از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔ 9902672038

امت ِ مسلمہ اس وقت جن کٹھن حالات اور مسائل سے دوچار ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ داخلی انتشار اور مسلکی تعصب ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو بظاہر دین کے نام پر پروان چڑھ رہا ہے لیکن درحقیقت دین کے اصل پیغام کو کمزور کر کے محض گروہی شناختوں اور فرقہ وارانہ حدود کو تقویت دے رہا ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے کا درس دیا، لیکن افسوس کہ امت کا حال اس کے برعکس ہے۔ مساجد جو کبھی وحدت و الفت کے گہوارے تھے، آج تقسیم کے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ مدارس جو علم و تقویٰ کے سرچشمے تھے، وہ بھی مختلف مسلکی شناختوں کی نمائندگی کرنے لگے ہیں۔ اور علماء (نہایت معذرت کے ساتھ)، جو دین کے وارث ہیں، بسا اوقات شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے اپنے حلقے اور جماعتیں تشکیل دے کر اسی تعصب کو آگے بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسلام کا اصل پیغام قرآن و سنت پر مبنی ہے، جس میں اخوت، محبت، عدل اور انسانیت کی فلاح مضمر ہے۔ لیکن جب یہ پیغام مسلکی تعصب کے گرد لپٹ جاتا ہے تو اس کی اصل روح پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ لوگ دین کے بنیادی تقاضوں پر عمل کرنے کے بجائے اس بات پر فخر کرنے لگتے ہیں کہ وہ کس مسلک، کس جماعت یا کس امام کے پیروکار ہیں۔ نتیجتاً دین ایک عملی ضابطہ حیات کے بجائے محض ناموں اور اصطلاحات کا کھیل بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام کی فتوحات اور اس کی وسعت کا راز امت کی وحدت میں پنہاں تھا۔ جب مسلمان ایک مرکز اور ایک کلمہ پر قائم تھے تو دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں نے بھی ان کا راستہ نہ روک سکا۔ لیکن جب سے الگ الگ مکاتب فکر اور مسلکی تعصب نے جنم لیا، امت کے شیرازے بکھرتے چلے گئے ۔ اسپین سے لے کر بغداد تک اور برصغیر سے لے کر افریقہ تک تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی شکست و زوال میں سب سے بڑا ہاتھ داخلی انتشار کا رہا ہے۔
آج بھی یہی منظر نامہ سامنے ہے۔ امت کے مختلف حصے مسلکی بنیادوں پر بٹے ہوئے ہیں۔ ایک مسلک کے ماننے والے دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے ہچکچاتے ہیں، اس کی دعوت و تقریر کو سننے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے افکار کو رد کر کے اپنی برتری ثابت کرنے پر زور دیتے ہیں ۔ یہ رویہ صرف عوام تک محدود نہیں بلکہ علما کے درمیان بھی پایا جاتا ہے۔ دین کی خدمت کے جذبے سے نکلنے والے یہ بزرگ، غیر محسوس طریقے سے اپنے اپنے حلقے بنا لیتے ہیں، اپنی شناخت کو دین سے زیادہ اہمیت دینے لگتے ہیں، اور اپنے پیروکاروں کے دلوں میں اس بات کو بٹھا دیتے ہیں کہ حق صرف ان کے گروہ میں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آخر وہ سیدھا سادہ، اور پرخلوص السلام کہاں کھو گیا؟ وہی اسلام جو محمد بن قاسم کے مبارک قدموں سے اس سرزمین پر پہنچا، وہی پیغام جو اولیاء کرام کے قلوب کی طہارت اور ان کی زبان کی مٹھاس سے عام ہوا، وہی صدائے محبت جو چشتی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر بزرگ مبلغین کے ذریعے اصل صورت میں لوگوں تک پہنچی۔ آج دل کو یہ تڑپ ستاتی ہے کہ اس اِسلام کی اصل روح، اس کی حرارت اور اس کی نورانیت رفتہ رفتہ کیوں کمزور پڑ گئی؟ وہی اسلام جو دلوں کو جوڑتا تھا، نفرتوں کو مٹاتا تھا، اور انسانیت کو ایک لڑی میں پرو دیتا تھا، اب محض ایک رسمی جملہ کیوں محسوس ہونے لگا ہے؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام کا مقصد یہی تھا کہ اس کے ماننے والے مختلف گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہو جائیں؟ قرآن نے تو واضح اعلان کیا ہے واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً و لا تفرقوا‘‘(اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو)۔ لیکن ہم نے اس حکم کو پسِ پشت ڈال دیا۔ آج ہر طرف‘‘ہمارا مسلک’’اور‘‘تمہارا مسلک’’کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ دین کے اصل پیغام کو پسِ پشت ڈال کر شناختیں، لبادے اور مسلکی نعرے اصل مقصد بن گئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ دین کی تبلیغ کرنے والے حضرات بھی کبھی کبھی اس کمزوری سے محفوظ نہیں رہتے۔ وہ دین کی خدمت کے جذبے سے نکلتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ ان کی محفلیں اور ادارے ایک الگ رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ پھر ان اداروں کی پہچان دین نہیں بلکہ مسلک اور جماعت بن جاتی ہے۔ ان کے شاگرد، ان کے مرید اور ان کے پیروکار صرف اسی فکر کو حق سمجھتے ہیں جو ان کے استاد یا رہنما نے پیش کی ہے۔ یوں غیر شعوری طور پر ایک نئی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے جو امت کو مزید تقسیم کر دیتی ہے۔ اس رویے کے نتیجے میں امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اسلام کا آفاقی اور انسان دوست پیغام دنیا کے سامنے ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ دنیا اب اسلام کو ایک وحدت بخش دین کے بجائے ایک تقسیم شدہ مذہب کے طور پر دیکھتی ہے۔ مسلمانوں کی شناخت ان کے اعمال، ان کی اخلاقیات اور ان کے عدل و انصاف کے بجائے ان کے مسلکی نعرے اور جماعتی وابستگی سے جانی جاتی ہے۔ جب امت کے افراد خود ہی آپس میں الجھے رہیں تو پھر دوسروں کے سامنے دین کی عظمت اور اس کی سچائی کو کیسے اجاگر کیا جا سکتا ہے؟ یہ تعصب صرف امت کے داخلی معاملات کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ اسلام کی دعوتی قوت کو بھی کمزور کرتا ہے۔ غیر مسلم جب مسلمانوں کے مختلف گروہ دیکھتے ہیں تو وہ سوچتے ہیں کہ جس دین کے ماننے والے خود آپس میں متحد نہیں، وہ بھلا دوسروں کے لیے کیا ہدایت کا ذریعہ بن سکتا ہے؟ نتیجتاً دین کی دعوت رک جاتی ہے اور امت اپنی اصل ذمہ داری سے غافل ہو جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مسلکی تعصب کے جال کو کاٹیں اور دین کی اصل روح کی طرف پلٹیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلکی وابستگی اگر اعتدال پر ہو تو برا نہیں، لیکن جب یہی وابستگی تعصب میں بدل جائے اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کا ذریعہ بن جائے تو یہ دین کی اصل روح کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنے علما اور مشائخ سے محبت ضرور رکھنی چاہیے، لیکن ان کی محبت کو بنیاد بنا کر دوسروں کو رد کرنا اور ان پر انگلیاں اٹھانا ہرگز درست نہیں۔ دین کا اصل کام اللہ کے دین کو پھیلانا، انسانیت کی فلاح کے لیے محنت کرنا اور امت کو ایک کلمہ پر جمع کرنا ہے۔آج امت کو سب سے زیادہ ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو فرقوں اور جماعتوں سے بالاتر ہو کر اسلام کے اصل پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ جو لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ دین کا مقصد کسی ایک گروہ یا مکتب کی سربلندی نہیں بلکہ کل انسانیت کے لیے روشنی اور رہنمائی ہے۔ جو اپنی تقاریر اور تحریروں میں نفرت کے بجائے محبت کا پیغام دیں، اور اپنی مجلسوں میں مسلک پرستی کے بجائے اسلام کی جامعیت کو اجاگر کریں۔ ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ علما کرام، جو دین کے وارث ہیں، ان پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس تعصب کو بڑھنے نہ دیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنی محفلوں، اپنے اداروں اور اپنے شاگردوں میں یہ سوچ پروان چڑھائیں کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں کسی مسلک کے ماننے والے۔ اگر یہ سوچ پروان چڑھ گئی تو امت کے شیرازے کو دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی سلسلہ یونہی چلتا رہا تو امت مزید بٹتی چلی جائے گی اور اسلام کا پیغام مزید کمزور ہوتا جائے گا۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ امت کی بقا اسی میں ہے کہ وہ مسلکی تعصب کی زنجیروں کو توڑ کر ایک کلمہ پر متحد ہو جائے۔ قرآن و سنت کو اصل بنیاد بنایا جائے اور باقی تمام اختلافات کو علمی و اعتدال کے دائرے میں رکھا جائے۔ جب تک یہ قدم نہیں اٹھایا جائے گا، اسلام کا پیغام ثانوی حیثیت ہی میں رہے گا اور مختلف جماعتوں اور مسلکوں کے نام ہی اصل پہچان بنے رہیں گے۔ دین کا کام کرتے کرتے اگر ہم نے اپنے اپنے حلقے بنا لیے تو یہ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہوگی۔ امت کا وقار، اسلام کی سچائی اور دنیا میں ہماری عزت اسی وقت لوٹ سکتی ہے جب ہم اس تعصب کو خیرباد کہہ کر وحدت و اخوت کی طرف لوٹیں۔
یہ نہایت خوش آئند اور باعثِ اطمینان امر ہے کہ آج بھی بیشتر علمائے دین اور اربابِ فضل و کمال خالص اخلاص و للّٰہیت کے ساتھ دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے فریضہ عظمیٰ کو اپنی زندگی کا مقصدِ اولین بنائے ہوئے ہیں۔ ان کی عظمت و رفعت کو ہمارا سلام، کہ یہ وہ برگزیدہ نفوسِ قدسیہ ہیں جو محض مکاتبِ فکر اور مسلکی دائروں کی تنگنائیوں سے بلند ہو کر، اسلام کی آفاقی دعوت کو اپنی اصل اور حقیقی روح کے ساتھ عامۃ الناس تک پہنچانے کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ مردانِ حق دراصل ملت کے وہ روشن چراغ ہیں جو زمانے کی اندھیروں کو علم، حکمت اور اخلاص کی روشنی سے منور کر رہے ہیں، اور اپنی خلوص نیت سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ دینِ مبین کی سربلندی اور اس کی صحیح ترجمانی ہی ان کی زندگی کا حقیقی سرمایہ ہے۔
حالیہ حکومت کرناٹک کی جانب سے کروایا گیا ذات پات مردم شماری سماجی معاشی و تعلیمی سروے میں ایک نہایت خوش آئند اور قابلِ تحسین پہلو یہ سامنے آیا کہ علمائے کرام، اکابرینِ ملت اور باوقار سماجی رہنماؤں نے بھرپور اپیل کی کہ مذہب اسلام اور ذات کے کالم میں صرف اور صرف ’’مسلم‘‘ درج کیا جائے۔ اس بصیرت افروز رہنمائی کا مقصد یہ تھا کہ امتِ مسلمہ سروے کے ریکارڈ میں بکھری ہوئی یا منتشر نہ دکھائی دے بلکہ ایک متحد، مربوط اور یکجہت امت کی حیثیت سے نمایاں ہو۔ بلاشبہ یہ عمل تنوع کے دامن میں اتحاد کی ایک روشن جھلک ہے جو
نہ صرف اجتماعی شعور کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئےایک مثبت پیغام بھی چھوڑتا ہے کہ ہماری اصل طاقت ہماری وحدت اور یکجہتی میں مضمر ہے۔
