از ۔ڈاکٹر محمد نصر اللہ خان(شیموگہ)۔9845916982

وہ اردو کا مسافر ہے یہی پہچان ہے اس کی
جدھر سے بھی گزرتا ہے سلیقہ چھوڑ جاتا ہے
اردو ایک ہندوستانی ملی جھلی زبان ہے جو سات آٹھ سو سالہ تاریخ رکھتی ہے ۔ اردو کی ابتداتو ہندوستان میں صوفیائے کرام کی آمد سے ہی ہوجاتی ہے۔لہٰذا اُن بزرگان دین کی کوششوںسے وجود میں آئی اردو زبان کی مٹھاس اور دلوں کوجیتنے کی سرور وکیفیت اپنی مثال آپ ہے۔ یہ زبان تو آپسی میل ملاپ ،الفت ومحبت ، خلوص وچاہتوں کی زندہ جاوید مثال ہے ۔ اس کی نثر ہویا شاعری انسانی جذبات واحساسات ،خیالات وتفکرات ،تجربات ومشاہدات سوچ وفکر ہو یا نظراور نظریات، تبادلۂ خیال،اظہار وابلاغ،نظر واشاعت، گفتار ورفتار،فکر وخیال ،تصور وتخیل،تطور وتنور،تدبر وتمدن ،تہذیب وثقافت کے اظہار کاموثر ذریعہ بنی غرض کہ اردو زبان نے بہت جلد ہر خاص وعام کے دلوں میں جگہ بنالی اور عوامی زبان کے مقام ومرتبہ پر فائز ہوگئی ۔ تحریکوں ،انقلابوں ،تبدیلیوں کی خوبیوں سے بھر پور یہ زبان اپنی مثال آپ ہے ۔ ملک کی آزادی میں زبان ِاردو نے اپنا مخصوص و منفرد کردار ادا کیا ۔ تقسیم وطن نے اس کی ترقی خاص کر ہندوستان میں وہ کاری ضرب لگائی کہ آج تک وہ سنبھل نہیں پائی۔
فلمی دنیا نے جتنا اس زبان کا استعمال کیا اتنا کوئی نہ کرسکا۔لیکن بڑے بڑے فنکار ،ادکار ،گلو کار، کامیڈین ،موسیقاراس زبان سے مقام ومرتبہ تو حاصل کیا ۔شہرت کی بلندیاں چھونے لگے لیکن کسی نے اس زبان کا حق ادا نہ کیا،فلمی دنیامیں کہانیاں ،قصے، واقعے ،مکالمے ،مباحثے ،شعر وشاعری ،تراجم ،موضوعات، القاب، آداب سب کچھ اردو کااستعمال کرکے سوائے رسوائی وگمنامی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔سینکڑوں ہزاروں تعداد میں فلمی دنیا سے وابسطہ افراد خواہ ان کی مادری زبان اردو ہو یا نہ ہو۔کامیابیوں و کامرانیوں کے ان گنت مقام حاصل کئے۔دولت شہرت وعزت کی بلندیاں سب حاصل کی کسی نے اس زبان کی بنیاد کی مضبوطی کی جانب توجہ نہیں کی۔ اردو کاایک بڑا طبقہ اس کو صرف مشاعروں، مباحثوں ،قصے، کہانی، افسانے ،مکالمے ،گیت غزل، قوالی،طنزیہ ومزاحیہ باتوں،مسخروں،لطیفوں کی حد تک محدود رکھا جس کی وجہ سے اردو حسب ضرورت موقع و محل کی مناسبت سے اشعار کی پیشی کے علاوہ کچھ نہ رہی تاکہ تقریر میں اثر،جان اور وزن آجائے۔ لوگ تقریر سن کر محظوظ ہو اور تالیان بجائیں۔ان لوگوں نے اردو کوگھر کی لونڈی بنا کے رکھ دیا جب چاہے استعمال کیا اور اٹھا کے پھینک دیا۔
