شیموگہ:مسلمانوں کی1.50 لاکھ کی آبادی،80 ہزار ووٹران:پھر بھی دوسرے ہیں مسلمانوں پر بھاری

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔شیموگہ جسے تہذیب ،تعلیم اور ثقافت کا گڑھ مانا جاتا ہے او ریہاں کے تعلیمی نظام سے لیکر ترقیاتی شعبوں کی بات ملک بھرمیں کی جاتی ہے اور شیموگہ شہر الگ ہی مقام رکھتا ہے،اس شہرمیں مسلمانوں کی آبادی تقریباً1.50 لاکھ ہے،80 ہزارکے قریب ووٹران ہیں، مالداروں کی کوئی کمی نہیں ہے،سپاری کے باغبانوں سے لیکر تجارت کی منڈیوں میں بھی مسلمانوں کی معقول نمائندگی ہے،لیکن اس سب کے باوجود شیموگہ شہرمیں دوسری قومیں مسلمانوں پر بھاری ہیں۔قیادت کی بات کی جائے تو مسلمانوں کی مضبوط قیادت نہیں ہے،مرکزی انجمن کی بات کی جائے تو مسلمانوں کی کوئی متفقہ انجمن نہیں ہے،تعلیم کی بات کی جائے تو اعلیٰ تعلیم کے کوئی مراکز نہیں ہیں،کارخانوں کی بات کی جائے تو مسلمانوں کا کوئی کارخانہ نہیں ہے۔نہ انجینئرنگ کالج ہے نہ ہی لاء کالج ہے،نہ فارمسی کالج ہے نہ ہی میڈیکل کالج ہے۔یہاں تک کے پی یو سی کے بعد بہترتعلیم فراہم کرنے کیلئے مسلمانوں کا کوئی ادارہ مسلمانوں کے درمیان نہیں ہے،جبکہ لنگایت،شٹی،گوڈا،ایس سی،ایس ٹی،کوربا سماج کی آبادی مسلمانوں سے کم ہونے کے باوجود ان کے یہاں منظم تعلیمی نظام موجودہے۔ان کے اپنے کارخانے ہیں جس کے ذریعے سے وہ ہزاروں لوگوں کو وہ روزگارفراہم کررہے ہیں،ان کے اپنے تعلیمی اداروں میں نہ صرف ان کی قوم کے طلباءتعلیم حاصل کررہے ہیں،بلکہ مسلمانوں کے طلباء بھی تعلیم حاصل کرنے کیلئے مجبورہیں۔حال ہی میں ایک سروے کرنےوالی غیر سرکاری ایجنسی نے شیموگہ کارخ کیاتھا،اس دوران جب اس ایجنسی نے یہ سوالات کئے ہیں کہ مسلمانوں کےتعلیمی ادارے ہائی اسکول سے اوپرکونسے ہیں تو جواب میں دو پی یو کالج اور ایک ڈگری کالج کے علاوہ اور کوئی ادارہ بتانے کے لائق نہیں تھا۔میڈیکل کالجس کاسوال اٹھاتو جواب میں دو پیرامیڈیکل کورسس کے اداروں کے علاوہ اورکوئی ادارہ دکھائی نہیں دیا،جب سوال مسلمانوں کے مضبوط لیڈرکےتعلق سے پوچھاگیاتو اس کا جواب دینا مشکل ہوا۔جب مسلمانوں کی مرکزی انجمن یاکمیٹی کے تعلق سے پوچھاگیاتو اس کا جواب بھی نہ میں ہی دینا پڑا ہے ۔ بھٹکل ،داونگیرے،ٹمکورو جیسے شہروں میں جہاں مسلمانوں کی مرکزی قیادت مضبوط ہے،جہاں پر مسلمانوں کی تعلیم کیلئے ایل کے جی سے لیکر پی جی تک ادارے موجود ہیں،جہاں پر مرکزی تنظیمیں مضبوط ہیں،وہیں مسلمانوں کے کثیر آبادی والے شیموگہ میں مسلمانوں کا وجود صرف اور صرف ذاتی مفادات اور ذاتی طورپر مالداروں کے طورپر دیکھاجاسکتا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ شیموگہ میں مالداروں کی کمی ہے،بلکہ یہاں بھی صاحب حیثیت لوگوں کی تعدادکا فی بڑی ہے،لیکن وہ اس سمت میں غوروفکر کرنا نہیں چاہ رہے ہیں۔ہر ایک مالدار زمین پر زمین  خریدنا چاہ رہاہے ، اپنےا ور اپنے اہل خانہ کے تعلق سے فکر مند ہے،بینکوں میں کروڑ وں روپئے پڑے ہوئے ہیں،لیکن اس کا استعمال کرتے ہوئے خدمت او رتجارت کو بڑھاوا دینا نہیں چاہ رہے ہیں۔اگر مسلمان چاہیں تو شیموگہ جیسے شہرمیں کئی کارخانے قائم کرسکتے ہیں،اسکراپ کابڑاکاروبار شیموگہ سے جڑاہواہے،اگریہ کاروباری چاہے تو یہاں اسٹیل کی فیکٹریاں کھڑے کرسکتی ہیں،میان پائور اس قدرہے کہ یہاں گارمنٹس کے کارخانے بنائے جاسکتے ہیں،آبادی کے لحاظ سے دیکھاجائے تو اعلیٰ تعلیم کیلئے ادارے قائم کئے جاسکتے ہیں۔لیکن اس سمت میں غوروفکر کرنابھی لوگ نہیں چاہ رہے ہیں اورنہ ہی صاحب استطاعت لوگ یہ کوشش کررہے ہیں کہ ان کے  ذریعے سے روزگار اور تعلیم کے مواقع پیداہوں،یہاں سب لوگ میں ہوا اورمیراہوا کی بنیاد پر کام کررہے ہیں۔جب قیادت کی بات کی جاتی تو ہر کوئی کارپوریٹر یا ایم ایل اے بن کر ہی قیادت کرنا چاہ رہا ہے،جبکہ بھارت فائونڈری،پرفیکٹ الاوئز ، شانتلاانڈسٹریز،شیموگہ انڈسٹریز جیسے صنعتکار اپنے یہاں ہزاروں لوگوں کوروزگاردیتے ہوئے صنعت کے شعبے میں قیادت کا جھنڈا اٹھایا ہو ا ہے ۔وہیں تعلیم کی بات کی جائے تو نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی،ڈی وی ایس سوسائٹی،پی ای ایس ٹرسٹ،پیس جیسے تعلیمی ادارے لاکھوں طلباء کو تعلیم دے رہے ہیں۔سوال یہ اٹھ رہاہے کہ آخر کب تک مسلمان محدودسوچ اور محدود وسائل کے ساتھ اپنے وجود کو برقرار رکھیں گے؟۔