دہلی:رائوس ایونیو کورٹ نے ای ڈی کی شکایت پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو طلب کیا ہے، کیونکہ آپ کے سربراہ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے پانچ نوٹسوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔ انہیں شراب ایکسائز پالیسی اسکام کیس میں پوچھ گچھ کے لیے حاضر ہونے کو کہا گیا تھا۔آپ لیڈر نے ابھی تک نئی ایکسائز پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے بھیجے گئے 5 سمن کا جواب نہیں دیا ہے۔ ای ڈی نے اروند کیجریوال کو پوچھ گچھ کے لیے پانچ بار طلب کیا تھا، لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔ جس کے بعد تفتیشی ایجنسی نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔آج اس معاملے کی دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ میں سماعت ہوئی اور عدالت نے اروند کیجریوال کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کا بیان راؤس ایونیو کورٹ کی طرف سے اروند کیجریوال کو جاری نوٹس پر سامنے آیا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ وہ عدالتی حکم کا مطالعہ کر رہے ہیں۔قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ عدالت کو بتائیں گے کہ ای ڈی کے تمام سمن کیسے غیر قانونی تھے۔ پہلا سمن سی ایم کیجریوال کو بھیجا گیا – 2 نومبر 2023، دوسرا سمن – 21 دسمبر 2023، تیسرا سمن – 3 جنوری 2024، چوتھا سمن – 18 جنوری 2024، پانچواں سمن – 2 فروری 2024 کو بھیجا گیا تھا۔ سی ایم کیجریوال نے اس سمن کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ قانونی طور پر درست سمن کو پورا کریں گے۔ الزام ہے کہ دہلی حکومت کی 2021-22 کی ایکسائز پالیسی میں شراب کے تاجروں کو لائسنس دینے کے لیے کچھ تاجروں کو فائدہ دیا گیا، جنہوں نے مبینہ طور پر اس کے لیے رشوت دی تھی۔ تاہم عام آدمی پارٹی نے بارہا ان الزامات کی تردید کی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ ای ڈی کو سمن بھیجنے سے پہلے سی بی آئی نے 16 اپریل 2023 کو کیجریوال سے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔
