از: ۔ڈاکٹر محمد نصر اللہ خان(شیموگہ)۔ 9845916982

ہر مسلماں رگِ باطل کے لئے نشتر تھا
اس کے آئینہ ہستی میں عمل جوہر تھا
جو بھروسہ تھا اسے قوتِ بازو پر تھا
ہے تمہیںموت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھا
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابلِ میراث ِ پدر کیونکر ہو
دنیا جہاں کی وراثت نوجوان ہوتے ہیں۔ ملک و ملت کی وراثت نوجوان ہوتے ہیں۔ قوموں کی تاریخ بنتی اور بگڑتی نوجوانوں سے ہے۔ حیات وکائنات کے معاملات و موضوعات نوجوانوں کے ارد گرد ہی ہوتے ہیں۔ دنیا کی تصویر اور تقدیر نوجوانوںسے بنتی ہے ، صدیوں کی تاریخ کا اگر مطالعہ کرے تو پتہ چلے گا کہ دنیا کا ہر بڑا کام نوجوانوں سے ہوا ہے۔ کسی بھی ملک و قوم کی دولت ہی نوجوان ہوتے ہیں۔ دنیا کے عظیم سے عظیم انقلابات، کارنامے ، نوجوانوں سے رونماہوئے ہیں۔ دنیا میں تبدیلیوں کا آغاز نوجوانوں سے ہوتا آیا ہے۔ نوجوان سب سے پہلے اپنے گھر کیلئے، والدین کیلئے اپنے خاندان ، اپنے گائوں اپنا شہر اپنی ریاست اپنا ملک اور اپنی قوم کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہو تے ہیں۔دنیا میں بڑی سے بڑی جنگیں نوجوانوں سے جیتی گئی ہیں۔ نوجوان نہ صرف اپنے لئے بلکہ قوم و ملت کے لئے ایک ستون ہوتے ہیں ۔انبیائے علیہ اسلام کے واقعات کا اگر مطالعہ کرے تو تقریبا ہر نبی ہر پیغمبر کو نوجوانوں کا بھر پور ساتھ ملا ۔اس طرح دنیا میں حق و صداقت کی آوازیں نہ صرف سنائی دی بلکہ اس پر لبیک کہتے ہوئے راہ حق کی جانب مائل ہوئے ۔ ہر مقام پر معرکہ حق وباطل میں نوجوانوں کا کردار سب سے اہم رہا۔بزرگوں میں دیکھا جاتا ہے کہ وہ زیادہ تر روایات سے لگے ہوئے ہوتے ہیں ۔روایت سے بغاوت کا مادہ ان میںنہ کے برابر ہوتا ہے۔ تبدل و تغیر تطور و تنور کے تیور نوجوانوں میں ہوتے ہیں ۔ اچھے اور برے کی پہچان کرنے کی صلاحیت اور سوچ نوجوانوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ صرف توانائی جسم کے اعضاء میںنہیں بلکہ سوچنے اور سمجھنے کا مادہ بھی نوجوانوں میں زیادہ ہو تا ہے۔احساس و عمل کی چنگاریاں بھی نوجوانوں میں پھوٹتی ہیں۔سمت و رفتار اور گفتار بھی نوجوانوں کے پاس اچھی ہوتی ہے۔ اگر انسان میںصحت و تندرستی ہو تو یہ دنیا کی سب سے انمول دولت ہوتی ہے اور یہ دولت سے مالا مال نوجوان ہوتے ہیں۔ مرزا غالب کا خیال سو فیصد درست ہے کہ
تنگ دستی اگر نہ ہو غالبؔ
تندرستی ہزار نعمت ہے
ہزار نعمتوں والی تندرستی نوجوانوں کے پاس ہوتی ہے ۔ جسم کی پھرتی ، اعضاء جسم کی حرکت ، چلنا پھرنا ، دوڑھنا ، اٹھنا ، بیٹھنا ،بنا تھکے مسلسل کام کرنا یہ سب کچھ صرف اور صرف نوجوانوں سے ممکن ہے۔حضورﷺ کو نوجوان صحابہ کرام کا بھر پور ساتھ ملا ۔ بس آپ ﷺ کے ایک حکم ایک اشارے پر دل و جاں سے قربان ہوجاتے تھے۔ دنیا کو راہ حق کی جانب لاکے اور امن ، سکون ، چین و انصاف قائم کر کے حضور ﷺ نے دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ۔ کفر کی ظلمتوںاور جہالتوں کی دیوار وں کو اپنے حسن اخلاق و حسن سلوک سے ڈھادیا۔اس مشن میں نوجوانوں نے چٹان کی طرح آپ ﷺ کا ساتھ دیا۔ا سلام کے تعمیری کام کئے ، جنگیں کئے غرض کہ ہر طرح سے تن من دھن سے آپ ﷺ کاساتھ دیا۔ایک کے بعد دیگر علاقے ، خطے ، جزیرے اور ملک فتح کئے ۔ان نوجوانوں کے اوصاف ، اخلاق ، کردار اور ان کے خلوص کے آگے دنیا سر بہ نگو ہوگئی ۔بہت ساری قومیں ان نوجوانوںکے صوفیانہ مزاج ، قلندرانہ شان ، منصفانہ رواداری ، اخلاق کی پاکیزگی ، مجاہدانہ قوت ارادی ، محبوب حقیقی کا عشق ،ذاتِ الٰہی پریقیں محکم ، خدا کے حکم اور سنت رسول ﷺ پرعمل پیہم ، محبتوں سے عالموں کی فتح ، عاجزی و انکساری ، قول قرار ، عادات و اطوار ، فعل و عمل ،حسنِ سلوک ،حق گوئی و بیباکی ،نڈر پن ،ارادوں کی پختگی ، حوصلوں کی اونچائی ، خیالات کی گہرائی ، چاہتوںاور حسرتوں کی قوت ، عبادتوں کا گلدستہ ،تقویٰ وپر ہیز گاری کا نمونہ ، شیر کی دلیری ، ہمدردی ،عظم و ارادے کی مضبوطی، اصولوں پر قائم ، انصاف پسندی ، آداب زندگی، فکرِ آخرت ۔ ایمان کی مضبوطی ، رحم وانصاف کا سرمایہ ، بزرگوں کی عزت ، بیماروں کی عیادت ، مجبوروں کی امداد، کمزوروں کی قیادت ، یتیموںمسکینوں کا سہارہ ، اور اعمالِ صالحہ سے دنیااس قدر متاثر ہوئی کہ بہت مختصر عر صے میں کیا صحرا ، کیا دریا کیا پہاڑ، کیا ریگستان ،کیا جزیرہ ،کیاعلاقہ، کیا خطہ ، کیا ملک، کیا برِ اعظم ایک کے بعد دیگر سب فتح ہو گئے۔اس طرح صدائے حق کے نعروں سے دنیا گونج اٹھی۔ انصاف کا بول بالا ہوا ۔نوجوان اپنے وجود کا احساس دلانے میں کامیاب ہوئے۔ احساسِ آگہی کے ساتھ دنیا کے سارے کام، واقعات و معاملات نوجوانوں کے اشاروں پر ہوتے گئے ۔ اس طرح دنیا پر نوجوانوں کے احسانات ان گنت رہے۔تاریخ جسے ہرگز فراموش نہیں کرسکتی۔علامہ اقبال ؔ نے بجا کہا تھا کہ اس دور کے مسلمانوں سے اسطرح کے کام ہوئے۔
دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑا ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دئے گھوڑے ہم نے
اقبال ؔ دعا بھی ایسی کرتے ہیں کہ جوانوں کو پیروں کا استاد کر کیونکہ ان کے اعمال ایسے تھے۔
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر اقبالؔ
ان تمام صفات و کردار کو دیکھ کر دنیا کہتی تھی کے واہ۔ واہ: کیا مسلم نوجوان تھے۔
اگر آج کے مسلم نوجوانوں سے متعلق بات کریںتو یہی کہ وہ کاہل ، جاہل ، ظالم ، جابر ، سست، بیکار ، بدماش ، بد کردار ، ناکام و نامراد ، اسراف خر چی،ناچ گانا دھول ڈھپہ کے عادی ،دنیا کی بے ثباتی میں کھو ئے ہوے ،دنیا کی آرئش و زیبائش کے پیچھے پڑے ہوئے ،نہ کوئی مقصد زندگی اور نہ کوئی زندگی کا لائحہ عمل،نہ بزرگوں کی عزت ، لاعلمی کا لبادہ اوڑھے ،جہالت کے دریا میںغوطے لگارہے ہیں۔
آج ہمارے نوجوانوں میں جو صفات رہ گئے ہیں وہ یہی کہ جھوٹ ،دھوکہ ،فریب ،غیبت ،چغلی ،زنا ،حسد ،کینہ کپٹ،وعدہ خلاقی ،لااعتبار ،سود خور، جہالت ، کاہلی ، سستی ،لالچی،رشوت خور، جھگڑا لو ، نشے کے عادی ، منشیات کے تاجر وغیرہ۔آج ہمارے نوجوان اپنی شناخت کھو چکے ہیں۔ پہچان وپرکھ، تحقیق وتجسس کامادہ اُن میں نہ رہا فرائض کو بھول کر حقیقی زندگی کے بجائے مادی چیزوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ دل پھینک عاشق کی طرح جی رہے ہیں۔ٹک ٹاک کے بادشاہ ،واٹس اپ فیس بک کے شہنشاہ بنے ہوئے ہیں۔ سلفی کے دیوانے تو فلموںاور ناچ گانوں کے مستانے بس دن کے بیسیوں گھنٹے انٹرنٹ میں گھسے ہوئے ہیں۔حیات اور کائنات کے مسائل اور تقاضوں سے بے خبر، نہ اپنی شناخت کی پہچان اور نہ اپنی وراثت کی فکر بس عارضی زندگی کو مستقل سمجھ بیٹھے ہیں۔زندگی کی سچائیوں سے دور ،زندگی کی زمینی حقیقت سے دور اپنی علمی وادبی وراثت کو پس ِ پردہ ڈال کر ڈرامائی زندگی جینے لگے ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نوجوان ہی قوم کے معمار ہوتے ہیں لیکن آج کے نوجوان آنے والی نسلوں کی بنیادوں کو کمزور کرچکے ہیںجہاں نوجوان ہمارے بچوںکے لئے مشعل راہ بن کر صحیح راستہ دکھانا تھا وہیں خود وہ راستہ بھٹک کر جی رہے ہیں آج ہمارے نوجوان نہ حرکت وعمل سے نہ زباں وبیان سے اور نہ مقصد سے قوم کابھلا کر پارہے ہیںجہاں علم وادب سے اپنی زندگیوںکو کوآراستہ وپیراستہ کرناتھا وہیں ان کے حصے میں بیکاری ، مئے خواری ، جہالت ، عریانیت اور عداوت ہیں۔اس عظیم قوم کے نوجوانوںمیں نفرت آمیز لب ولہجہ واقعی سنگین نتائج کی جانب اشارہ کررہا ہے۔ غیر قانونی اور غلط کاریوںمیں شامل ہمارے نوجوان ہیں۔ جہاں مزید آنے والی نسل کیلئے ایک مشعل راہ ہونا تھا اب ان کے مستقبل کیلئے راستے کا کانٹا بن گئے ہیں۔ جہاں اوروں کو علمی وادبی فضا مہیا کراناتھا وہیں وہ خود گمراہی کے دلدل میں پھنسے ہیں۔ جہاں وہ خود بچوں کے لئے ایک نمونہ ہونا تھا وہیں وہ نشان ملامت ،ضلالت ورسوائی کے اندھیرا میں گھرے ہوئے ہیں۔ جہاں ادب واحترام سے آداب زندگی کے قاعدوں اوروں کو روشناس کرانا تھا وہی وہ لا پرواہی اور عدم اعتمادی کے دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں۔آداب زندگی حیات انسانی کاسب سے بڑا موضوع ہے ہمارے نوجوان یہ سبق بھول گئے ہیں ، اب بس انہیں یاد ہے تواپنی بے راہ روی جس سے وہ جانوروں کی طرح زندگی گزار کر اسی کی طرح مرجاتے ہیں ۔یقینا آج کے مسلم نوجوان کو دیکھ دنیا کہہ رہی ہے کہ آہ: آج کامسلم نوجوان ہے۔
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار، وہ کردار تو ثابت وہ سیارا
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
