کانگریس امیدوار کیلئے آسان نہیں ہیں راہیں ؛ مودی کا بھوت اب بھی سوار ؛ ہندوتوا کی بنیاد پر متحد

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

کانگریس نے جن قوموں کو دئے عہدے وہ قومیں ہی ووٹ دینے سے کررہی ہیں انکار ؛ مسلمان نکل ہورہے ہیں وفادار!!

 

شیموگہ( خصوصی رپورٹ : مدثر احمد شیموگہ ) : شیموگہ پارلیمانی حلقے میں کانگریس امیدوار گیتا شیوراج کمار ، آزاد امیدوار کے یس ایشورپا اور بی جے پی کے امیدوار کے یس ایشورپا کا زور دکھائی دے رہاہے۔ اب تک کے جائزے کے مطابق شیموگہ پارلیمانی حلقہ جو بی جے پی کاقلعہ بھی ماناجاتاہے اس قلعے میں درار ڈالنا کانگریس کے لئے اب بھی مشکل ثابت ہورہاہے ۔ ایک طرف اقلیتی خصوصََا مسلمانوں کے ووٹوں سے پوری طرح سے امید لگائی بیٹھی کانگریس پارٹی کے امیدوار کو دوسری قوموں کے ووٹوں سے امید نہیں مل رہی ہے ۔ اس سلسلے میں انقلاب نیوز اور سودھی بھارتی نیوز کی جانب سے شیموگہ اور مضافاتی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے دوسری قوم کے لوگوں سے انفرادی طورپر بات کی گئی تو سب کے ذہینوں پر اب بھی مودی کا بھوت سوار ہے ۔ جو سروے کیا گیا ہے اس میں 92 فیصد غیر مسلم بی جے پی کی بھگتی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور وہ اب بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو وشوا گرو مانتے ہیں ۔ سروے کے دوران لوگوں سے پوچھا گیا کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے پانچ گیا رنٹیاں دی ہیں ، ان گیا رنٹیو ںکا فائدہ لوگ اٹھارہے ہیں ، ا س پر بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی جو گیارنٹیاں دے رہی ہے وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہی دے رہی ہے ، ایک طرف قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے دوسری طرف گیارنٹیاں دی جارہی ہیں ۔ مسلمانوں کے علاوہ کانگریس امیدوار کو لے کر 92 فیصد ووٹروں نے منفی رائے دی ہے ۔ سروے کے دوران صرف 1 فیصد سے کم افراد نے ایشورپا کانام لیا ہے اور 8 فیصد لوگوںنے ہی کانگریس پارٹی کے تئیں اپنی مثبت رائے پیش کی ہے ۔ کانگریس امیدوار کے تعلق سے کہنا ہے کہ وہ بنگلور کی ہیں ، کانگریس نے گیارنٹیا ں تو دی ہیں لیکن ملک کے لئے مودی ہی بہتر ہیں ۔ اگر کانگریس امیدوار جیت جاتی ہے تو وہ بنگلور چلی جائینگی اور مدھوبنگارپا سے بات کرنا ممکن نہیں ہے ۔ بعض لوگوں نے کانگریس امیدوار کو پہچاننے سے بھی انکار کیاہے ۔ الیکشن کے لئے ابھی صرف 3 د ن باقی ہیں ان تین دنوں میں کیا گل کھلتے ہیں یہ دیکھنا ہوگا۔ کیا کانگریس پارٹی غیروں کے درمیان ان 72 گھنٹوں میں جگہ بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوگی ؟۔یہاں ایک ٹرننگ پوائنٹ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ایڈیگا سماج اور یس سی یس ٹی کا کچھ حصہ کانگریس کے ساتھ 70 فیصد تک پہنچتاہے تو ہی کامیابی کی کچھ امید جاگ سکتی ہے ۔ حالانکہ کانگریس حکومت نے اسمبلی انتخابات کے بعد مسلمانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی ہے ، شیموگہ سے مسلم کانگریسیوں کو نظر انداز کیاہے باوجود اسکے مسلمانوں نے ملک کی بقاء اور بی جے پی کو ہٹانے کے لئے اپنی ناچاقیاں دورکرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو متحد ہوکر ووٹ دینے کا فیصلہ کیاہے ، جب کہ 2گوڈا ،1 بھوی ،1 یس سی اور1  لنگایت ، 1 دھوبی کی ذات کے کانگریسی لیڈروں کو پارلیمانی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے عہدے دئے گئے ہیں ، اب عہدے لینے والوں کی قومیں ہیں کانگریس کے خلاف کھڑی ہوئی ہیں اور ہندوتوا کی بنیاد پر بی جے پی کا ساتھ دینے لگے ہیں ۔