شیموگہ:۔میکے داٹو،مہادائی،وی آئی ایس ایل کارخانہ،شراوتی بیاک واٹر متاثرین سمیت مختلف مسائل پر ریاست کے اراکین پارلیمان کبھی بھی مودی حکومت سے بات نہیں کی ہے،اب الیکشن قریب آتے ہی وہ ریاست کے مسائل کا درد چھلکا کر ناٹک کررہے ہیں۔یہ الزام کے پی سی سی ترجمان آئینورمنجوناتھ نے کیا ہے ۔ انہوں نے آج نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کیلئے جو مالیاتی امدادمرکزکی جانب سے ملنی چاہیے تھی اس پر بھی اراکین پارلیمان خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں،حب الوطنی کاناٹک کررہے ہیں۔رکن پارلیمان ڈی کے سریش نے ریاست کے ساتھ ہورہی نا انصافی کے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے ، اس دوران انہوں نے ملک کو تقسیم کرنے کی بات کہی تھی،غصے کے موقع پر ایسی باتیں اکثرہوجاتی ہیں،اسی کو بنیاد بنا کر سیاست کرنا درست نہیں ہے،اگر واقعی میں ملک دشمن بیانات کا تذکرہ کیاجائے تو اننت کمارہیگڈے،ایشورپاکی باتوں کو کیاکہاجائے۔انہوں نے ایشورپاپر طنز کرتے ہوئے کہاکہ ساری زندگی انہوں نے منافرت پھیلانے کی کوشش کی ہے،ہر بار متنازعہ بیانات دیتے آئے ہیں،اگرپُر تشدد بیانات دینےوالوں کو گولی مارنے کا قانون بنایاجائے تو سب سے پہلے کس پر گولی چلائی جائیگی یہ ایشورپا کو سوچنا ہوگا۔ڈی کے شیوکمارپر اکثر ایشورپایہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ جیل کو جاکر آنےوالوں میں سے ہیں،اگر ایشورپاکو یڈی یورپاپر طنزکرناہے تو سیدھے سیدھے یڈی یورپاکانام لیں،کیونکہ یڈی یورپابھی جیل ہوکر آنےوالوں میں سے ہیں ۔ پریس کانفرنس میں وائی ایچ ناگراج ، سیدوحیداڈو،شی جوپاشاہ وغیرہ موجودتھے۔