معاشرہ کا بگاڑ اس قدر بھیانک ہوتا جا رہا ہے کہ اس پر بات کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ ہمارے نوجوان ایک طرح سے اہل مغرب کی پیروی کرتے معلوم ہوتے ہیں،۔ فیشن و ترقی کے نام پر ننگا ناچ ہو رہا اور ہمارے نوجوان اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ لباس انسانی جسم کو ڈھکنے کیلئے ہوتا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ دنیا نے اپنے سارے experiment کپڑوں پر کرچکی ہے اب مزید کوئی تجربہ کرنے کی گنجا ئش ہی نہیں کیونکہ اب کوئی تجربہ کرنے گئے تو کپڑا نہیں رہے گا بس۔ آج فیشن کے نام پر بیہودہ کپڑے پہن کر گلی، محلوں، سڑکوں، بازار، پارک ، ہوٹل ، دکانوں میں ہمارے نوجوان ایسے گھومتے پھرتے ہیں جیسے کمپنی والے انہیں گشتی ایڈکے لئے تقرر کیا ہو ۔ ہمارے نوجوان ، بیکار میںوقت ایسے ضائع کرتے ہیں ۔ اس کیلئے اگر انعام رکھا جائے توہمارے نوجوان ہی اس انعام کے مستحق ہوں گے ۔کسی کی مجال کہ وہ ان سے بازی لے جائے اوریہ مقام چھین پائیں ۔ ہمارے نوجوان فضول خرچی میں ایسے ہیں کہ قارون کا خزانہ ان کے ہاتھ لگ گیا ہو۔ ہمارے نوجوان گالی گلوج ،بیکار میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں لڑ جھگڑنے میں ماہر ہیں بات کا بتنگڑ کیسے بنایا جائے انہیں آتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے بال ان کی کٹنگ دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سر میں کیڑوں مکھوڑوں کیلئے شاہ راہ بنائی گئی ہے۔ایک طرح قسم ہا قسم کی کٹنگ کے ذریعے یہودیوں کی طرفداری کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔ اس میں ایسے ایسے رنگ لگائے جاتے ہیں جیسے سر نہیں بلکہ ایل کے جی کے بچے کی فوٹوز ڈیزائن کی کتاب ہو۔ چہرے پر داڑھی رکھنا سنت ہے ۔ یہ دین کا ایک اہم فریضہ ہے اس عظیم سنت کو یہودیوں کی طرح بنانے والے ہمارے نوجوان ہیں۔ناچ گانا میوزک ، ڈھول باجا، ناچنے گانے والے ہمارے نوجوان ہیں۔ ماں باپ کی بزرگوں کی باتوںکو نظر انداز کرنے والے ہمارے نوجوان ہیں ۔ غیر قانونی کاموںمیں ، دھندوں میں ملوث ہمارے نوجوان ہیں۔ جیلوں ، پولس اسٹیشنوں میں حاضری دینے والے ہمارے نوجوان،نشہ کرنے اور باٹنے والے ہمارے نوجوان،ظلم جبر ، قتل و غارتگری میںشامل ہمارے نوجوان ہیں۔
گائوں، محلے کی سڑکوں، اہم شاہ راہوں پر گاڑیاں ، کار تیزی سے چلانے ،دوڑانے والے ہمارے نوجوان، شور شرابہ کرتے اوروں کو پریشان کرنے والے ہمارے نوجوان ہوتے ہیں۔حادثوں میں مرنے والے زخمی ہونے والے ہمارے نوجوان، اسپتالوں میں ڈاکٹروں کے کھلونہ بننے والے ہمارے نوجوان ،تالاب ندیوں، نالوں، جھیلوںاور سمندروں میں بیکار میںڈوب کر مرنے والے ہمارے نوجوان، اس وقت بے جا و بیکار اسٹنٹ کے سچے پیروکار ہمارے نوجوان ، جھوٹ دھوکہ و غبن جیسی برائیوں میں براہ راست شامل ہمارے نوجوان ، ذلت و رسوائی میںجینے والے ہمارے نوجوان، شراب ، جوا، سٹہ ،زنا جیسے گناہوں میں مبتلا ہمارے نوجوان،ماںباپ کی نافرمانی کرنے والے ہمارے نوجوان،اپنی حماقتی سے لڑنے جھگڑنے والی گینگوں سے وابسطہ ہمارے نوجوان، دشمنی کو بڑھانے والے ہمارے نوجوان ، ماں باپ کوبڑھاپے کی جہاں لاٹھی بننا تھا وہاں ایام جوانی ہی اپنی غلط حرکوتوں سے ماں باپ کو در در کی ٹھوکریںکھانے پر مجبور کرنے والے ہمارے نوجوان ، اپنی بہنوںبھائیوں اور رشتہ داروں کی اہمیت نہ جان کر زندگیاں تباہ کرلینے والے ہمارے نوجوان۔ اپنے اعمال سے خود ڈپریشن کا شکار ہمارے نوجوان، سلفی کے شوقین ہمارے نوجوان ، اسٹنٹ ماسٹر ہمارے نوجوان، شادیوں ، رسموں ، ریتوں کے نام پر غلط رسومات میں شامل ہونے والے ہمارے نوجوان ،بیوی ، بچوں کے حقوق ادا نہ کرنے والے ہمارے نوجوان۔بیویوں پر ظلم و ستم ڈھانے والے ہمارے نوجوان،بچوں کی واجب دیکھ بھال نہ کرنے والے ہمارے نوجوان، بچوں کو دینی و دنیا وی تعلیم سے دور کرنے والے ہمارے نوجوان، ایام جوانی چھوٹے چھوٹے معاملات کو لے کر خودکشی کرنے والے ہمارے نوجوان۔اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں کی تعلیم سے دوری اختیار کرنے والے ہمارے نوجوان۔دین سے مسجدوں سے دوری اختیار کرنے والے ہمارے نوجوان۔قران و حدیث کے علم سے دوری بنانے والے ہمارے نوجوان۔ناچ گانوں، جنم دن کی پارٹیوں اور عریانی میں ملوث میں مشغول ہوکر پیسوں کو برباد کرنے والے ہمارے نوجوان،موبائیل فون میں دن رات گزارنے والے ہمارے نوجوان، واٹس اپ ، فیس بک ، انسٹا گرام ، ٹیو ٹر یوٹوب پر دن رات لگے رہنے والے ہمارے نوجوان۔ فلموں ،کلبوں ، رقص کی محفلوں کی شان بننے والے ہمارے نوجوان۔عیاشی ، مکاری میںشامل ہونے والے ہمارے نوجوان، سیاہ کار ، خطا کار ، جفاکار ہمارے نوجوان ، فتنہ فساد پیدا کرنے میںشامل ہونے والے ہمارے نوجوان، نماز، روزہ ، صدقہ وخیرات سے دور ی اختیار کرنے والے ہمارے نوجوان۔ دنیا کے کونے کونے میں اسلام پر ، مسلمانوں پر ایسے مظالم ہو رہے ہیں جس کو عیاں اور بیان کرنے کیلئے خون جگر کی سیاہی بھی کم پڑجائے گی ۔کیونکہ داستان کے آغاز سے اختتام تک صرف موت ہی موت ہے۔ہر ورق آنسوئوں کا ہے ، کتاب خون کے دریا میںڈوبی ہوئی ، الفاظ گویا زخموں کی نشاندہی کرتے ہیں ،قوت برداشت کی سرحدوں سے نکلا لڑ کھڑاتا ہوا قلم کیا ظاہر کرے گا۔ جبر و تشدد کا شکار مسلمان ، دنیا مسلمانوں کے خون سے ایسے ہولی کھیل رہی ہے جیسے مسلمانوں کی تباہی وبربادی کے قصیدے جشنِ نوروز کی محفلوں میں سناکر دکھا کر یہ جتارہی ہے کہ ۔
شور ہے ہوگئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کبھی مسلماں موجود
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میںہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم بھی کچھ ہو بتائو تو مسلمان بھی ہو
دنیا کے ان حالات سے باخبر ہونے کے باوجود نہ کسی طرح ہمارے نوجوانوں میں احساس جاگ رہا اور نہ ان کے جذبات کسی طرح دکھائی دے رہے ہیںایسا لگتا ہے کہ دنیا نے انہیں پوری طرح قابو پالیا ہے ۔ جنہیں خود کی تباہ کاریوں کا احساس نہ ہو انہیں دیگر علاقوں ومقامات میں ہونے والے مظالم کی صدائیں کیسی سنائی دیں گی۔
