شامنور شیوشنکرپا کے بیان سے داونگیرے ضلع بھر کے کانگریس پارٹی کارکنوں میں بے چینی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
داونگیرے :۔پارٹی سے ہٹ کراپنی ذات کے ایک  بی جے پی یم پی بی وائی راگھویندرا کی تائید اور وہ بھی پارلیمانی الیکشن کے قریب ایساء بیان جس سے  ضلع بھر کے دیگر تمام طبقات  سے جڑے کانگریس پارٹی کارکنوں  اور لیڈروں میں بے چینی دیکھنے میں آرہی ہے ،داونگیرے پارلیمان سے اپنی بہو کو پارٹی ٹکٹ کی دعویداری ایک طرف اور دوسری طرف پڑوس کے ضلع میں پارٹی کے خلاف بی جے پی اُمیداور کو جتانے لوگوں سے اپیل اس دوغلی سیاست پر ضلع بھر کے کانگریس پارٹی کارکنوں میں ایک عجیب سی بی چینی دیکھنے میں آرہی ہے ،ایساء لگ رہا ہے کہ اگر اس مرتبہ کانگریس پارٹی شامنور شیوشکرپا کی فیملی سے کسی کو کانگریس پارٹی سے اُمیداوار بناتی ہے تو پارٹی کی شکست یقینی ۔۔! ایسے آثار نمایان طور پر پائے جارہے ہیں،ایک جائزے کے مطابق اکثر پارٹی کارکن یہ کہتے ہوئے مل جاتے ہیں کہ اگر شامنور شیوشنکرپا کو اپنے سماج کی اتنی ہی فکر ہے کہ وہ پارٹی میں رہتے ہوئے مسلسل 1994ء سے پارٹی ٹکٹ پر کامیاب ہورہے اورپارٹی میں  اُنہے مناسب نمائندگی کے بعد موجودہ اسمبلی میں داونگیرے جنوب سے رکن اسمبلی ہوتے ہوئے ،سدارامیا قیادت والی ریاست کی موجودہ حکومت میں اُن کے فرزند  یس یس ملیکارجن وزیر اور داونگیرے ضلع نگران وزیر رہتے ہوئے جن لوگوں نے اُنہیں ووٹ دے کر اسمبلی پہنچایا اُن کی کوئی فکر نہیں1994 ء سے مسلسل کامیابی جن کی طرف سے ہورہی ہے اُس طبقہ کی ترقی اور اُن کے مفادات کوئی معنی نہیں ،یہ الگ بات ہے وہ ویراشیوا مھاسبھا صدر ہیں اُن کی حق کے لئے آواز اُٹھائیں کسی کو کوئی گلہ نہیں مگر جس طبقہ نے اپنی سیاسی لاشعوری کے ذریعہ شیوشنکرپا کو مسلسل کامیاب کراتے ہوئے اسمبلی بھیج رہے ہیں اُن  کی کچھ تو فکر ہونی چاہیئے ،کیا کبھی وہ اُن کے حلقہ انتخاب میں جاکر دیکھے ہیں کہ اُن کو ووٹ دینے والوں کے کیا مسائل ہیں ،آج وہ کانگریس پارٹی سے  ٹکٹ کا دعوی ٰ کررہے ہیں کبھی وہ داونگیرے ضلع کا دورہ کئے ہیں ،کیا ضلع کی عوام کے مسائل کا اُنہیں پتہ بھی ہے،جس طبقہ نے اُنہیں ووٹ دیا اُن کے مفادات اور ترقی کے لئے کیا کبھی آواز اُٹھائی ، برعکس اپنی ہی ذات کے ضلع میں اعلیٰ یعنی "کی” پوسٹ افسران کی تقرری کو لے کر ریاستی حکومت کے خلاف بولنا جبکہ ضلع میں "کی "پوزیشن افسران چاہے  ڈپٹی کمشنر ہو، چیف ایکزیکٹو افسر ہو ،یا پھر سُپریڈنٹ آف پولس ہو، یا اور کوئی محکمہء ہو سب جگہ اُنہی کی ذات سے وابسطہ افراد ہونے کے باوجود کس حد تک اُن کی بات درست ہوسکتی ہے اِن تمام باتوں پر کارکنوں  کے علاوہ اقلیتی طبقہ و دیگر پسماندہ طبقات میں ایک سوچ جنم لینے لگی ہےاوراس بات کو لیکر ایک بحث چھڑی ہوئی ہے ،ضلع میں ناگمہ کیشوموورتی کے بعد ڈاکٹر پربھا ملیکارجن ایک خاتون سامنے آرہی تھی اور لوگ اُنہیں  پارلیمانی الیکشن میں استقبال کرنے کے موڈ میں تھے ، مگر شامنور شیو شنکرپا کے بیان کے بعد ضلع بھر  میں پارٹی کارکنوں میں شامنور شیوشنکرپا کے تین اس بات کو لے کے مزید  بے چینیاور تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی   ہےکہ پارٹی میں رہتے ہوئے پارٹی مخالف بیان پارٹی کے لئے اور پارٹی کارکنوں کے لئے اچھی علامت نہیں  ہوسکتا ،ایک اور  چہرہ سامنے آرہا ہےوہ ہے جی بی ونیے کمار جو کُروبا سماج سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک بہترین تعلیمی خدمت انجام دیتے ہوئے ملک و ریاست میں طلباء کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں معاؤن ہوتے ہوئے اپنا ایک ادارہ ‘انسائٹ آئی اے یس کے قیام کے ذریعہ بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں ،شامنور شیوشنکرپا کے بیان کے بعد جی بی ونیئے کمار کا ضلع بھر میں دورہ کرتے ہوئے کارکنوں کو اعتماد میں لینے کوشش کچھ رنگ لاتی لگ رہی ہیں ، اکثر کانگریس پارٹی کارکن شامنور شیوشنکرپا  کے خلاف آواز اٹھانے سے بھی کتراتے ہیں کہ اگر ہم اِن کے خلاف زبان کھولیں گے تو ہمیں نظرانداز کیا جاسکتا ہے ،عام کارکنوں کی بات تو دور ضلع میں اراکین اسمبلی تک اسی طرح کہتے ہوئے نظر آتے ہیں ،وہ  کہتے ہیں کہ  جب معاملہ میڈیا کے ذریعہ مرکزی و ریاستی سطح تک کی  کانگریس اعلیٰ  قیادت کے علم میں آچکا باوجود اس کے جب اعلیٰ قیادت ہی خاموش ہے تو عام پارٹی کارکن سوائے افسوس کے کیا کرسکتے ہیں ، ریاست میں کانگریس پارٹی کی حکومت ہوتے ہوئے اور اس حکومت میں اُن کے فرزند کو وزیرات دئے جانے کے بعد بھی پارٹی کے خلاف بولنے پر بھی اُن پر کوئی کاروائی نہیں  ہوتی برعکس عام کارکنوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی نظر انداز کیا جاتا ہے ،ایسے میں کانگریس پارٹی شامنور شیوشنکرپا فیملی سے پارلیمانی الیکشن میں کسی کو اپنا اُمیدوار بناتی ہے تو ایسا لگ رہا اور آثار نمایاں ظاہر ہورہے ہیں کہ ضلع میں کانگریس پارٹی کارکنوں کی نظر میں کانگریس اور بی جے پی کوئی فرق نہیں ،اس حد تک پارٹی کارکنوں کی سوچ میں تبدیلی دیکھی جارہی ہے، ریاستی سطح لیڈران میں  مثلا کے پی سی سی صدر ہو یا وزیر اعلیٰ کی طرف سےشامنور شیو شنکرپا کے بیان تعلق سے کچھ نہ کہا جانا اس بات کو تقویت پہنچاتا ہے کہ پارٹی داونگیرےضلع میں  شامنور شیوشنکرپا کے سامنےکوئی معنی رکھتی ،ان حالات میں وفادار پارٹی کارکن گہری کشمکش میں پائے جارہے ہیں ۔دیکھنا ہے اب پارٹی کس کو اپنا اُمیدوار بناتی ہے اور مسلسل چار مرتبہ داونگیرے سے پارلیمان پہنچے بی جے پی اُمیدوار جی یم سدیشور کا بھی ضلع میں  کوئی اہم ترقیاتی کام نا ہونے کی بات جو ہورہی ہے وہ سدیشور کے لئے  اس مرتبہ مشکل پیدا کرسکتی ہے  ،ضلع بھر کا دورہ کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کارکنوں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب نظر آرہے ونئے کمار کی کوشش کیا ہونگی، پارٹی کارکنوں کے علاوہ ضلع کی عوام میں بھی یہ بات پائی جارہی ہے کہ ایک گھر کے افراد کو دو جگہ اسمبلی ٹکٹ  اور وزیرات اور پھر پارلیمانی ٹکٹ دینا کسی صور ت درست نہیں ،اب دیکھنا ہے پارٹی کیا اقدام اُٹھاتی ہے داونگیرے پارلیمان سے شامنور شیوشنکرپا فیملی کو اُمیدوار بناتی ہے یا پھر کوئی نیا چہرہ میدان میں اُتارتی ہے۔