بنگلور : ریاست بھر، میں اس وقت تنظیموں اور اداروں کی جانب سے کیلنڈروں کے رسم اجراء کا سلسلہ چل رہا ہے اور ہر ضلع میں کسی نہ کسی تنظیم یا ادارے کی جانب سے کیلنڈروں کے رسم اجراء کی تقریبات کا اہتمام کیا جارہاہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قوم و ملت کے لئے کیلنڈر اس قدر اہم بن چکے ہیں کہ وقت کی پرچیاں بانٹنے کے لئے وقت اور پیسہ ضائع کیا جارہاہے؟. اس وقت میوا، کرناٹکا گورنمنٹ ایمپلائز اسوسیشن نے کیلنڈروں کے رسم اجراء کی تقریبات شکرانے کی طرح منعقد کرتے ہوئے اپنی پوری طاقت کامظاہرہ کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انکا کیلنڈر ہی ملک و ملت کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں جہاں نوجوان نسلیں تعلیمی، اقتصادی اور سماجی مسائل کاسامنا کررہی ہیں انکے مسائل کو حل کرنے کے لئے بطور پیشہ ور اور عہدیداروں ہونے کے نسلوں کی رہنمائی کرنے کے بجائے کیلنڈر کے اجراء کے موقع پر شکتی پر درشن کیا جارہاہے اسکا کیا فائدہ ہورہاہے یہ بات خود تنظیموں کے ذمہ دار ہی بتا سکتے ہیں۔دوسری طرف کچھ مسلم سرکاری عہدیداروں کی تنظیمیں خواتین اہلکاروں اور ملازمین کو کیلنڈر بانٹ کر انکی تصویریں سوشیل میڈیا میں سرکیولیٹ کرتے ہوئے انکی نمائش کررہے ہیں، اب تک بیشتر سرکاری مسلم ملازمین جو پردہ پوش ہوا کرتی تھیں وہ کیلنڈر پکڑ کر نرما کی ریما، پوشپا کی طرح پوز دینے کے لئے مجبور ہوچکی ہیں ۔
