نرنترا جیوتی منصوبےمیں بدعنوانی کے الزام کے بعدخاموش کیوں ہیں ایشورپا: پرسنناکمار

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:دیہی علاقوں میں دی جارہی نرتراجیوتی اسکیم سال 2019 تک مکمل کیا جانا تھا لیکن یہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ اس معاملے میں خود وزیر ایشورپا نے بدعنوانی کا الزام لگایا گیا تھااورانہوں نےاس بدعنوانی کو سامنے لانے کیلئےڈی سی کی زیرقیادت میں افسران کی ٹیم بھی تشکیل دی تھی۔لیکن اس ٹیم نے کیا نتائج نکالے ہیں اس بات کو ظاہر کرنے سے ایشورپا انکارکررہے ہیں۔ اسکی وجہ کیا ہے آخر وزیر موصوف خاموش کیوں ہے ؟۔ یہ الزام سابق رکن اسمبلی کے بی پرسنناکمار نےعائد کئے ہیں۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں کی عوام کو سہولیات پہنچانے کیلئے نافذ کئے منصوبے میں بدعنوانی ہونے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر ایشورپا نےایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اوراس کمیٹی کو تفتیش کرنے بدعنوانی میں ملوث افراد کا چہرہ سامنے لانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ نرتراجیوتی منصوبے کے نافذ میں حکومت ناکام ہوئی ہے۔ قریب 250 کروڑ کی لاگت پرشروع کئے گئے اس منصوبے کو سال 2019 میں ہی مکمل ہونا چاہئے تھا لیکن اس کی نامکمل تکمیل کو لیکر وزیر ایشورپا نے 3ماہ قبل اس اسکیم میں 5 کروڑ تک بدعنوانی پیش آنے کا الزام لگایا تھا۔ عہدیداروں اورٹھیکداروں کو اس بدعنوانی میں ملوث ہونے کا شبہ بھی ظاہر کیا تھا۔ اتنا ہی نہیں وزیر موصوف نے اس کا پردہ فاش کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کی رہنمائی میں 10 افراد پر مشتمل اے ای ای ٹیم بھی تشکیل دی تھی۔ لیکن بدعنوانی کا الزام لگانے والے ایشورپا عوام کے سامنے اس کے نتائج کو سامنے نہیں لارہے ہیں۔ جبکہ 10 اے ای ای کی ٹیم نے بدعنوانی کرنے والوں کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کرچکے ہیں۔ لیکن وزیر ایشورپا نے یہ تفصیلات اب تک عوام کے سامنے نہیں رکھی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری طور پر اس معاملے کا خلاصہ عوام کے سامنے لایا جانا چاہئے اوربدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر زور دیا ہے۔