غیر قانونی طرح سے گاڑیاں چلاکر حادثات سے دوچار ہوکر ہات پیر گنوانے والے ہمارے نوجوان ، گھروںکی ایسے حالات کے روز کمانے سے گھر چلتا ہے پھر بھی ایسی حماقتی کہ گاڑیاں ایسے خوفناک انداز میں چلاتے ہیں، اڑاتے ہیں اچھالتے ہیں، بھگاتے ہیں کہ دیکھ کر بھی ڈر لگنے لگتا ہے۔کئی مقامات پر ایسے حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ان کے علاج کروانے کیلئے بھی ماں باپ کے پاس پیسے نہیں ہوتے مجبورا گائوں محلے میں چندا وصول کرکے علاج کرواتے ہیں کئی اس میںلاکھوں روپئے اسپتالوں، ڈاکٹروں کے حوالے کرکے بھی بہت سارے دم توردیتے ہیںتو ایک آد بچ بھی گئے تو زندگی بھرکیلئے اپاہج ، اب ان ماں باپ ، چھوٹے بھائی بہنوں کا کون ہوگا۔ بیوی بچوں کا کیا ہوگا ۔ ایسے ہیں ہمارے آج کے نوجوان۔اکثر پکنک ، ٹور اور کئی طرح کی موج مستی کے نام پر ایسے ایسے حرکات میں شامل ہوتے ہیں کہ شرم آتی ہے کہ کیا یہ واقعی مسلمان نوجوان ہے کیا۔ تجارت میں جھوٹ، فریب ، دھوکہ ،دغل بازی ، ڈاکہ زنی ، ناپ تول میں کمی کرنے والے ہمارے نوجوان ، لوگوں سے گاہکوں ،لااعتبار و وعدہ خلاف ہمارے نوجوان ، سواریوںسے بدسلوکی کرنے والے ہما رے نوجوان۔اچھے ملازموتوں سے اچھی تعلیم سے دور ہمارے نوجوان ،والدین ،اساتذہ، بزرگوں کی باتوں کو نظر انداز کرنے والے ہمارے نوجوان، خطا کار ، ریا کار ہمارا نوجوان،شادیوںمیں غلط حرکتوں میں شامل ہمارے نوجوان ،جلسوںو جلوسوں میں غلط ، نعرے لگواکے ناچ کود کر بے حرمتی کرنے والے ہمارے نوجوان ۔چند پیسوں کے لئے سیاسی لیڈروں کے ارد گرد گھومنے والے ہمارے نوجوان ۔غرض کہ اپنے ایمان کا سودا کرنے والے ہمارے نوجوان ۔ زندگی کی اہمیت نہ جان پانے اور اپنے ہاتھوںسے اپنی زندگیاں تباہ کرلینے کی وجہ سے مسلم نوجوانوں کی جان کوڑیوں کے مانند ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بیکار میں مسلم نوجوانوں کی جانیں مولی گاجر کی طرح کٹتے ہوئے ختم ہو رہی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ نہ یہ صحیح راستے پر آنے کو تیار ہیںاور نہ کسی کی نصیحت سننے یا عمل کرنے کو تیار ہیں۔
من جملہ یہ موضوع نہایت ہی اہمیت کاحامل ہے اس لئے کہ یہ قوم ونسل کے مستقبل کاسوال ہے ۔ مستقبل تبھی بہتر ہوسکتی ہے جب ماضی کی غلطیوںسے سبق لیکر حال کو سدھارا جائے ۔ ہماری قوم کے نوجوانوں کو اس ضمن میں بہت سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کی ضرورت ہے اسی سے مستقبل کی بہتری ہوسکتی ہے لہٰذا نوجوانوں کا رول ہر دور میں بڑااہم ہوتاہے ۔ ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ جوانی بہت قیمتی ہوتی ہے ۔سماج کو ان کی سخت ضرورت ہے۔ اپنے ہر فعل وعمل دینی اعتبار سے صحیح ہو ۔ قوم کے لئے ملک و ملت کے لئے اپنے فرائض کو جانے سمجھے ۔روشن مستقبل کی لئے فکر کریں۔ اپنے لئے والدین ، بیوی بچوں کے لئے اپنے اعمال کو سدھاریں۔ دورِ حاضر کے پُر فتن ماحول سے کس طرح نکلیں اس کے لئے فکر کریں۔ اس ضمن میں جد وجہد کریں۔قوم ملک و ملت کے لئے ہم کیا کرسکتے ہیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ دورِ حاضر کا تقاضا یہی ہے۔ جب وہی بات دہرائی جاسکتی ہے کہ واہ : یہ ہے آج کا مسلم نوجوان۔
