شیموگہ :۔ کورونا وباء کے موقع پر شیموگہ ضلع میں محکمہ صحت عامہ کے لئے اپنی بیش بہاخدمات انجام دینے والے ڈاکٹر عرفان احمد سونور نے ریاستی حکومت کی ذمہ داریوں کو گڈبائے کہتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے اپنا مستقبل جوڑلیاہے ۔ ڈاکٹر عرفان احمد نے کل 22 جون کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا اور وہ کل یعنی 26 جون کو وہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کے ساتھ کام کرنا شروع کرینگے ۔ ڈاکٹر عرفان احمدکا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے لئے منتخب ہونا نہ صرف انکے لئے فخر کی بات ہے بلکہ پوری ریاست اور ملت کے لئے خوشی کی بات ہے ۔ڈبلیو ہیچ اومیں وہ بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دینگے اور یہ عہدہ ایک سائنسدان کے برابر کا عہدہ ہے ۔ ڈاکٹر عرفان نے بذریعہ فون روزنامہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس وقت اروناچل پردیش میں ہیں اور وہ کل سے ہی ڈبلیو ایچ او کیلئے کام کرنا شروع کردینگے،یہ میرے لئے ایک اعزازہے کہ میں ڈبلیو ایچ اونے مجھے میری صلاحیتوں کی بنیاد پر منتخب کیاہے۔شیموگہ میں رہتے ہوئے میں نے بہت سارے موقعوں پرعوام کی خدمت کرنے کے مواقع حاصل کئے اور جو کچھ میں اپنی قوم کیلئے کرسکتاتھا اُسے پوراکیا اور میری آگے بھی یہ کوشش رہے گی کہ جب بھی خدمت کا موقع ملے تو میں اُسےنبھائونگا۔ڈاکتر عرفان نے بتایاکہ ہر نوجوان کی ایک ہی خواہش ہے کہ وہ ڈاکٹر بنے،ایم ڈی بنے،اچھی تنخواہ حاصل کرے ، اچھی اسپتال میں کام کرتے ہوئے اپنے اور اپنے گھروالوں کیلئے جیئے،مگر ایسی سوچ رکھنے والے بہت سے لوگ ہوتے ہیں مگران لوگوں میں سے وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جوکچھ الگ سوچ کر تحقیق کے کام میں آگے بڑھتے ہیں۔آج قومِ مسلم کو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے شعبے میں آگے آنےکی ضرورت ہے،ہمیں ایساکام کرنا ہوگا جس سے ہمارانام ہمارے جانے کے بعد بھی باقی رہے ، جس طرح سے لوئس پاسچر،جے ایل برڈ،این اسٹین،اساق نیوٹان اور سرسی وی رامن جیسے سائنسدانوں نے اپنا روشن کیاہے،اسی طرح سے ہماری زندگی بھی ایک خاص کرتے ہوئے ختم ہوناچاہیے۔انہوں نے نئی نسل کو دعوت دی ہے کہ وہ کسی بھی شعبے میں تعلیم حاصل کریں ، مگر صرف روزی روٹی کے مقصد کو بنیاد نہ بنائیں۔میں نے ہمیشہ سے ہی سائنس کے شعبے میں تحقیق کرنے کا عزم رکھاہے،یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے شہراور اپنے لوگوں کو چھوڑکر ڈبلیو ایچ اوکے ساتھ کام کرنے کیلئے اپنے آپ کو تیارکیاہے۔یقیناً ہر کام میں کامیابی ملتی ہے اور ہر جدوجہد کے بعدآسانی ملتی ہے۔اسی طرح سے سائنس کے شعبے میں بھی ترقی کریں،نام بھی ملے گا اور پیسہ بھی ملے گا۔اس دوران انہوں نے شیموگہ میں کوویڈکی وباء کے موقع پر جو مشکلات درپیش تھے،اُس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یقیناً کوویڈکے ایام میں متعصبانہ ماحول میں کام کرنا مشکل تھا،مگر یہ ہمارے لئے چیلنج تھااور میں اس سنگین موقع پر بھی ڈٹ کر اپنی ذمہ دارایوں کو نبھاتارہا۔مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ واٹس ایپ یونیورسٹی کے حوالوں پربھروسہ نہ کریں بلکہ ہر چیزکی تحقیق قابل اعتماد ذرائعوں سے کریں۔شیموگہ میرے لئے بہترین مقام تھا اور وہاں کے لوگوں نے مجھےبہت عزت دی ،یہ میرے اچھی بات ہے۔