اردو زبان کو سہارہ ملا ہے تو مساجدوں، مدرسوں خانقاہوں وبزرگان دین کے آستانوں سے ہے۔ چاہے وہ تقاریر ، تحریر،اعلانات ، تراجم، درس و تدریس ، تفسیر،فقہ و احادیث ،اسلامی مسئلے مسائل ، دینی وشرعی معاملات ہو یا نکاح کی محفل ، مذہبی جلسہ و جلوس بس یہیں اردو کا استعمال ہوتا ہے ۔ مذکورہ دینی مراکز میں ہی آج اردو کا چلن ملتا ہے اس پر ٓ اشوب دور میں بھی ہمارے علماء ، مفتیان کرام ، مفسر ِکرام،مفکرین کے خدمات قابل صد ستائش ہیںجن پر ہم ناز کرسکتے ہیں۔ ورنہ اسکول،کالج، یونیورسٹیوں میں دور دور تک اردو کا پتہ ملنا مشکل ہے۔ انگلش کا بھوت ہم سب پر اس قدر سوا رہے کہ انگریزی کے نام پر یا ڈاکٹر و انجینیر بنانے کے مقصد سے اردو ایک سبجکٹ کے طور پر پڑھانا بھی گوارا نہیں کرتے ۔اکثر اردو والوں کے بچے امیر ہو یا غریب ایسے نجی تعلیمی اداروں میںپڑھتے ہیںجہاں اردو زبان تو دور تہذیب کابھی پتہ نہیں۔ شہروں میں مسلم ادارے جو کانونٹ کے نام پر اردو سے ایسا سوتیلہ سلوک کرتے ہیں کہ بچے اردو بولنا ذلت و رسوائی کو دعوت دینے کے رابر جان کر اردو سے دور ہوجاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قبر میں فرشتے اگر سوال کرینگے تو وہ انگریزی میں ہی کرینگے۔ مادری زبان کو اسقدر ذلیل کرنا ان کا روز کا مشغلہ بن گیا ہے ۔ دورِ حاضر میں اردو اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے غائب ہوتے جارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی اردو شہروں، گائوں، گلیوں و محلوں سے بھی ندارد ہے۔
ایسے عالم میں اردو کا چلن آپ کو صرف مساجد،مدرسے یا بزرگان دین کے آستانوں پر ہی کچھ کچھ ملے گا۔ ہر شہر و گائوں میں ایک الگ شہر بھی ہوتا ہے جسے شہر خموشاں کہتے ہیں۔یہ مقام عبرت ہوتا ہے۔ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے یہ ایک مسلم حقیقت ہے۔ جہاں اردو زندوں کے شہر سے غائب ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ شہر خموشاں میں ہر طرف اردو ہی اردو ہے یہاں انگریزی کانونٹ کا دور دور تک پتہ نظر نہیں آتا۔ لوگ مرمر کے شہر خموشاں میں اردو زبان کو آباد کر رہے ہیں۔ اور برابر کر رہے ہیں۔ قبرستان میں جتنے کتبے لگائے جاتے ہیں وہ اردو میں ہی ہوتے ہیں۔ان کتبوں کی زبان ، انداز ، اسلوب اور روانی پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ کوئی معمولی اردو نہیں بلکہ اس میں زبان و بیان کی خوبصورتی اور خوشخط کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اس میںتحریر کے اکثر و بیشتر اصول و ضوبط کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔اگر ان کتبوں کی زبان کی گہرائی میںجائے تو معلوم ہوگا کہ یہ فصاحت و بلاغت کے موتی ہیں یہ زبان رموز و اوقاف اور شعر وشاعری والی اردو زبان ہے۔ جو دریا کو کوزے میں سمونے کا مادہ رکھتی ہے۔ زبان کی چاشنی اور تحریر کی صداقت ہمیں ان کتبوں سے معلوم ہوتی ہے ۔