ترکیہ نے غزہ جنگ کی بگڑتی صورتحال کے باعث اسرائیل کے ساتھ تمام تجارت معطل

انٹرنیشنل نیوز

استنبول:۔ترکیہ ان نئے اقدامات پر اس وقت تک عمل کرے گا جب تک اسرائیلی حکومت غزہ کے لیے انسانی امداد کی بلا تعطل اورخاطر خواہ ترسیل کی اجازت نہیں دیتی۔اسرائیلی وزیر تجارت نے وزارت کو متبادل تلاش کرنے کی ہدایت کر دی۔ترکیہ نے، فلسطینی علاقوں میں بدتر ہوتے ہوئے انسانی المیے کا حوالہ دیتے ہوئے جمعرات کے روز سے،اسرائیل کے ساتھ اپنی تمام برآمدات اور درآمدات روک دی ہیں۔ترکیہ کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل سے متعلق برآمدی اور درآمدی لین دین روک دیا گیا ہے، جس میں تمام مصنوعات شامل ہیں۔ترکیہ نے گذشتہ ماہ اسرائیل پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ ان کی وجہ اسرائیل کی جانب سے انقرہ کو غزہ کے لیے امدادی فضائی کارروائیوں میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے انکار اورمحصور شہر پر اس کی جارحانہ کارروائی تھی۔جمعرات کو اس سے قبل اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ترک صدر طیب اردوان اسرائیلی درآمدات اور برآمدات کے لیے بندرگاہیں بند کر کے معاہدوں کو توڑ رہے ہیں۔اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ ایک ڈکٹیٹر ترکیہ کے عوام اور تاجروں کے مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اور بین الاقوامی تجارتی معاہدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، اس طرح کابرتاؤ کرتا ہے۔کاٹز نے کہا کہ انہوں نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقامی مصنوعات اور دوسرے ملکوں سے در آمدات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ترکیہ کے ساتھ تجارت کی جگہ دوسرے متبادل پر کام کرے۔