ازقلم: اسماء جبين (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اُردو، یشونت رائو چوان آرٹس و سائنس مها ودیالیہ، منگرول پیر، ضلع واشم، مہاراشٹر)

جدید بھارت کی بنیاد جن آفاقی اصولوں، جمہوری اقدار اور کثیر الثقافتی روایت پر رکھی گئی تھی، آج وہ ایک گہری نظریاتی کشمکش کی زد میں ہے۔ یہ کشمکش بالخصوص اس مخصوص فکری دھارے سے جنم لیتی ہے جو خود کو انتہائی قوم پرست اور مُلکی مفادات کا محافظ قرار دیتا ہے، مگر جس کا بیانیہ آئینِ ہند کی بنیادی روح اور تحریکِ آزادی کے متفقہ نصب العین سے متصادم نظر آتا ہے۔ یہ ایک فکری تضاد ہے جہاں ’قوم پرستی‘ کی تعریف کو وسیع النظری سے نکال کر انحصاریت اور تخصیص کے تنگ دائرے میں مقید کر دیا گیا ہے۔
راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) اور اس کی سیاسی شاخوں کی جانب سے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ فرقہ پرست نہیں بلکہ ایک قومی تنظیم ہیں، لیکن ان کے تاریخی اور موجودہ بیانات کا گہرا تجزیہ ان دعوؤں کی صداقت پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ تحریکِ آزادی کے دوران، قومیت کا وہ تصور غالب تھا جو تمام بھارتیوں کو، چاہے وہ مذہبی عقائد میں کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں، ایک مشترکہ قوم تصور کرتا تھا۔ اس تصور کی اساس جامعیت، کثیر الجہتی ثقافت اور آئینی مساوات پر تھی۔ اس کے برعکس، ان فکری حلقوں کا نظریہ، جس کی جڑیں وی ڈی ساورکر اور ایم ایس گولوالکر جیسے مفکرین کی ہندوتوا کی تعریف میں پیوست ہیں، بھارت کی قومیت کو صرف اور صرف ہندو ثقافت اور مذہب کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ان کے نزدیک، صرف وہی لوگ "بھارت کے حقیقی فرزند” کہلائے جانے کے مستحق ہیں جو اس مخصوص ثقافتی تعریف کو قبول کرتے ہیں۔ یہ موقف دراصل آئین ساز اسمبلی کے مقرر کردہ اصول "ایک فرد، ایک ووٹ، مساوی حیثیت” کی رُوح سے انحراف ہے۔
اس نظریاتی تضاد کا سب سے بڑا مظہر سیکولرازم کے تصور کی مخالفت ہے۔ سیکولرازم، جیسا کہ دستورِ ہند میں موجود ہے، تمام مذاہب کو مساوی احترام دینے اور ریاستی اُمور میں دینی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کا نام ہے۔ لیکن اس مخصوص فکری دھارے کے نزدیک یہ تصور "بد عقلی” اور "تمام تاریخی کرداروں کو ایک سطح پر جمع کر دینے” کے مترادف ہے۔ اس طرح کے بیانیے کا مقصد واضح ہے: ملک کے مسلم شہریوں کی وفاداری پر مستقل سوال اٹھانا اور انہیں ایک مشتبہ عنصر بنا کر پیش کرنا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف مسلم کمیونٹی میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے، بلکہ اکثریت میں بھی نفرت اور عدم اعتماد کا بیج بوتا ہے، جو قومی ہم آہنگی کے لیے ایک زہرِ قاتل ہے۔
یہ بیانیہ تاریخی واقعات کی یکطرفہ اور تحریف شدہ تعبیر پر مبنی ہے۔ یہ استدلال کہ بھارت میں اسلام کا پھیلاؤ صرف جبری مذہب کی تبدیلی اور سیاسی قبضے کے نتیجے میں ہوا، ایک پیچیدہ تاریخی عمل کو یکسر نظرانداز کرتا ہے۔ تاریخی تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ اسلام کا فروغ یہاں صوفیاء کرام کی تعلیمات، مقامی ثقافتوں سے ہم آہنگی، اور ذات پات کے نظام سے نالاں افراد کی مساوات کی تلاش جیسے عوامل کا مجموعہ تھا۔ اس تاریخی مغالطے کو بنیاد بنا کر "گھر واپسی” جیسی تحریکیں چلانا، یا یہ مطالبہ کرنا کہ غیر ہندو شہریوں کو، خاص طور پر مسلمانوں کو، تب ہی مساوی حقوق مل سکتے ہیں جب وہ ایک مخصوص تہذیبی یا مذہبی تعریف کو اپنا لیں، دراصل آرٹیکل 25 (مذہبی آزادی) اور آرٹیکل 14 (مساوات) کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ ملک کو ایک جمہوریہ سے ہٹا کر تھیوکریٹک (مذہبی ریاست) رجحانات کی طرف دھکیلنے کی ایک کوشش ہے۔
نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے مسلمانوں کو مسلسل سازشی نظریات اور حیرت انگیز پروپیگنڈا کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب ایک قومی بیانیہ کسی مخصوص کمیونٹی کو مسلسل خطَرہ یا درانداز کے طور پر پیش کرتا ہے، تو یہ دراصل ملک کے اندر خوف، تناؤ اور مستقل اضطراب کی فضا پیدا کرتا ہے۔ قومی اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ بھارت کی مشترکہ تہذیبی میراث کو اجاگر کیا جائے، جیسے کہ قرون وسطیٰ کے وہ متعدد واقعات جہاں ہندو اور مسلمان حکمرانوں اور عوام نے ایک دوسرے کے ساتھ امن اور تعاون کی مثالیں قائم کیں۔ لیکن فسطائی ذہنیت کا مقصد صرف اور صرف ہر واقعے کو تقسیم، تعصب اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھنا ہے تاکہ سیاسی مفادات حاصل کیے جا سکیں۔
ملک میں ایک اور سنگین مسئلہ انتظامی اور عدالتی فیصلوں کے حوالے سے پیدا ہوا ہے۔ حالیہ چند بڑے اور حساس قومی معاملات میں، حکومت اور بعض اوقات عدالتوں کی کارروائیوں کا انداز ایسا رہا ہے کہ اس میں انصاف کی بجائے صرف فیصلے کو ترجیح دی گئی ہے۔ ایک جمہوری نظام میں، فیصلہ وہ ہوتا ہے جو آئینی ضوابط اور تمام فریقین کی رضامندی یا کم از کم مطمئن ہونے کے اصول پر مبنی ہو، جبکہ محض اقتدار یا اکثریت کے زور پر کیا جانے والا فیصلہ فریقِ مخالف کو فاتح کے سامنے مغلوب کر دیتا ہے۔ جب نوجوانوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ برسوں پُرانے مسائل "حل” کر دیے گئے ہیں، تو دراصل اس جمہوری انصاف کے بنیادی اصول کو پس پشت ڈالا جا رہا ہوتا ہے جو تنازعات کے دیرپا اور پائیدار حل کے لیے ناگزیر ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض حلقوں کی حکومتی نااہلی یا بے عملی نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ جب ریاست اپنی تمام اکائیوں کے لیے غیر جانبدار ہونے کا تاثر برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہے، تو عوام میں یہ احساس پروان چڑھتا ہے کہ حکومت بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فرقہ وارانہ ایجنڈے کو تعاون فراہم کر رہی ہے۔ یہ صورتحال ملک کی جمہوری بنیادوں کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر رہی ہے۔ ملک کی معاشی ترقی، عالمی ساکھ اور اندرونی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ فرقہ واریت کی سیاست کو سختی سے مسترد کیا جائے۔
ایک سچے بھارتی کا فرض ہے کہ وہ معروضی حقائق کی بنیاد پر اس فکری دھارے کا تنقیدی جائزہ لے۔ آئینِ ہند صرف ایک قانونی دستاویز نہیں، بلکہ قومی یکجہتی اور بنیادی انسانی حقوق کا منشور ہے۔ اس نازک دور میں، ملک کو کسی ایک گروہ کی تنگ نظری پر مبنی تعریفِ قومیت کی نہیں، بلکہ جامع، ہمہ گیر اور آئین پسند قوم پرستی کی اشد ضرورت ہے۔ بھارت کی بقا کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنی تمام اکائیوں کو مساوات، انصاف اور مکمل تحفظ فراہم کرے۔ صرف اسی صورت میں، جمہوریت کی بساط پر "شبِ تاریک کے پردے سے سپیدہ سحر” کے طلوع ہونے کی امید باقی رہے گی۔