موضوع بڑا خاص اور الفاذ کا رکھ رکھائو بڑا ہی نرالا،مناسب اور پیشکش کافی متاثر کن ہوتی ہے۔ تحریر صاف اور خوشخط کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ کم پڑھا لکھا آدمی بھی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے بشرط ہے کہ اسے اردو پڑھنا آئے۔ ان کتبوں میں مرحوم کا نام (پیدائشی نام اور مقبول عام نام جو گائوں محلے رشتہ داروں اور دوستوں میں مشہور ہو ) ، ولدیت، شوہر ،پیشہ، مشغلہ ،وراثت ،خاندان و شجرہ ، ننھیال و ددھیال ،سن پیدائش ، سن وفات، علاقہ ،خطہ، عارضی و مکمل پتہ ،گلی و محلہ، جماعت ، عمر ،آداب، القاب ، اسناد اور خصوصی دلچسپی کس میں تھی اس کی مکمل تفصیلات کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اگر سن ِوفات اس میں نہ ہو تو مکمل شادی یا نوکری کے لئے BIO DATA ہوگا ویسے بھی یہ موضوع تحقیق کے لئے موزوں ہے۔ڈاکٹر ، انجینیر،وکیل،پروفیسر ، ٹیچر، آفیسر ، مینیجر ،تاجر،دکاندار،ٹیلر،مکانک،کسان،مزدور، ہوٹل مالک یا کوئی عام مسلمان جس کی مادری زبان اردو ہو ۔بس اس کا نام مرنے کے بعد کم از کم کتبے میں تو اردو میں ضرور آئے گا ۔جیتے جی وہ اپنے گھروں،دکانوں ہوٹل اپنے اپنے دفتروں کے نام اردو میں رکھاہوں یا نہ ہوں وہ اپنی زندگی میں اردو کا استعمال کرتاہو یا نہ ہو لیکن مرنے کے بعد کتبوں میں نام اردو میں ضرور آئے گا بس اس کے لئے مرنا لازمی شرط ہے ۔
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اترجاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ کہ مرجاتے ہیں
اس بات پر ہم مسرت کا اظہار کرسکتے ہیں کہ قبرستان میں اردو ہی اردو ہے ۔ اور وہاں غیروں کا کلچر دور دور تک نہیں آتا۔یہ ہوتی ہے اپنی زبان سے محبت اور اپنی تہذیب کا نمونہ۔ کسی نے کوششیں بھی نہیں لیکن اردو تحریر کا اسقدر استعمال اس لحاظ سے واقعی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔پرانے قبرستانوں کی جگہوں پر قبضہ جمائے بیٹھے لوگوں کو اتنا تو سوچنا چاہئے کہ اس میں کم از کم کتبے جو ہیں وہ اردو میں ہیں۔اور وہ قبریں چیخ چیخ کر یہ گواہی دے رہی ہوتیں کہ یہ قبریں اردو والوں کی ہیں۔اور وہ جب زندہ تھے تو اردو بولتے تھے ۔ان کی بول چال گفتگو،اظہار خیال کی زبان اردو تھی لیکن آج وہ صاحب قبر بن گئے ہیں۔بس اب زندوں کو زبان کی اہمیت ، عظمت و افادیت کا احساس ہونا باقی ہے۔
میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا
