دہرادون:۔ بی جے پی پارٹی کی ماتحت تیرتھ سرکار کو کرونا کے تئیں ناقص انتظامات پر ہائی کورٹ نے زبردست توبیخ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بچوں کو مرنے کے لئے نہیں چھوڑ سکتے ، آپ کے انتظامات کافی نہیں ہیں، ایک ماہ میں ڈیلٹا پلس ویری ینٹ پورے ملک میں پھیل گیا، صوبہ میں ا س کے پھیلنے میں تین ماہ سے بھی کم کا وقت لگے گا،آپ بچوں کو بچانے کے لئے کیا کررہے ہیں اور کیا کریں گے؟ اتراکھنڈ کی ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے یہ بات کہی ، جب کرونا کی تیسری لہر اور وائرس کے ڈیلٹا پلس ویری ینٹ کے لئے اتراکھنڈ حکومت کی تیاریوں کے متعلق بحث جاری ہے۔ حکومت کے جوابات سے ناراض عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ’حکومت کو آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام نہیں کرنا چاہئے‘۔۔حکومت کے رویہ پر سخت الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمیں بے وقوف نہ بنائیں ، ہمیں حقیت کا علم ہے ، اور آپ چیف جسٹس کو یہ نہیں بتائیں کہ اتراکھنڈ میں رام راجیہ ہے، اور لوگ سورگ میں رہتے ہیں۔ عدالت نے ایمبولینسوں کی مناسب تعداد کے بارے میں حکومت کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھایا۔عدالت نے کہا کہ آپ کے پاس کافی ایمبولنس نہیں ہیں ، آپ کا دعویٰ سراسر غلط ہے۔ آپ کے دعوے کے برعکس ایسی اکثر اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں کہ پہاڑی علاقوں میں حاملہ خواتین کو ایمبولینس نہیں مل پاتی ہے ، لہٰذا انہیں چارپائیوں یا پالکیوں کے ذریعہ اسپتال لے جایا گیا۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے ریاستی بیوروکریسی کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔عدالت نے کہا کہ وبا کے دور میں جب جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، تو بیوروکریسی کام میں تاخیر کرتے ہیں ۔ عدالت نے اس سماعت کو 7 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ہیلتھ سیکریٹری اور چیف سکریٹری کو اس وقت کے اندر مکمل تفصیلات کے ساتھ ایک حلف نامہ داخل کرنا چاہئے۔
