کونوٹس جاری کی ہے۔اس سلسلے میں رام نگر ضلع کےکنکاپورتعلقہ کے ابھیشک گوڈانے ایک پی آئی ایل دائرکی تھی،جس کی شنوائی جسٹس پی بی وارالے اور جسٹس کرشنا ایس دکشت پر مشتمل ڈیویژنل بینچ نے کی اور مرکزی حکومت کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر،ریاست کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ، منڈیاضلع کے ڈپٹی کمشنر کو نوٹس جاری کی ہے۔عرضی میں بتایا گیا ہے کہ سری رنگاپٹن کی جامع مسجدکومیسوروکے راجا ٹیپوسلطان نے تعمیرکروائی تھی،یہ مسجد تاریخی مسجد ہے،اس مسجد کو محکمہ آثارِ قدیمہ کی سرپرستی میں نگرانی کی جارہی ہے،لیکن اس مسجدکے اندرغیر قانونی طریقے سے مدرسہ بنایاگیاہے۔مدرسہ میں50-60 طلباء زیر تعلیم ہیں،یہ ان کاقیام وطعام،نہانااسی مسجدکے احاطے میں ہے،طلباء اپنے کپڑوں کو سوکھانے کیلئے اسی مسجدکی املاک کااستعمال کرتے ہیں،جس کی وجہ سے اس املاک کو نقصان پہنچ رہاہے،یہ آرکیالوجی ایکٹ1958 کی شق 16-8-7کی مخالفت ہے۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کو شکایت دی گئی تھی کہ مسجدکے احاطے سے مدرسہ ہٹایاجائے،سال2022 میں مدرسہ ہٹانے کی گذارش کی گئی تھی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔عرضی گذارنے مطالبہ کیاہے کہ مسجدکے احاطے سے مدرسہ اور دیگر غیر قانونی عمارتوں کو ہٹایاجائے۔