اردو ہرایک اردو کاسپاہی ہو۔زبان کو زندگی کااہم حصہ بنائیں ہم نے ایسا ماحول بنالیا ہے کہ گود سے تو اردو سے سیکھی گور یعنی قبر ستان میں جو کتبے لگائے جاتے ہیں وہ عموما ٰاردو میں ہوتے ہیں ان دونوں کے درمیان جو ہماری زندگی سب سے اہم ہے اس کو اردو وسے دور کردیا دراصل حقیقت میں یہی وہ اہم مرحلہ ہے جہاں اردو کوزندگی کے ہر حصے میں پیش پیش رکھنا ہوگاہے۔والدین اردو کے تئیں فکر مند رہیں اپنے بچوںکوزیادہ سے زیادہ اردو سے قریب کریں تاکہ اس سہارے دین سے قریب ہو تاکہ دنیا وآخرت سنور جائے۔زندگی کے معاملات میں جہاں بھی تحریر تقریر،ترسیل،کارڈ، اعلان،بیان،اقرار،اقوال،اظہار،صداقت نامہ،تصدیق نامہ،پمفلیٹس ،اشتہارات کی ضرورت پڑے وہاں اردو کا کثرت سے استعمال ہواردو اخبارات ،میگیزن،جرنل خرید کرپڑھنے کی عادات ڈالیں۔گھروںدوکانوں کے نام اردو میں درج ہو ں،محلوں،راستوں،گلیوں،چوراہوں،بازاروں،گاڑیوںکے نام جہاں تک ممکن ہوسکے اردو میں ہوہر محلے میں زبان وادب کے انجمنیں ہومتحرک ہوکر اردوکے تئیں کام کریںنجی تعلیمی ادارے اسکول ہویاکالج اپنی ایک ایک اردو انجمن قائم کریںاورسماج میںاردو سے الفت ولگائوکاماحول تیارکریںزیادہ زیادہ اشتہارات،اشاعتیںاردو میں ہوکتابوںکے مطالعہ کاچلن عام ہواردو کتب خانوںکوقائم کریں ہرخاص وعام اردو زبان سے متعلق فکر مند رہیں۔نسوانی تعلیم کی جانب توجہ دی جارہی ہے جس کے اچھے خاصے نتائج بھی سامنے ہیں ساتھ ہی اردو کی جانب توجہ دی جائے تو زبان کی بقا وفروغ میں اہم موڑ آسکتاہے کیونکہ نسوانی طور پر اردو زبان ،ادب اور ماحول کو اپنائے تو بہتر ہوگا آنے والی نسلوں کی تربیت ورہنمائی گود ہی سے ہوگی تو قوم وزبان کی مضبوطی کاباعث بنے گی۔ اقوال ،افعال اوراعمال سے اردو کے طلب گار رہیںاپنی زندگیوںمیںزیادہ سے زیادہ اردو کااستعمال کریں۔ اردو کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور خود کی پہچان اور شناخت کاذریعہ بھی ۔اردو کی بنیادوں کو مضبوط کریں۔بچوں اور نوجوانوں میں زبان کے تئیں الفت چاہت اور حسرت پیدا کریں۔ غواب غفلت سے جگا کر یہ معلوم کرائیں کہ مادری زبان کی بقاء ہمار اخلاقی فریضہ ہے۔ اردو کو صرف محفلوں، محلوں،مجلسوں، بزم و تقاریب تک مقید نہ رکھیں بلکہ ہر خاص و عام اس خوبصورت اور میٹھی زبان کی بقاء و فروغ میں اپنا مخصوص کردار ادا کریں۔گھروںمیں محلوں میں گائو و شہر میں اردو کا ماحول بنائیں تاکہ نئی نسل راغب ہو اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور عملی طور پر اردو زبان و ادب کو فروغ دیں۔ ایک مستحکم اردادے کی ضرورت ہے۔ ارادے مستحکم ہوں تو ہمت و حوصلہ اپنے آپ میںآجاتا ہے۔ اردو کو صرف مذہبی رسومات تک محدود نہ رکھیںبلکہ اردوکو زندگی کاحصہ نہیںاردو کوہی زندگی بنائیں۔ اور یہ باور کرائیںکہ اردو کا استعمال صرف شہر خموشاں میں ہی نہیں بلکہ شہر شہر ،گائوں گائوں، گلی گلی، محلہ محلہ، ہو ۔تاکہ دنیا کو لگے کہ یہ زندوں کی زبان ہے۔
